اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

مدرسے میں طالبعلم کی ہلاکت،مرکزی ملزم بیٹے سمیت گرفتار

مدرسے میں طالبعلم کی ہلاکت،مرکزی ملزم بیٹے سمیت گرفتار

مدرسے میں طالبعلم کی ہلاکت،مرکزی ملزم بیٹے سمیت گرفتار

ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر (ڈی پی او) کا کہنا ہے کہ سوات مدرسے میں تشدد کے واقعے میں ملوث 10 ملزمان کو پہلے ہی گرفتار کیا جا چکا ہے، مدرسے میں تشدد کے واقعے کے بعد مرکزی ملزمان فرار ہوگئے تھے۔

خیال رہے کہ 21 جولائی کو خوازہ خیلہ اسپتال میں 12 سالہ فرحان کی تشدد زدہ لاش لائی گئی تھی۔

 

یہ بھی پڑھیں :۔ ایرانی وزیرخارجہ کا ٹرمپ کو کرارا جواب

 

مقتول کے چچا صدر ایاز کی مدعیت میں مدرسے کے مہتمم قاری محمد عمر، اُس کے بیٹے احسان اللّٰہ، ناظم مدرسہ عبد اللّٰہ، اور بخت امین کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا تھا۔

ایف آئی آر کے مطابق مقتول فرحان مدرسے واپس جانے کو تیار نہیں تھا، چچا اپنے بھتیجے کے ساتھ مدرسے گیا اور مہتمم سے شکایت کی تو مہتمم نے معذرت کی، اسی دن نماز مغرب کے بعد مدرسے کے ناظم نے کال کر کے بتایا کہ بچہ غسل خانے میں گر گیا ہے، چچا اسپتال پہنچے تو اس کی تشدد زدہ لاش دیکھی۔

یہ بھی پڑھیں :۔ مودی نے پہلگام پر سوالوں سے بچنے کے لیے 3 کشمیری شہید کردیے

 

ڈی پی او کا کہنا تھا کہ مدرسے میں زیرِ تعلیم 160 کے قریب بچوں کو ان کے والدین کے حوالے کردیا گیا۔

گل کدہ میں بھی مدرسہ میں ایک اور بچے پر تشدد کے واقعہ پر دو ملزمان، محمد رحمان اور عبدالسلام، کو چائلڈ پروٹیکشن ایکٹ کے تحت گرفتار کیا گیا۔

 

 


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481