اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

شاہ محمود قریشی سائفر گمشدگی کیس میں گرفتار

شاہ محمود قریشی سائفر گمشدگی کیس میں گرفتار

شاہ محمود قریشی سائفر گمشدگی کیس میں گرفتار
اسلام آباد: وفاقی تحقیقاتی ادارے ایف آئی اے کاونٹر ٹیررازم ونگ نے سابق وزیر خارجہ اور پی ٹی آئی کے وائس چیئرمین شاہ محمود قریشی کو اسلام آباد سے گرفتار کرلیا۔

یہ بھی پڑھیں آفیشل سیکریٹ اور آرمی ایکٹ ترمیمی بل باقاعدہ قانون بن گیا

ایف آئی اے کے مطابق شاہ محمود قریشی کی گرفتاری 15 اگست کو ایف آئی اے انسداد دہشتگردی ونگ اسلام آباد میں سائفر گمشدگی کے حوالے سے درج مقدمے میں کی گئی ہے۔

ایف آئی اے کے انسداد دہشت گردی ونگ میں سائفر کنٹینٹ کو انتہائی غیر ذِمے داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے لیک کرنے، سائفر گمشدگی پر آفیشل سیکرٹ ایکٹ کی خلاف ورزی سمیت ملکی تشخص کو نقصان پہنچانے وغیرہ کی دفعات کے تحت ایف آئی آر نمبر 6/2023 درج کی گئی ہے۔

وفاقی تحقیقاتی ایجنسی نے شاہ محمود قریشی کو گرفتار کر کے ایف آئی اے ہیڈ کوارٹر منتقل کردیا۔
قبل ازیں پاکستان تحریک انصاف نے شاہ محمود قریشی کی گرفتاری کی تصدیق کرتے ہوئے کہا تھا کہ پولیس کی بھاری نفری نے انہیں گھر سے حراست میں لیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں اسلام آباد میں 3داعش کمانڈرز سمیت 13 دہشت گرد گرفتار

شاہ محمود قریشی کو اسلام آباد میں پریس کانفرنس کے کچھ دیر بعد ہی گرفتار کیا گیا جس میں انہوں نے 90 روز میں انتخابات کرانے کا مطالبہ دہرایا تھا۔

ترجمان اسلام آباد پولیس کے مطابق شاہ محمود قریشی کو وفاقی پولیس نے نہیں ایف آئی اے نے گرفتار کیا ہے۔
وفاقی وزارت داخلہ کے سیکریٹری یوسف نسیم کھوکھر کی مدعیت میں ایف آئی اے نے سائفر گمشدگی کا مقدمہ سنگین آفیشل سیکریٹ ایکٹ 6،5-1923 اور سیکشن 34 کے تحت درج کیا گیا ہے، جس میں چئیرمین پی ٹی آئی اور سابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی سمیت دیگر کو ملزم نامزد کیا گیا ہے۔

نگراں وزیر داخلہ سرفراز بگٹی نے کہا کہ سائفر کے معاملے میں شاہ محمود قریشی نامزد تھے، اسلیے انہیں ایف آئی اے نے گرفتار کیا، حکومت کسی کو قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں دے گی۔

ایف آئی اے انسداد دہشتگردی ونگ میں سائفر معاملے پر انکوائری نمبر 111/23 کی ایف آئی آر کا متن سامنے آگیا، جس کے مطابق کیس کی تحقیقات 5 اکتوبر 2022 میں شروع کی گئیں، انکوائری اس وقت کے سیکرٹری داخلہ یوسف انجم کھوکھر کی درخواست پر شروع کی گئی جو تقریباً دس ماہ تک جاری رہی۔

ایف آئی آر کے متن میں لکھا گیا ہے کہ تفتیش کے دوران انکشاف ہوا کہ سابق وزیر اعظم عمران احمد خان نیازی، سابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی اور ان کے دیگر ساتھی خفیہ دستاویز سائفر میں موجود معلومات کی ترسیل میں ملوث ہیں، یہ سائفر واشنگٹن سے سیکرٹری خارجہ کو 7 مارچ 2022 کو ارسال کیا گیا تھا۔

متن میں لکھا گیا ہے کہ دونوں شخصیات نے حقائق کو توڑ مروڑ کر اپنے مذموم سیاسی مقاصد اور ذاتی فائدے حاصل کرنے کے لیے استعمال کیا اور ریاستی سلامتی کے مفادات کے لیے نقصان دہ انداز میں غیر مجاز افراد کوپیش کیا، سابق وزیراعظم اور دیگر نے 28 مارچ 2022 بنی گالا میں سائفر کے حوالے سے میٹنگ بھی کی جس میں سائفر کے حقائق توڑ مروڑ کر عوام کے سامنے پیش کیا۔

ایف آئی آر کے مطابق ملزم عمران خان نے سیکرٹری اعظم خان کو میٹنگ منٹس نوٹ تحریر کرنے کی ہدایت کی، جس میں ذاتی فائدے کے لیے تبدیلی کر کے ملکی سلامتی کو خطرے میں ڈالا گیا، وزیراعظم آفس کو بھیجے جانا والا سائفر عمران نیازی نے ذاتی قبضے میں رکھا اور مجرمانہ فعل کرتے ہوئے یہ سائفر وزارت خارجہ کو بھی ارسال نہیں کیا۔
متن میں لکھا گیا ہے کہ سائفر کلاسیفائیڈ ڈاکومنٹ ابھی بھی عمران نیازی کے قبضے میں ہے، ملزم نے سائفر اپنے پاس رکھ کر ملکی سائفر اور کلاسیفائیڈ فارن رابطوں کو نقصان پہنچایا، ملزم کی بل واسطہ یا بلاواسطہ حرکات سے غیر ملکی طاقتوں کو فائدہ پہنچا اور پاکستان کو نقصان ہوا، مجاز اتھارٹی نے مقدمہ کے اندراج کی منظوری دے دی۔

ایف آئی آر کے مطابق کلاسیفائیڈ سائفر کو قبضے میں رکھنے اور ذاتی فائدے کے لیے استعمال کرنے پر سابق وزیر اعظم عمران احمد خان نیازی، سابق وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی کے خلاف ایف آئی اے انسداد دہشت گردی ونگ اسلام آباد میں آفیشل سیکرٹ ایکٹ کی دفعہ 1923 کے سیکشن 5 اور 9 اور پی پی سی 34 کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں پرویز خٹک نے عمران خان کو بڑا چیلنج دے دیا

ایف آئی آر میں لکھا گیا ہے کہ سابق پرنسپل سیکرٹری اعظم خان اور سابق وزیر اسد عمر کے کردار پر بھی تفتیش ہونا باقی ہے،

مقدمے کی تفتیش کے لیے اسٹنٹ ڈائریکٹر سی ٹی ڈبلیو ایف آئی اے ہیڈکوارٹر صابر حسین کو مقرر کیا گیا ہے۔


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481