اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

بھارت کے دلت اور چین کے ایغورغلامی کی جدید شکلیں ہیں، اقوام متحدہ

23 5

جنیوا: اقوام متحدہ میں انسانی حقوق کے خصوصی نمائندے نے کہا ہے کہ چین کے ایغور، بھارت کے دلت، خلیجی ممالک، برازیل اور کولمبیا کے گھریلو ملازمین جدید دنیا میں غلامی ایک شکل ہیں۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندہ برائے انسانی حقوق ٹومویا اوبوکاٹا نے اپنی رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ آج بھی دنیا میں غلامی اپنی نئی شکل میں موجود ہے۔
خصوصی نمائندہ برائے انسانی حقوق ٹومویا اوبوکاٹا کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ چین میں ایغور مسلمانوں کے ساتھ ناروا سلوک رکھا جاتا ہے اور جبری مزدوری کرائی جاتی ہے اور بنیادی حقوق سے محروم رکھا جاتا ہے۔
رپورٹ میں خصوصی طور پر بھارت کی نچلی ذات سمجھے جانے والے دلتوں کا زکر ہے جن کا نہ صرف سماجی بائیکاٹ کیا جاتا ہے بلکہ ملازمتوں اور تعلیمی اداروں کے دروازے بھی بند ہے۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ موریطانیہ، مالی، نائیجر اور افریقہ کے ساحل علاقے میں تو اقلیتوں کو روایتی طورپر غلام بناکر رکھنے کے واقعات کا بھی ذکر موجود ہے جب کہ خلیجی ممالک، برازیل اور کولمبیا کا بھی خاص طور پر ذکر کیا گیا ہے۔
اقوام متحدہ کی رپورٹ میں بچوں سے جبری ملازمتوں کے حوالے سے ہولناک اعداد و شمار پیش کیے گئے ہیں۔ ایشیا اور بحرالکاہل، مشرق وسطیٰ، امریکہ اور یورپ میں چار سے چھ فیصد، افریقا میں 21.6 فیصد جب کہ سب سے زایدہ سہارا افریقا میں 23.9 فیصد واقعات سامنے آئے ہیں۔
رپورٹ میں جنسی غلامی کا ذکر کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ انسانی بحران کا شکار علاقوں میں اس کا رجحان پریشان کن ہے۔


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481