اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

حاملہ قیدی کے اسقاط حمل پر جیل انتظامیہ کو لاکھوں ڈالر جرمانہ

22 7

واشنگٹن: امریکا میں ایک قیدی خاتون نے حمل کا درد ہونے پر بروقت اسپتال نہ پہنچانے کے باعث اسقاط حمل ہونے پر پولیس کے خلاف لاکھوں ڈالر ہرجانے کا دعویٰ جیت لیا۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی عدالت نے حمل ضائع ہونے کے ایک کیس میں جیل انتظامیہ کو حکم دیا ہے کہ درخواست گزار متاثرہ خاتون سینڈرا کوئونوز کو 4 لاکھ 80 ہزار ڈالر جرمانہ ادا کریں۔
متاثرہ خاتون نے درخواست میں مؤقف اختیار کیا تھا کہ کہ 2016 میں پروبیشن کی خلاف ورزی پر اورنج کاؤنٹی جیل میں قید تھیں اور اس وقت حاملہ تھیں۔ حمل کے درد کی وجہ سے مجھے اسپتال منتقل کیا جا رہا تھا لیکن راستے میں پولیس اہلکار کافی پینے اسٹاربکس پر رک گئے۔
سینڈرا کوئونوز نے مزید کہا کہ میں درد کی شکایت اور جلد اسپتال کے لیے روانہ ہونے کو کہتی رہی لیکن اہلکار مزے لے لے کر کافی پیتے رہے اور مجھے اسپتال پہنچنے میں 2 گھنٹے کی تاخیر ہوگئی اور نتیجتاً اسقاط حمل کے لیے مجبور کرانا پڑا۔
اورنج کاؤنٹی بورڈ آف سپروائزرز نے عدالتی فیصلے سے اتفاق کرتے ہوئے متاثرہ خاتون کو 4 لاکھ 80 ہزار ڈالر ادا کرنے کی ہامی بھرلی۔ خاتون کا مقدمہ ابتدائی طور پر ایک وفاقی عدالت نے اکتوبر 2020 میں خارج کر دیا تھا لیکن اپیل کی عدالت نے گزشتہ برس بحال کیا تھا۔


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481