آج (2 اپریل) بچوں کی کتابوں کا عالمی دن ہے۔
بچپن میں کہانیاں لکھتا رہتا تھا تو دل کرتا تھا کہ میری بھی کوئی کتاب شائع ہو۔ بچپن میں اپنی کتاب کی اشاعت کی خواہش تو پوری نہیں ہوسکی لیکن بچپن کے خوبصورت دن گزرنے کے بعد میری بہت کتابیں شائع ہوئیں۔
کہانی سے میرا تعلق بہت چھوٹی عمر سے ہے اور وہ ساتھ محبت جیسا ہی ہے۔۔۔جیسے بچپن میں کوئی کسی لڑکی کے ساتھ کھیلے، جوانی میں اس سے محبت ہو جائے اور پھر وہ جینے کی لیے ناگزیر ضرورت بن جائے ۔ ایسے ہی لگتا ہے مجھے، کیوں کہ مَیں نے سکول کے زمانے میں جیب خرچ سے آئس کریم اور چنے، پکوڑے بہت کم کھائے تھے جب کہ ان پیسوں سے بچوں کی کہانیوں کی کتب اور رسائل بہت خریدے تھے۔
سکول کے ان ہی دنوں میں، مَیں نے اپنے ہوم ورک کی کاپیوں میں کہانیاں لکھنا شروع کر دی تھیں۔ تب مَیں ساتویں جماعت میں پڑھتا تھا۔ میرے ہم جماعت ساتھیوں کا ہوم ورک ٹیچر کی ایک نظر کے بعد کاپیوں میں بند رہ جاتا تھا اور میری چھوٹی سی کہانیاں کاپیوں سے نکل کر اُردو اور سندھی اخبارات کے بچوں کے صفحات کی زینت بن جاتی تھیں۔
ہوم ورک کی جگہ کہانی دیکھ کر کلاس میں ریاضی کے اُستاد کا پہلا ڈنڈا میرے اسی نازک ہاتھ پر پڑتا تھا، جس سے مَیں کہانی لکھتا تھا۔ میرا نازک ہاتھ اذیت برداشت کرتا رہا، لیکن کہانی لکھنے سے باز نہیں آیا۔
نتیجہ یہ نکلا کہ حساب سے میرا تعلق کبھی جڑ نہیں سکا اور کتاب سے رشتہ کبھی ٹوٹا نہیں !

زیب_سندھی
