آزادکشمیر میں محکمہ جنگلات کے تحفظ کیلئے جاری آرڈیننس کے تحت پہلی بڑی کارروائی، جنگل کو نقصان پہنچانے پر 11 گنا جرمانے کی وصولی کے ساتھ دو ملزمان کو جیل بھیج دیا گیا،وزیراعظم آزادکشمیر کی ہدایت پر خفیہ چھاپہ مار ٹیمیں تشکیل دے کر کارروائی شروع کر دی گئی،سیٹلائیٹ میپ ایکسپرٹس کی خدمات بھی حاصل کر لی گئی ہیں۔
ناظم جنگلات مظفرآباد کو اطلا ع ملی کہ کمپارٹ نمبر 14 دھنی بمبیاں میں نامعلوم افراد نے چیل کا سبز درخت کاٹا ہے،درخت گرنےسے رہائشی مکانات کوجزوی نقصان بھی پہنچا ہے، جس پر عوام مشتعل ہیں،ناظم جنگلات نے ڈی ایف او مظفرآباد کو ہدایت کی کہ ملزمان کو ٹریس کرکے ایف آئی آر درج کرائی جائے ۔
رینج آفیسر لچھراٹ نے معلومات حاصل کر کے تھانہ پنجگراں میں ایف آئی آر کروائی تاہم ملزمان روپوش ہو گئے، ناظم جنگلات نے خفیہ ذرائع سے ملزمان کے موبائل نمبرز حاصل کیے اور موبائل نمبرز سے لوکیشن ٹریس کرواتے ہوئے سیٹلائیٹ میپ سے بھی مدد لی، جنگلات عملہ کو فوری اس خفیہ جگہ پہنچنے کا حکم دیا جہاں ملزمان روپوش تھے،دو دن کی مسلسل محنت کے بعد ناظم جنگلات کی ہدایت پر رینج آفیسر لچھراٹ نے اپنی نگرانی میں راجہ عرفان ولد راجہ شوکت اور فروز خان ولد ایوب ساکنان دھنی بمبیاں کو پکڑ کر فاریسٹ مجسٹریٹ کی عدالت میں پیش کیا۔
دوسری طرف متعدد اعلیٰ شخصیات ملزمان کو بچانے کے لیے متحرک ہو گئیں تاہم ناظم جنگلات کی ہدایت پر عملہ نے نئے حکومتی آرڈیننس کے تحت ملزمان سے 11 گنا جرمانہ مبلغ 71654 ہزا ر روپے وصول کرتے ہوئے داخل خزانہ سرکار کروا دیا اور ملزمان کو فاریسٹ مجسٹریٹ کی عدالت میں پیش کیا،عدالت نے ناظم جنگلات کی تحریک پر ملزمان کو جیل بھیج دیا۔ جب کہ ملزمان کی جانب سے برید کیا گیا سبز درخت چیرائی کر کے پٹہکہ ڈپو میں پہنچا دیا گیا،

