پروفیسر احسان اکبر عصر حاضر کے ممتاز اردو شعراء میں شامل ہیں۔ آپ جنوری 1938 میں بھوپال میں پیدا ہوئے۔
آپ کی زندگی علم و تعلم، شعر و سخن اور تصنیف و تالیف میں گزری۔ نظم و نثر دونوں میں اپنا منفرد اسلوب رکھتے ہیں۔ ان کی شاعری میں ہندی الفاظ کا استعمال بھی دیکھنے میں آتا ہے۔ تغزل و روانی ان کی شاعری کے اہم اوصاف ہیں۔
حکومت پاکستان نے آپ کی علمی و ادبی خدمات کو سراہتے ہوئے 2015ء میں آپ کو صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی عطا کیا۔
ہمیں نہ گھیرتی شاید یہ چار دیواری
مگر یہ خاک جو اس عالم خراب میں ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نظم ۔۔۔ بے تعبیر
بچپنے کی دنیا تھی
جس کے دم سے دم لیتی
خوف کی پچھل پائی
خواب جس کی زد میں تھے
صبح خواب سننے پر
سب بزرگ کہہ دیتے
خواب کی یہ باتیں ہیں
ہم سے دور بیتیں گی
دور سے سنیں گے ہم
اب جدا سی دنیا ہے
ان کہے زمانوں کے
جیتے جاگتے لمحے
دھیان سے گزرتے ہیں
سوچ میں اترتے ہیں
پر وہ دن نہیں آئے
جس میں جاگتی تقدیر
صبح وہ نہیں چھوٹی
خواب کی جو دے تعبیر
دور سے سنا ہم نے
برف میں کھلی کونپل
غرب میں مچی ہلچل
حریت حقوق افکار
ذوق آرزو آثار
ذہن کی کماں داری
رنگ نادرہ کاری
علم اس کی تعمیریں
برق ایٹم آہن سے
جسم کھیل صحت تک
ارتقا کی تعبیریں
دور سب سمندر پار
اپنے خواب کیسے ہیں
جو نظر نہیں آتے
انتشار اتنا ہے
سو طرح کی تعبیریں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
غزل
کلاہ کج بدل جاتی ہے یا افسر بدلتا ہے
ابھی کھلتا نہیں کیا وقت کا تیور بدلتا ہے
یہ دیکھا ہے کہ محور استوا اوپر بدلتا ہے
فلک صدیوں پرانی نیلگوں چادر بدلتا ہے
دلوں میں سوز غم والے دھوئیں بھی آرزوئیں بھی
عجم والا مسلماں ہر صدی میں گھر بدلتا ہے
نشاں کردہ گھروں کو چھوڑ بھاگے گھر جو لوٹے ہیں
تو دیکھا پچھلی شب دہلیز کا نمبر بدلتا ہے
ہر اک فرعون کے احوال غرقابی جداگانہ
کبھی دریا بدلتا ہے کبھی لشکر بدلتا ہے
زمانہ احتراماً گھوم جاتا ہے اسی جانب
جو اچھائی کو اک انسان رتی بھر بدلتا ہے
ہم اب مغرب کے دست آموز دنیا کو نہیں لگتے
اگ آئیں بال و پر اپنے تو بال و پر بدلتا ہے
کوئی دروازہ بھیتر کی طرف کھلتا نہیں احساںؔ
وہی اندر کی کالک ہے فقط باہر بدلتا ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(تحریر و ترتیب : راشد عباسی)

