ولیم ورڈزورتھ
ایک آدھ بار قریبی دوستوں کی طرف سے مشورہ ملا بھی کہ ترجمہ کرنا ہے تو کچھ نئے اور اہم شاعروں ادیبوں یا ڈسکورسز کی طرف رجوع کیا جانا چاہیے لیکن اس نیچر کے شیدائی نے تین دہائیوں سے دل پر قبضہ جما رکھا ہے ۔۔۔۔ وہ انوکھے دن تھے ایک چھوٹی سی اکیڈمی سے باہر دنیا جیسے جھپٹنے کو تیار بیٹھی رہتی اور اندر ایک سیلن زدہ کمرے میں ایک دھان پان استاد The Prelude پڑھاتا رہتا۔۔۔۔ کبھی کبھی باہر بارش کی جھنکار بجتی سوندھی خوشبو دل مٹھی میں دبائے لیک ڈسٹرکٹ کی ڈھلوانوں پر پھسلتی رہتی کچھ اس طرح کہ برسوں بعد اس گداز دل شاعر کی بستی اس کے گھر اور اس کی آخری آرامگاہ سے گزر ہوا تو کچھ اجنبی نہ لگا۔۔۔۔ اور پھر یہ نظم سارا سال ارد گرد خوشبو اڑاتی اور نرگس کے پھول اگاتی رہتی ہے۔۔۔۔ پہلا سٹینزہ کچھ برس پہلے ترجمہ کیا تو آگے ہمت نہ پڑی خالص حسن کو کاغذ پر اتارنا کوئی آسان بات نہیں اور پھر چند روز پہلے بیک گارڈن میں اپنے آپ نہ جانے کس ترکیب سے ایک نرگس کا پھول بغیر بیج دبائے پانی دیے لہلہانے لگا۔۔۔۔ اٹھتے بیٹھتے کھڑکی سے گردن جھکائے کسی سوچ میں ڈوبا۔۔۔۔ ترجمہ مکمل ہو گیا ایک دنیا ایک اور دنیا کے ہونٹوں سے سانس لے سکی یا نہیں اس کا فیصلہ فاضل دوستوں کے ہاتھ۔۔۔۔ مجھے تو اپنا ڈیفوڈل راضی کرنا تھا اور بس۔۔۔۔
نرگس کے پھول
۔۔۔۔ ترجمہ۔ گلناز کوثر۔۔۔۔۔
برطانیہ میں مقیم نامور پاکستانی شاعرہ
اکیلا چلا جا رہا تھا
یونہی ایک آوارہ بادل کے مانند بہتا ہوا
وادیوں اور پہاڑوں میں
جب دفعتاً میں نے دیکھا درختوں تلے
جھیل کے ایک جانب
سنہری بدن زرد نرگس کے پھولوں کی اُس بھیڑ کو
نرم ٹھنڈی ہوائوں میں پَر کھولتے ، رقص کرتے ہوئے۔۔۔
دور نظروں کی حد سے پرے
جھلملاتی ہوئی کہکشاؤں کے جیسے
مری اک نظر میں سمائے ہزاروں کہ جن سے لدی تھی وہ کھاڑی۔۔۔
سروں کو جھکائے ہوئے
جھیل کی دھیمی لہروں کے آہنگ کو
مات دیتے ۔۔۔ مگن ۔۔۔۔زندگی سے بھرے ۔۔۔ جھومتے، لہلہاتے ہوئے۔۔۔
دل مرا اس گھڑی
اک مسرت میں گُم تھا۔۔۔۔
میں تکتا رہا اور تکتا رہا
دیر تک دور تک سوچتا غور کرتا ہوا
ایسے نایاب منظر سے بڑھ کر خزانہ
کہیں اور کوئی نہ ہوگا۔۔۔۔
زمانہ ہوا آج بھی
شام آتی ہے مٹھی میں دابے ہوئے جب اداسی۔۔۔۔
تو بےزار۔۔۔ بےکیف لمحوں کے الجھے ہوئے ڈھیر میں
تب یکایک چمکتا ہے
پھولوں بھرا یہ نظارا
مرے دل کو تھامے ہوئے
مسکراتا ہوا
رقص کرتا ہوا۔۔۔۔
The Daffodils
….William Wordsworth….
I wandered lonely as a cloud
That floats on high o’er vales and hills,
When all at once I saw a crowd,
A host, of golden daffodils;
Beside the lake, beneath the trees,
Fluttering and dancing in the breeze.
Continuous as the stars that shine
And twinkle on the milky way,
They stretched in never-ending line
Along the margin of a bay:
Ten thousand saw I at a glance,
Tossing their heads in sprightly dance.
The waves beside them danced; but they
Out-did the sparkling waves in glee:
A poet could not but be gay,
In such a jocund company:
I gazed—and gazed—but little thought
What wealth the show to me had brought:
For oft, when on my couch I lie
In vacant or in pensive mood,
They flash upon that inward eye
Which is the bliss of solitude;
And then my heart with pleasure fills,
And dances with the daffodils.
William Wordsworth
