اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

۔۔۔ لاجواب غزل ۔۔۔

FB IMG 1728372926442 2

غزل

 

دیکھا نہیں ہے آنکھ نے کچھ بھی سوائے خواب
اور خواب بھی نئے نہیں، دیکھے دکھائے خواب

راتوں کی خاک چھاننے والوں سے تجھ کو کیا
تیرے تو پورے ہو گئے بیٹھے بٹھائے خواب

تعبیر وہ بھی بانٹتے پھرتے ہیں شہر میں
دیکھی نہیں جنہوں نے کبھی شکل ہائے خواب

پیشِ نظر ہے تیرگی اور ایسی تیرگی
منظر تو دُور آنکھ سے دیکھا نہ جائے خواب

رستے ہمارے! حاجتوں نے کر دیے جدا
رختِ سفر میں رہ گئے رکھے رکھائے خواب

ٹُوٹے تو ٹوٹنے کا بھی احساس کب ہُوا
کِس احتیاط سے مجھے اُس نے دکھائے خواب

۔۔۔۔۔۔

 


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481