ترک پارلیمانی الیکشن میں اگرچہ صدر اردوغان کی جماعت کو دیگر پارٹیوں پر برتری حاصل ہوگئی ہے تاہم صدارتی الیکشن کے پہلے مرحلے میں کوئی بھی امیدوارمطلوبہ 50 فیصد سے زائد ووٹ حاصل نہ کرسکا، جس کے بعد سپریم الیکشن کونسل نے28 مئی کو انتخابات کے دوسرے مرحلے کا اعلان کردیاہے۔
ترکیہ کے صدارتی الیکشن کے پہلے مرحلے میں کوئی بھی امیدوار 50 فیصد سے زائد ووٹ حاصل نہ کرسکا جس پر سپریم الیکشن کونسل نے28 مئی کو دوسرے مرحلے کے الیکشن کا اعلان کردیا جسے رن آف الیکشن بھی کہا جاتا ہے۔اس الیکشن میں پہلے اور دوسرے نمبر پر زیادہ ووٹ لینے امیدوار مقابل ہوں گے ۔پہلے مرحلے کے انتخابات میں صدر اردوغان کو حزب اختلاف کے 6 جماعتی اتحاد کے امیدوار کمال دار قلیچ اوغلو پر واضح سبقت حاصل رہی۔ غیر حتمی نتائج کے مطابق اردوغان نے پہلے مرحلے میں 49 اعشاریہ 50 صفر فیصد ووٹ حاصل کیے تاہم معمولی فرق کے سبب صدر منتخب نہ ہوسکے۔ اس طرح کمال قلیچ کے ووٹوں کا تناسب 44 اعشاریہ 89 فیصد رہا۔
ادھر مبصرین 28 مئی کو ہونے والے انتخابات میں صدر اردوغان کو فیورٹ قرار دے رہے ہیں۔ سپریم الیکشن کونسل کے عہدیدار احمد ہنر کے مطابق اتوار کو ہونے والی ووٹنگ کے تمام بیلٹ باکس کھول دیے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ٹرن آؤٹ 88 فیصد سے زائد رہا تاہم بیرون ملک ڈالے گئے ووٹوں کی گنتی ابھی جارہی ہے۔ پہلے مرحلے میں کامیابی کے بعد ترک صدر دوسرے مرحلے میں بھی سبقت حاصل کرنے کیلئے پرعزم ہیں۔ انہوں نے انقرہ میں اپنی جماعت کے حامیوں سے کہا کہ وہ وہ دوبارہ ووٹنگ کیلئے تیار ہیں۔
