اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

اسرائیل کے سخت احتجاج پر سوئیڈن میں تورات کی بے حرمتی کا منصوبہ ترک

، جس کے پیشِ نظر تورات کی بے حرمتی کا منصوبہ تَرک کردیا ہے۔

اسرائیل کے سخت احتجاج کے بعد سوئیڈن میں تورات کی بے حرمتی کا منصوبہ ترک

سُوئیڈن میں اسرائیلی سفارت خانے کے باہر احتجاج کے دوران بائبل اور تورات کو جلانے کی اجازت دینے کے فیصلے کے بعد اسرائیل نے احتجاج کیا تھا

، جس کے پیشِ نظر تورات کی بے حرمتی کا منصوبہ تَرک کردیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں دوحہ معاہدہ امریکا سے کیا،پاکستان ٹی ٹی پی کیخلاف ثبوت دے،افغان حکومت

غیرملکی خبررساں ایجنسی کے مطابق اسرائیل کے احتجاج کے بعد ہی 32 سالہ شخص نے ہفتے کے روز کہا کہ وہ اپنے احتجاج سے آگے نہیں بڑھے گا۔

اس نے وضاحت کرتے ہوئے بتایا کہ اس کا مقصد دراصل ان لوگوں کی مذمت کرنا تھا،

جو قرآن سمیت دیگر مقدس کتابوں کو جلاتے ہیں۔
سویڈش پولیس نے جمعے کو اپنے بیان میں کہا کہ انہوں نے اسٹاک ہوم میں اسرائیلی سفارت خانے کے باہر ایک احتجاجی مظاہرے کے لیے اجازت نامہ دے دیا ہے،

جس میں تورات اور بائبل کو جلانا شامل تھا۔

، جس کے پیشِ نظر تورات کی بے حرمتی کا منصوبہ تَرک کردیا ہے۔

، جس کے پیشِ نظر تورات کی بے حرمتی کا منصوبہ تَرک کردیا ہے۔

مذکورہ معاملے سے متعلق اسرائیلی صدر اسحاق ہرزوگ سمیت اسرائیلی اعلیٰ عہدے داروں اور یہودی تنظیموں نے فوری طور پر اس فیصلے کی مذمت کی تھی۔
مظاہرے کے منتظم احمد اے کا کہنا ہے کہ ان کا مقصد دراصل مقدس کتابوں کو جلانا نہیں تھا بلکہ ان لوگوں پر تنقید کرنا تھا

 

یہ بھی پڑھیں پیٹرول ڈیزل کی قیمتوں میں بڑی کمی کا اعلان

جنہوں نے حالیہ ماہ میں سوئیڈن میں قرآن پاک کو نذر آتش کیا ہے، جس کے لئے سوئیڈن کا قانون منع نہیں کرتا۔
شامی نژاد سویڈش باشندے نے وضاحت کی کہ یہ ان لوگوں کے لیے جواب ہے، جو قرآن کو جلاتے ہیں،

میں یہ دکھانا چاہتا ہوں کہ اظہار رائے کی آزادی کی حدود ہیں جن کا خیال رکھنا ضروری ہے۔
اسرائیلی صدر اسحاق ہرزوگ نے اپنی ٹوئٹ میں کہا کہ اسرائیل کے صدرکی حیثیت سے میں نے قرآن کو نذر آتش کرنے کی مذمت کرتا ہوں،

جو مسلمانوں کی مقدس کتاب ہے اور اب میرا دل شکستہ ہے کہ یہودیوں کی مقدس کتاب کے ساتھ ہی بائبل کے ساتھ بھی یہ ہی کیا گیا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ مقدس کتب کی بے حرمتی کی اجازت دینا اظہار رائے کی آزادی میں کوئی مشق نہیں ہے،

یہ اشتعال انگیزی اور خالص نفرت کا عمل ہے، پوری دنیا کو مل کر اس قابل مذمت فعل کی مذمت کرنی چاہیے۔
سُویڈن میں بائبل اور تورات کو نذر آتش کرنے کی اجازت دینے پ پاکستان کا سخت رد عمل سامنے آگیا ہے۔

ترجمان دفتر خارجہ نے جاری بیان میں کہا کہ مقدس مذہبی کتابوں کو نذر آتش کرنے اجازت دینے کی مذمت کرتے ہیں،

مذاہب کے خلاف نفرت انگیز اقدامات کی حمایت نہیں کرسکتے۔


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481