اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

سائیں لیاقت دنیا کی رنگینیوں کو چھوڑ کر رخصت

سائیں لیاقت دنیا کی رنگینیوں کو چھوڑ کر رخصت

سائیں لیاقت دنیا کی رنگینیوں کو چھوڑ کر رخصت

مظفرآباد(بیورو رپورٹ) وہ ایک چاند تھا جو غروب ہو گیا، ریاست کی جھنکار،دیگچے والی سرکار، مظفرآباد ازاد کشمیر کی رونق کہلانے والا سائیں لیاقت بھی دنیا کی رنگینیوں کو چھوڑ کر رخصت ہو گئے، کون کہتا ہے اللہ والوں کے چاہنے والوں کی کمی ہو گئی ہے، گزشتہ روز سیکڑوں افراد نے سائیں لیاقت کے جسد خاکی کو منوں پھولوں کی پتیاں نچھاور کرنے کے بعد خوش آمدید کہنے کے بعد اپنی دعاؤں میں رخصت کیا۔ نماز جنازہ نے سابقہ تمام تجزیوں کو غلط ثابت کر دیا۔تاریخ ساز نماز جنازہ، سیاسی، سماجی، مذہبی، تجارتی، عوامی، علمی، ادبی حلقوں کے اکابرین سمیت سول سوسائٹی کے زعماء اور آزاد کشمیر و بیرون آزاد کشمیر سے اللہ والوں کی سینکڑوں کی تعداد میں سائیں لیاقت کے جنازے میں شرکت۔مظفرآباد؛ معروف مجذوب شخصیت سائیں لیاقت کی نماز جنازہ ہائی کورٹ گراونڈ میں ادا کردی گئی.

سائیں لیاقت دنیا کی رنگینیوں کو چھوڑ کر رخصت

 

 

عکس مصلح امت محقق الحصر علامہ ابو تراب پیر سید حبیب الحق شاہ کاظمی ضیائی سلطانپوری ناظم اعلی جامعہ آمنہ ضیاء البنات ہمک ماڈل ٹاون اسلام آباد ایڈوکیٹ سپریم کورٹ پاکستان نے نماز جنازہ پڑھائی۔دارالحکومت کی سڑکیں سائیں لیاقت کو رخصت کرنے والوں کی آمد کے لیے کم پڑ گئیں۔ 11 بجے ادا کیا جانے والا نماز جنازہ 15 منٹ تاخیر سے ادا کیا گیا مگر سائیں لیاقت کے چاہنے والوں نے شدید گرمی میں جنازہ ادا کیا اور اپنی دعاؤں کے سائے میں سائیں لیاقت کو رخصت کیا۔مظفرآباد گوجرہ کے رہائشی مجزوب اور معروف شخصیت لیاقت سائیں کے انتقال کی خبر جنگل میں آگ کی طرح اندرون و بیرون ممالک پھیل گئی اور سوشل میڈیا پر ٹاپ ٹرینڈ بن گئی۔لیاقت سائیں ایک مجذوب مگر ہردل عزیز عوامی شخصیت تھے۔ جو اکثر و بیشتر مظفرآباد کی سڑکوں پر دیگچہ،گلوب،یا دیگر لوہے سلور تانبے کی اشیاء گھسیٹتے نظر آتے تھے۔ہر مرد وزن یوتھ ان سے محبت و عقیدت رکھتی تھی۔انکی وفات پر ہر آنکھ اشک بار ہو گئی۔کئی ایک ناعاقبت اندیشوں نے اپنے اندر کی غلاظت کو سوشل میڈیا کی نظر کیا مگر اللہ والوں نے اللہ والے کے جنازے میں جوق در جوق شامل ہو کر ثابت کر دیا کہ عزت و شکت اسی کے ہاتھ میں ہے۔سائیں لیاقت کا جنازہ اس بات کا بھی غماز ہے کہ مجزوب ہونا الگ بات ہے اور اللہ کے ہاں محبوب ہونا الگ،سائیں لیاقت ایک بڑے اور شریف النفس خاندان کا کے چشم وچراغ تھے اس خاندان نے ہمیشہ شہر کی تعمیر وترقی خوشحالی کے لیے کردار ادا کیا اور کر رہے ہیں آج بھی اپر گوجرہ میں سائیں لیاقت چوک موجود ہے۔

 


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481