خاتون کو سرعام برہنہ کرنے پر سزائے موت ختم
سینیٹ نے فوجداری قوانین میں ترمیم کا بل کثرت رائے سے منظور کیا، بل کے مطابق خاتون پر مجرمانہ حملہ کرنے یا اسے سرعام برہنہ کرنے پر ملزم کو بغیر وارنٹ گرفتار کیا جا سکے گا، جرم ناقابل ضمانت اور ناقابل مصالحت ہوگا۔
سینیٹر علی ظفر نے کہا کہ عورت کے کپڑے اتارنے پر سزائے موت برقرار رہنا چاہیے۔
سینیٹر ثمینہ ممتاز نے کہا کہ ہم عورت کو کمزور بنا رہے ہیں، یہ سزا باہر کے لوگوں کو خوش کرنے کیلئے کم کی جا رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:۔ مون سون بارشوں سے178 افراد جاں بحق،491 زخمی
اعظم نذیر تاررڑ نے کہا کہ کیسے سوچ لیا کہ سزا کی سنگینی جرم کو روکتی ہے، موت کی سزا دینے سے جرائم کم نہیں ہوں گے، ہمارے پاس 100 جرائم میں سزائے موت ہے لیکن جرم کی شرح بڑھ رہی ہے، یورپ میں سزائے موت نہیں اور وہاں کرائم کم ہو رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:۔کلاوڈ برسٹ کیا ہے اور کیوں ہوتا ہے؟
وزیر قانون نے کہا کہ پانی کے جھگڑوں پر مقدمہ بنا لیتے ہیں کہ عورت کے کپڑے اتارتے ہیں تاکہ اگلے کو سزائے موت ہو جائے، شریعت کے مطابق چار جرم کے علاوہ کسی جرم پر سزائے موت نہیں ہونی چاہیے۔
