اقبال کی نظم "ابلیس کی مجلس شوریٰ” کا ایک شعر
تحریر: راشد عباسی
ہے یہی بہتر الٰہیات میں اُلجھا رہے
یہ کتابُ اللہ کی تاویلات میں اُلجھا رہے
ابلیس اپنے مشیروں سے مخاطب ہو کر کہتا ہے کہ ابلیسی نظام کی بقا اور فروغ و استحکام کے لیے ناگزیر ہے کہ مسلمان سعی و عمل سے بیگانہ ہوں۔ وہ "مرد مومن” بننے کے بجائے عقائد کی فضول منطقی بحثوں میں الجھے رہیں۔ ان سے یہ عقدہ پوشیدہ رہے کہ قرآن دستورِ حیات ہے۔
اے میرے کارکنوں! تم حتی المقدور کوشش کرو کہ مسلمان اللہ کی کتاب پر عمل کر کے دونوں جہان کی کامیابی سمیٹنے کے بجائے قرآن کے واضح احکام کی تفسیر اور تاویلات پر لڑتے جھگڑتے رہیں تاکہ دنیا میں ابلیسیت پھلتی پھولتی رہے۔
یاد رکھنا۔۔۔ جس دن مسلمانوں نے من حیثَ الاُمّت قرآن کو عمل کی کتاب مان کر سینے سے لگا لیا وہ دن دنیا پر ابلیسی نظام کا آخری دن ہو گا۔
