اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

فارسی نظم "کرمِ کتابی”

images 24

کرمِ کتابی

علامہ اقبال

 

شنیدم شبے در کتب خانہٗ من
بہ پروانہ می گفت کرمِ کتابی

بہ اوراقِ سینا نشیمن گرفتم
بسے دیدم از نسخہٗ فاریابی

نفہمیدہ ام حکمتِ زندگی را
ہماں تیرہ روزم زبے آفتابی

نکو گفت پروانہٗ نیم سوزے
کہ ایں نکتہ را در کتابے نیابی

تپش می کند زندہ تر زندگی را
تپش می دہد بال و پر زندگی را

از پیامِ مشرِق

ترجمہ
محمد خلیل الرحمٰن

سنا ہے کہ میری کتابوں میں اِک شب
پتنگے سے کہتا تھا کرمِ کتابی

کہ اوراقِ سینا میں گھر بھی بنایا
بہت پڑھ لیا نسخہٗ فاریابی

نہیں پاسکا حکمتِ زندگی کو
وہی بد نصیبی، وہی ہے خرابی

کہا تب جلے تن پتنگے نے اُس کو
کہ نکتہ نہیں ہے یہ ہرگز  کتابی

تڑپ سے حرارت ہے اِس زندگی میں
اصل شے محبت ہے اِس زندگی میں

 

بہ شکریہ فیس بک گروپ "آموزش گاہ فارسی”


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481