اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

القاعدہ رہنما ایمن الظواہری افغانستان میں امریکی ڈرون حملے میں مارے گئے

3 1

القاعدہ کے رہنما ایمن الظواہری امریکی خفیہ ایجنسی (سی آئی اے) کے ڈرون حملے میں مارے گئے۔غیر ملکی میڈیا کے  دعوے کے مطابق امریکا کی جانب سے کارروائی افغانستان میں کی گئی۔ بعد ازاں کابل پر امریکی ڈرون حملے میں ایمن الظواہری کی ہلاکت کی امریکی صدر جو بائیڈن نے بھی تصدیق کر دی۔ جو بائیڈن نے اپنے بیان میں کہا کہ واضح اور قابل یقین شواہد پر حملے کی اجازت دی

انہوں نے بتایا کہ انٹیلی جنس ایجنسیوں نے رواں سال اپریل میں نائن الیون حملے کی منصوبہ بندی میں شامل ایمن الظواہری کا پتہ چلا لیا تھا، ہر قیمت پر امریکا کا دفاع کریں گے اور اپنے دشمنوں کا ہر جگہ تعاقب کریں گے۔امریکی صدر کا کہنا تھا ایمن الظواہری نے حالیہ ہفتوں میں امریکا اور اتحادیوں پرحملے کے لیے ویڈیوز جاری کیں، الظواہری کی ہلاکت سے امریکیوں کو انصاف ملا ہے۔

دوسری جانب طالبان ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے امریکی حملے کی مذمت کرتے ہوئے اسے عالمی اصولوں کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔یاد رہے کہ ایمن الظواہری کے بارے میں معلومات دینے والے کے لیے امریکا نے ڈھائی کروڑ ڈالر انعام کا اعلان کیا تھا۔

افغانستان سے امریکی انخلا کے بعد یہ پہلی کارروائی ہے جو انخلا کا ایک سال پورا ہونے کے موقع پر کی گئی۔ایمن الظواہری نے القاعدہ کی کمان اسامہ بن لادن کے مارے جانےکے بعد سنبھالی تھی، اسامہ بن لادن کو امریکا نے پاکستان میں نشانہ بنایا تھا۔امریکی حکام نے القاعدہ کے رہنما ایمن الظواہری کی کابل میں موجودگی کو طالبان کے ساتھ معاہدے کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔

امریکی حکام کے مطابق ایمن الظواہری پر ڈرون حملہ کابل کے وقت کے مطابق 31جولائی کی صبح 6 بج کر 18 منٹ پر کیا گیا اور ایمن الظواہری پر دو میزائل داغے گئے تھے۔

امریکی حکام کے مطابق ایمن الظواہری اپنے خاندان سمیت کابل کے سیف ہاؤس میں موجود تھے، ان کے مارے جانے کے بعد حقانی نیٹ ورک نے ان کے خاندان کے افراد کو مکان سے نکال لیا۔امریکی حکام نے مزید کہا کہ طالبان نے دہشتگردوں کو پناہ نہ دینے کا وعدہ کیا تھا، خفیہ اداروں نے اپریل سے ایمن الظواہری پر نظر رکھی ہوئی تھی اور امریکی صدر کی اجازت کے بعدایمن الظواہری کو نشانہ بنایا گیا جب کہ طالبان کو امریکی حملے کی خبر نہیں تھی۔

امریکا نے افغانستان میں موجود القاعدہ سربراہ ایمن الظواہری کی کھوج کیسے لگائی؟۔

برطانوی خبر رساں ادارے  سے بات کرتے ہوئے  القاعدہ سربراہ کی  شناخت اور ہلاکت پر ایک امریکی افسر کا کہنا تھا کہ ایمن الظواہری کی کھوج لگانا اور ان کی ہلاکت بہت ہی احتیاط، صبر اور مسلسل کوششوں کا نتیجہ ہے۔

رائٹرز کے مطابق ایمن الظواہری کی ہلاکت اور امریکی افواج کے آپریشن کے حوالے  سے ایک امریکی افسر نے بتایا کہ کچھ سالوں سے امریکی حکام باخبر تھے کہ القاعدہ نیٹورک ایمن الظواہری کی مدد کر رہا ہے جس کے بعد سے حکام نے مسلسل افغانستان میں القاعدہ کی سرگرمیوں پر نظریں جمائی ہوئی تھیں۔

ایمن الظواہری کوکابل کے سیف ہاؤس میں کب لایا گیا تھا اس حوالے سے حکام بالکل بے خبر تھے لیکن پھر امریکی انٹیلیجنس نے ایمن الظواہری کے خاندان کی کھوج لگائی اور ان کی اہلیہ، بیٹی اور ان کے بچوں کو شناخت کر لیا گیا۔

انہوں نے بتایا کہ مزید انٹیلی جنس سے معلوم ہوا کہ ایمن الظواہری خود بھی اپنے خاندان کے ساتھ کابل کے اسی سیف ہاؤس میں موجود تھے، اور انہیں اپنے سیف ہاؤس کی گیلری میں شناخت کیا گیا تھا جہاں وہ اکثر آکر کھڑے ہوتے تھے۔

مہینوں کی انٹیلیجنس کے بعد حکام نے یقین کر لیا کہ انہوں نے ایمن الظواہری کی درست شناخت کی ہے جس کے بعد نیشنل سکیورٹی ایڈوائزر سمیت اعلیٰ امریکی حکام کو اپریل کے آغاز میں اس معاملے پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔

انہوں نے بتایا کہ انٹیلی جنس حکام کی جانب سے خفیہ امریکی آپریشن یقینی طور پر محفوظ بنانے کے لئے سیف ہاؤس کی طرز تعمیر، اس میں استعمال شدہ مواد، گھر میں رہنے والے افراد اور آس پاس کی دیگر اہم معلومات جمع کی گئی تاکہ عمارت کی انٹیگرٹی اور سویلینز کے نقصان کو کم سے کم سطح پر رکھا جا سکے۔امریکی افسر کا کہنا تھا کہ تمام معلومات جمع ہو جانے کے بعد امریکی صدر جوبائیڈن اور ان کی کابینہ کو سی آئی اے ڈائریکٹر ولیم برنس کی موجودگی میں اس پورے معاملے پر بریفنگ دی گئی۔یکم جولائی کو امریکی صدر کو آپریشن کی جزئیات پر بریفنگ دی گئی، جہاں امریکی صدر نے ہماری معلومات کے ذرائع اور ان کے مستحکم ہونے، سیف ہاؤس، موسم، حالات، افغان طالبان سے تعلقات پر ہونے والے اثرات اور آپریشن کی کامیابی کے امکانات کے حوالے سے تفصیلی سوالات پوچھے۔

امریکی افسر نے بتایا کہ اس بریفنگ کے بعد سینئر انٹر ایجنسی وکلا کی ٹیم نے پوری معلومات کی سخت اسکروٹنی کی اور ایمن الظواہری کی موجودگی کے حوالے سے تمام معلومات کا تفصیلی جائزہ لیا۔

پچیس جولائی کو صدر جو بائیڈن کو حتمی بریفنگ دی گئی، جس میں کافی بحث اور سوالات کے بعد امریکی صدر نے انتہائی محتاط ہوائی حملے کی مشروط منظوری دی  کہ آپریشن کے دوران سویلین نقصان کو کم سے کم ترین سطح پر رکھا جائے گا۔

امریکی افسر کے مطابق امریکی صدر سے منظوری کے بعد 30 جولائی 2022 کو ٹھیک 9 بجکر 48 منٹ پر ‘ہیل فائر’ نامی ڈرون حملہ کیا گیا جس میں القاعدہ سربراہ ایمن الظواہری ہلاک ہوئے۔


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481