Notice: Function _load_textdomain_just_in_time was called incorrectly. Translation loading for the jetpack domain was triggered too early. This is usually an indicator for some code in the plugin or theme running too early. Translations should be loaded at the init action or later. Please see Debugging in WordPress for more information. (This message was added in version 6.7.0.) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 6131
اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

کتوں کو زیادتی کے بعد قتل کرنے والے ماہر حیوانیات کو 10 سال قید کی سزا

کتوں کو زیادتی کے بعد قتل کرنے والے ماہر حیوانیات کو 10 سال قید کی سزا

کتوں کو زیادتی کے بعد قتل کرنے والے ماہر حیوانیات کو 10 سال قید کی سزا

آسٹریلیا میں کتوں کو زیادتی کے بعد قتل کرنے والے برطانوی ماہر حیوانیات کو 10 سال سے زائد قید کی سزا سنادی گئی ہے۔

مشہور زولوجسٹ ایڈم رابرٹ کارڈن بریٹن نے کتوں کے ساتھ بد سلوکی کرنے اور انہیں زیادتی کا نشانہ بناکر قتل کرنے جیسے متعدد جرائم کا اعتراف کرلیا ہے۔

ماہر حیوانیات رابرٹ بریٹن بی بی سی اور نیشنل جیوگرافک کیلئے مگرمچھ کے ماہر کے طور پر بھی کام کرچکے ہیں ان پر بدترین جرائم کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔

رابرٹ کو سزا سنانے والے جج نے کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے ریمارکس دیے کہ آپ کے جرائم انسانی تصورات سے باہر ہیں، سوسائٹی حیوانات پر تشدد اور ظلم کو ایک غیر اخلاقی جرم سمجھتی ہے، جس کی بھرپور مذمت کی جاتی ہے۔

غیر ملکی میڈیا رپورٹ کے مطابق رابرٹ بریٹن نے چارلس ڈارون یونیورسٹی میں سینئر تحقیقاتی رکن کے طور پر کام کیا، اس نے 2014 میں اس بدترین جرم کا آغاز کیا اور اپریل 2022 میں اسے گرفتار کیا گیا۔

رابرٹ بریٹن نے 42 سے زائد کتوں پر تشدد اور ان کا جنسی استحصال کرنے سے متعلق 56 الزامات کو قبول کرلیا ہے، جن میں سے کم از کم 39 کتوں کو ہلاک کردیا گیا تھا۔

برطانوی ماہر حیوانیات کی سزا میں زندگی بھر کسی بھی جانور کو اپنی ملکیت میں رکھنے پر بھی پابندی عائد کردی گئی ہے۔

عدالت کی جانب سے سنائی جانے والی سزا کو آسٹریلیا کی جانوروں کے حقوق سے متعلق کام کرنے والی تنظیم نے بہت کم سزا قرار دیا ہے۔


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481