اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

جینریشن زی(Generation Zee) کا رواں صدی میں پہلا عوامی انقلاب

ab4f2b34 7e04 4231 8a15 bedc9d06d386

5 اگست2024کو شیخ حسینہ واجد سابق وزیر اعظم بنگلا دیش اور سربراہ عوامی لیگ کی اپنے ہی شہریوں پر بدترین ریاستی پر جبرو تشدد، ریاستی وسائل کے چنیدہ اشرافیہ میں ارتکاز، غیر منصفانہ پالیسیوں اور ان تمام برائیوں سے بڑھ کر پست ترین درجہ کی سماجی نا انصافیوں جن میں سال ہا سال سے ریاستی ملازمتوں میں سال ۱۹۷۱ کی جنگ میں شامل افراد اور ان کے کنبہ جات کے لئے نافذ کردہ کوٹہ کے خلاف طلبا اور پڑھے لکھے بے روزگار نوجوانوں کی جولائی میں شروع ہونے والی احتجاجی تحریک جو ریاست کی جانب سے ظلم و تشدد اور قیمتی انسانی جانوں کے قتل کے نا قابل برداشت اقدامات کے نتیجہ میں پر تشدد صورت اختیار کرگئی،جس کے باعث عوامی انقلاب برپا ہوا اور شیخ حسینہ واجد کی قیادت میں قائم شیخ مجیب الرحمن کی عوامی لیگ کی حکومت کا تختہ الٹ دیا گیا۔

اس طرح اپنے حقوق کی جنگ لڑنے والی بنگلا دیشی عوام کا احتجاج رنگ لے آیا اور اس عوامی انقلاب کے سرخیل خاص کر بنگلادیشی نوجوان تھے۔آگے بڑھنے سے قبل اس مضمون کے عنوان یعنی جزیشن ذی اور مذکورہ انقلاب کو جنریشن ذی انقلاب قرار دینے کی وجہ واضح کرنا مناسب ہوگا۔ سال 2000کے بعد شروع ہونے والی رواں صدی کے دوران پیدا ہونے والی نسل انسانی کو جنریشن ڈی کا نام دیا گیا ہے۔ مزاحمتی تحریکوں کے تجزیہ کار موجودہ صدی کی پروان کردہ نسل کی جانب سے بنگلا دیش کی حالیہ احتجاجی تحریک اور پر تشدد مزاحمتی انقلاب کو جزیشن ذی انقلاب کا نام دیا ہے۔ گویا رواں صدی میں ریاستی ظلم و جبر، سماجی نا انصافیوں اور اپنے انسانی بنیادی حقوق اور انصاف کے حصول کے لئے مزاحمت اور منظم تحریک کی کامیابی کا پہلا انقلاب ماہ اگست ۲۰۲۴ کو بنگلا دیش میں برپا ہوا۔

سرکاری ملازمتوں میں سال ۱۹۷۱ کی عوامی لیگ کے خلفشاریوں اور انکی اولادوں اور اسی عنوان کے تحت خالصتا عوامی لیگ کے حمایت یافتہ لوگوں کے لئے ۳۰ فیصد اور مجموعی طور پر میرٹ سے ہٹ کر ۵۶ فیصد کوٹہ مقرر ہونے کے خلاف جولائی ۲۰۲۴ میں بنگال دیشی تعلیمی اداروں کے طلباء نے منظم طور پر احتجاجی تحریک کا آغاز کیا۔ اس طلبا احتجاجی تحریک کیقیادت کرنے والے سرخیل ڈھا کہ یونیورسٹی کے سوشیالوجی شعبہ کے طالب علم نائید الاسلام ہیں۔ جن پر پولیس اور دیگر ایجنسیوں نے بدترین تشدد کیا مگر اس جوان نے حکومت کے سماجی انصاف کے اصولوں کی پامالی کو بے نقاب کرنے اور نیا جمہوری بنگلا دیش بنانے کے اپنے فولادی عزم کی بنیاد پر طلبا احتجاجی تحریک کو اپنے منطقی انجام تک پہنچا دیا۔

ناہید الاسلام کے والد ایک معلم ہیں ان کے بھائی نے اپنے ایک انٹرویو میں ناہید الاسلام پر پولیس کے بدترین تشدد کے خلاف ان کے فولادی جذبہ اور طلبا قیادت کی ذمہ داریوں کو کما حقہ پورا کرنے کے غیر متزلزل ایمان اور حوصلہ کو فخریہ انداز میں بیان کیا ہے۔یاد رہے کہ 15اگست1975 کو شیخ مجیب الرحمن کی ہلاکت اور ان کی اہلیہ بچوں سمیت بارہ افراد کنبہ کی ہلاکت کے بعد ان کی بیٹی پندرہ سالوں سے اقتدار اور لگ بھگ بیس سالوں سے سیاسی طور پر متحرک رہنے والی بیٹی کو اقتدار کے ساتھ ساتھ ملک سے ہی بھاگنا پڑا۔ شیخ حسینہ واجد سابق وزیر اعظم بنگلا دیش ایک فوجی ہیلی کاپٹر میں ملک سے فرار ہو کر اپنے فاشسٹ نظریات کے گرو فاشسٹ نریندرا مودی کے پاس بھارت پہنچ گئیں مگر ناکامی کا کوئی باپ نہیں ہوتا۔ چنانچہ نریندرا مودی انھیں عارضی پناہ دینے پر راضی ہوا اور بھارت میں ان کے مستقل قیام سے انکار کر دیا گیا۔

شیخ حسینہ واجد اس وقت جائے پناہ کے لئے کشکول لے کر برطانوی حکومت سے پناہ اور مستقل قیام کی بھیک مانگ رہی ہیں۔ ان کی بہن ریحانہ واجد برطانوی شہری اور بھانجی برطانوی پارلیمنٹ کی ممبر ہیں مگر ابھی تک ان کی درخواست پر کوئی شنوائی نہ ہو سکی۔ البتہ بنگلا دیش میں حکومت سے ظلم و تشدد کے نتیجہ میں چار سو کے قریب انسانی جانوں کے ضیاع اور پر تشدد اقدامات کو برطانوی وزیر خارجہ نے المناک واقعات قرار دے کر اقوام متحدہ کی نگرانی میں مکمل تحقیقات کا مطالبہ کر دیا ہے۔ شیخ حسینہ واجد کی بدبختی کہ انہوں نے بھارتی گجرات کے قصاب، مذہبی جنونی، ہندو توا کے پجاری، نازی ہٹلر اور اسرائیلی نسل کشی کی پالیسیوں کے پیروکار فاشسٹ نریندرا مودی کی شاگردگی اختیار کر لی تھی۔ شیخ حسینہ نے پاکستان کے خلاف مودی کی زبان بولنا اور نفرت پھیلانا شروع کر رکھا تھا۔ شیخ مجیب الرحمن کی بیٹی نے اپنے ہی ملک کے لوگوں کو جائز حقوق مانگنے پر غدار قرار دیا۔ تشدد اور غیر انسانی ہتھکنڈوں سے عوام کے حقوقکو غصب کرنے اور عوام کی جمہوری آوازوں کو خاموش کرنے کی پالیسی اختیار کر رکھی تھی۔

انہوں نے اپنے لئے بھارتی فاشسٹ نریندرا مودی کی پشت پناہی کا انتخاب کر لیا تھا۔ انہوں نے اپنے طویل دورپر پولیس اور دیگر ایجنسیوں نے بدترین تشدد کیا مگر اس جوان نے حکومت کے سماجی انصاف کے اصولوں کی پامالی کو بے نقاب کرنے اور نیا جمہوری بنگلا دیش بنانے کے اپنے فولادی عزم کی بنیاد پر طلبا احتجاجی تحریک کو اپنے منطقی انجام تک پہنچا دیا۔ نائید الاسلام کے والد ایک معلم ہیں ان کے بھائی 0 الاسلام نے اپنے ایک انٹرویو میں نائید الاسلام پر پولیس کے بدترین تشدد کے خلاف ان کے فولادی جذبہ اور طلبا قیادت کی ذمہ داریوں کو کما حقہ پورا کرنے کے غیر متزلزل ایمان اور حوصلہ کو فخریہ انداز میں بیان کیا ہے۔یاد رہے کہ ۱۵ اگست ۱۹۷۵ کو شیخ مجیب الرحمن کی ہلاکت اور ان کی اہلیہ بچوں سمیت بارہ افراد کتبہ کی ہلاکت کے بعد ان کی بیٹی پندرہ سالوں سے اقتدار اور لگ بھگ بیس سالوں سے سیاسی طور پر متحرک رہنے والی بیٹی کو اقتدار کے ساتھ ساتھ ملک سے ہی بھاگنا پڑا۔

 

شیخ حسینہ واجد سابق وزیر اعظم بنگلا دیش ایک فوجی ہیلی کاپٹر میں ملک سے فرار ہو کر اپنے فاشسٹ نظریات کے گرو فاشسٹ نریندرا مودی کے پاس بھارت پہنچ گئیں مگر ناکامی کا کوئی باپ نہیں ہوتا۔ چنانچہ نریندرا مودی انھیں عارضی پناہ دینے پر راضی ہوا اور بھارت میں ان کے مستقل قیام سے انکار کر دیا گیا۔ شیخ حسینہ واجد اس وقت جائے پناہ کے لئے کشکول لے کر برطانوی حکومت سے پناہ اور مستقل قیام کی بھیک مانگ رہی ہیں۔ ان کی بہن ریحانہ واجد برطانوی شہری اور بھانجی برطانوی پارلیمنٹ کی ممبر ہیں مگر ابھی تک ان کی درخواست پر کوئی شنوائی نہ ہو سکی۔ البتہ بنگلا دیش میں حکومت سے ظلم و تشدد کے نتیجہ میں چار سو کے قریب انسانی جانوں کے ضیاع اور پر تشدد اقدامات کو برطانوی وزیر خارجہ نے المناک واقعات قرار دے کر اقوام متحدہ کی نگرانی میں مکمل تحقیقات کا مطالبہ کر دیا ہے۔ شیخ حسینہ واجد کی بد بختی کہ انہوں نے بھارتی گجرات کے قصاب، مذہبی جنونی، ہندوتوا کے پجاری، نازی ہٹلر اور اسرائیلی نسل کشی کی پالیسیوں کے پیروکار فاشسٹ نریندرا مودی کی شاگردگی اختیار کر لی تھی۔

شیخ حسینہ نے پاکستان کے خلاف مودی کی زبان بولنا اور نفرت پھیلانا شروع کر رکھا تھا۔ شیخ مجیب الرحمن کی بیٹی نے اپنے ہی ملک کے لوگوں کو جائز حقوق مانگنے پر غدار قرار دیا۔ تشدد اور غیر انسانی ہتھکنڈوں سے عوام کے حقوق کو غصب کرنے اور عوام کی جمہوری آوازوں کو خاموش کرنے کی پالیسی اختیار کر رکھی تھی۔ انہوں نے اپنے لئے بھارتی فاشسٹ نریندرا مودی کی پشت پناہی کا انتخاب کر لیا تھا۔ انہوں نے اپنے طویل دورگردی پھیلانے اور نفرت انگیر کاروائیوں کی مالی اور مادی پشت پناہی کا منطقی انجام بھی ہندوستان کی تباہی پر منتج ہونا فطری نتیجہ ہے۔ڈاکٹر محمد یونس نے بنگلا دیش کی نوجوان طلبا کی درخواست پر عبوری حکومت کی سربراہی قبول کرتے ہوئے بیان دیا کہ بنگلا دیش کو نوجوانوں اور طلبا نے بچا لیا ہے اور ان کی مدد سے ہی ملک کو معاشی لحاظ سے مستحکم کریں گے۔ پاکستان کے عوام کی خواہش اور دعا ہے کہ بنگلا دیش میں رونما ہونے والے انقلاب کے حقیقی مقاصد پورے ہوں اور سینکڑوں انسانی جانوں کی قربانیوں اور عوامی جدوجہد کی عملی تعبیر کے طور پر صاف و شفاف انتخابات اور صحیح معنوں میں جمہوری حکومت وجود میں آکر اپنی عوام کی امنگوں اور ان کی توقعات کے مطابق انسانی بنیادی حقوق کو حد درجہ مقدم اور سماجی انصاف کے تمام تقاضوں کو پورا کرتے ہوئے ملک اور عوام کی معاشی ترقی اور خوشحالی کو یقینی بنائے گی۔اور عوامی انقلاب کے بعد قائم ہونے والی جمہوری اور عوامی حکومت کسی طور اپنے پیشر و حکمرانوں کی روش اختیار نہ کرے گی بلکہ ان کے بدترین اور رسوائے زمانہ انجام کو ہر لمحہ پیش نظر رکھتے ہوئے عوامی فلاحی کے مقدس منشور کو ہی مقدم تصور کرکے حبیب جالب کے ذیل اشعار کو اپنی یادداشت کا حصہ بنائے رکھے گی:۔
تم سے پہلے وہ جو ایک شخص تخت نشین تھا
اس کو بھی اپنے خدا ہونے کا اتنا ہی یقین تھا
کوئی ٹھہراہوجو لوگوں کے مقابل تو بتاو
کہ کہاں ہے وہ جنھیں ناز بہت اپنے تہیں تھا


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481