اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

چیئرمین پی ٹی آئی پر حملے میں ملوث ملزم کی ضمانت منظور

چیئرمین پی ٹی آئی پر حملے میں ملوث ملزم کی ضمانت منظور

چیئرمین پی ٹی آئی پر حملے میں ملوث ملزم کی ضمانت منظور

لاہور ہائی کورٹ نے چیئرمین پی ٹی آئی پر حملے میں ملوث ملزم کی ضمانت منظور کرلی۔
جسٹس عالیہ نیلم اور جسٹس شہرام سرور چوہدری پر مشتمل لاہور ہائی کورٹ کے 2 رکنی بینچ نے وزیرآباد فائرنگ کیس کی سماعت کی جس میں عدالت نے شریک ملزم طیب جہانگیر بٹ کی ضمانت منظور کرلی۔

چیئرمین پی ٹی آئی پر حملے میں ملوث ملزم کی ضمانت منظور

چیئرمین پی ٹی آئی پر حملے میں ملوث ملزم کی ضمانت منظور

دوران سماعت شریک ملزم طیب جہانگیر بٹ کی طرف سے میاں داؤد ایڈووکیٹ عدالت میں پیش ہوئے اور اپنے دلائل میں کہا کہ پولیس نے طیب بٹ کو4 نومبر2021ء سے گرفتار کر رکھا ہے۔ تحریک انصاف کی قیادت کے ایما پر جے آئی ٹی نے طیب بٹ کی 10 جنوری کو گرفتاری ظاہر کی۔

 

یہ بھی پڑھیں ایشیا کپ کے شیڈول کا اعلان،پاک بھارت ٹاکرا کب اور کہاں ہونے جا رہا ہے؟

وکیل نے عدالت کوبتایا کہ جے آئی ٹی کے سربراہ غلام محمود ڈوگر نے تحریک انصاف کی قیادت کے ایما پر طیب بٹ پر تشدد کر کے مرضی کے بیانات لیے۔ پراسیکیوشن نے طیب بٹ پر تعزیرات پاکستان کی دفعہ 120 بی کے تحت سازش کا کردار لکھا ہے۔ وقوعے میں طیب بٹ کا انسداد دہشت گردی ایکٹ کے تحت اجتماعی ذمے دار کا کردار بھی لکھا گیا ہے۔

 

یہ بھی پڑھیں ایشیا کپ کے شیڈول کا اعلان،پاک بھارت ٹاکرا کب اور کہاں ہونے جا رہا ہے؟

عدالت میں دلائل دیتے ہوئے ملزم کے وکیل میاں داؤد ایڈووکیٹ نے کہا کہ پراسیکیوشن کے مطابق طیب بٹ نے عمران خان پر حملے کے لیے مرکزی ملزم نوید کو پستول فراہم کیا۔ پراسیکیوشن کی6 ماہ کی تفتیش میں شریک ملزم طیب بٹ کے خلاف ایک بھی آزاد اور ٹھوس شہادت اکٹھی نہیں کی جا سکی۔ تحریک انصاف حکومت کی 5 جے آئی ٹیز بھی طیب بٹ کے خلاف آزاد اور ٹھوس ثبوت اکٹھے کرنے میں ناکام رہیں۔

 

یہ بھی پڑھیں سائفر اب بھی عمران خان کے پاس ہے، سزا لازمی ملنی چاہیے، رانا ثنا اللہ

وکیل نے کہا کہ پراسیکیوشن 6 ماہ گزرنے کے باوجود تفتیش مکمل کرنے اور حتمی چالان جمع کرانے میں ناکام ہے۔

قانون کے مطابق الزام کتنا بھی سنگین ہو پھر بھی کسی ملزم کو غیر معینہ مدت تک قید نہیں رکھا جا سکتا۔

لاہور ہائیکورٹ شریک ملزم طیب بٹ کو ضمانت پر رہا کرنے کا حکم دے۔

 

یہ بھی پڑھیں آزاد کشمیر میں درخت کاٹنے پر پہلی بڑی کارروائی

سماعت کے دوران پراسیکیوشن کی طرف سے مقدمے کا ریکارڈ عدالت میں پیش کیا گیا۔

سرکاری وکیل نے عدالت کو بتایا کہ طیب بٹ کو شریک ملزم وقاص کے بیان پر نامزد کیا گیا،

جس پر ملزم کے وکیل نے کہا کہ طیب بٹ کی وقوعے میں شمولیت یا سازش کی کوئی براہ راست شہادت موجود نہیں۔
بعد ازاں عدالت نے دلائل سننے کے بعد 5 لاکھ روپے کے

مچلکوں کے عوض ملزم طیب جہانگیر بٹ کی ضمانت منظور کرلی۔


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481