اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

خاور مانیکا کی گرفتاری۔۔ اصل کہانی کیا ہے ؟

خاور مانیکا کی گرفتاری۔۔ اصل کہانی کیا ہے ؟

خاور مانیکا کی گرفتاری۔۔ اصل کہانی کیا ہے ؟

 

عمران خان کی موجودہ اہلیہ کے سابق شوہر خاور مانیکا کی گرفتاری کی وجوہات سامنے آ گئی ہیں۔سابق کسٹم افسر خاور مانیکا کو اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ پنجاب نے گرفتار کیا ہے۔

خاور مانیکا اپنی فیملی کے ہمراہ دبئی جا رہے تھے جب گزشتہ روز انہیں لاہور ائرپورٹ پر روک کر حراست میں لیا گیا۔

تفتیشی ذرائع کا کہنا ہے کہ خاورمانیکا نے لاہور کے مہنگے علاقے میں چار ایکڑ سے زائد زمین پر قبضہ کر رکھا ہے۔ جس میں ڈیڑھ ایکڑ قبرستان کی زمین بھی شامل ہے۔مذکورہ زمین پر انہوں نے شادی ہال کے علاوہ ایک مارکیٹ بھی بنا رکھی ہے۔

تفتیشی ذرائع کے مطابق یہ قبضہ انہوں نے مبینہ طور پر اویکیو ٹرسٹ کی زمین پر کیا ہے اور اس کے لیے اپنی سابق اہلیہ کے موجودہ شوہر دور حکومت میں سیاسی اور حکومتی اثر رسوخ استعمال کیا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ سابق آئی جی پولیس اور نیک نام ریٹائرڈ آفیسر شعیب سڈل کی سربراہی میں حکومت نے ایک کمیشن قائم کیا تھا جو اویکیو ٹرسٹ اور دیگر متعلقہ اداروں کی زمین پر قبضوں کی نشاندہی کرتا ہے اور متعلقہ ادارے اس پر ایکشن لیتے ہیں ۔بعض ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ اسی کمیشن کی نشاندہی پر کارروائی کی گئی ہے۔

پولیس افسر رضوان گوندل میڈیا پر زیر بحث کیوں ؟

عمران خان کی اہلیہ بشری بی بی کے سابق شوہر خاور ما نیکا کی گرفتاری کے ساتھ ہی سینیئر پولیس افیسر اور سابق ڈی پی او پاک پتن ڈاکٹر رضوان گوندل بھی ایک بار پھر میڈیا پر زیر بحث اگئے ہیں۔

رضوان گوندل کا خاور مانیکا کی گرفتاری سے کوئی تعلق نہیں تا ہم عثمان بزدار کی حکومت کے دور میں خاورمانیکا کس قدر طاقتور تھے ، اس کا ذکر اب زبان زد عام ہے ۔

واضح رہے کہ اس دور میں ایک سکینڈل مشہور ہوا تھا جب خاور مانیکا کی صاحبزادی رات گئے ننگے پاؤں پاک پتن دربار پر جا رہی تھیں تو پولیس نے ان کی سیکیورٹی کے خدشے کے پیش نظر مداخلت کی جسے رائی کا پہاڑ بنا دیا گیا بعد ازاں اس وقت کے ڈی پی او پاک پتن ڈاکٹر رضوان گوندل کو نشان عبرت بنانے کا فیصلہ کیا گیا اور وہ کئی ماہ تک معطلی کی شکل میں سزا بھگتتے رہے ۔

یہ بھی پڑھیں  عمران خان کا اڈیالہ جیل منتقل ہونے سے انکار

2 2 jpg

اس دوران رضوان گوندل کی خاورمانیکہ سے بھی کلامی ہوئی جس کے بعد انہیں وزیراعلی ہاؤس طلب کیا گیا جہاں وزیراعلی عثمان بزدار کی موجودگی میں بشری بی بی کی دوست فرہگوگی کے شوہر احسن سلیم گجر نے نہ صرف ڈاکٹر رضوان گوندل کے ساتھ توہین امیز سلوک کیا بلکہ انہیں دھمکیاں بھی دیں ۔طویل عرصے بعد جب اس وقت کے ڈی جی ایف آئی اے بشیر میمن نے انہیں اپنے محکمے میں تعینات کیا تو انہیں ہٹانے کے لیے خاورمانیکا ڈی جی ایف ائی اے کے پاس پہنچ گئے جو محکمہ کسٹم میں ان کے بیچ میٹ رہ چکے تھےتاہم بشیر میمن نے اس حوالے سے کوئی دباؤ قبول کرنے سے انکار کر دیا تھا۔

1 2 jpg

بشر بی بی پر عمران خان کے خلاف وعدہ معاف گواہ بننے کے لیے دباؤ ؟

ذرائع کا کہنا ہے کہ اگرچہ جس کیس میں خاورمانی کا کو گرفتار کیا گیا ہے اس کے حوالے سے متعلقہ ادارے کے پاس ٹھوس شواہد بھی موجود ہیں تاہم یہ کیس اس نوعیت کا نہیں کہ انہیں زیادہ عرصہ بغیر ضمانت کے جیل میں رکھا جا سکے ۔

یہ بھی پڑھیں عمران خان کو اڈیالہ جیل منتقل کرنے کا حکم

بعض سینیئر صحافیوں کا کہنا ہے کہ اس کیس کا دباؤ بشری بی بی پر پڑے گا

کیونکہ بعض معاملات میں ان کے سابق شوہر کے علاوہ ان کے بچے بھی ملوث ہیں

اور کچھ بعید نہیں کہ وہ بچوں کی وجہ سے دباؤ میں ا کر اپنے شوہر عمران خان

کے خلاف وعدہ معاف گواہ بننے پر امادہ ہو جائیں تاہم فوری طور پر اس کا کوئی امکان دکھائی نہیں دیتا۔

 


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481