اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

صلاح الدین ( ہوزے ) کا قبول اسلام

dd3ab8cd 3895 4f5a aebb 3f48818c6061

فالسم کی مسجد میں گزشتہ روز نماز جمعہ کے بعد اسلام قبول کرنے والا ۳۷ سالہ نومسلم صلاح الدین ( سابق ہوزے ) سابق فوجی اور شوقیہ باکسر ہے۔اس کا آخری اسائنمنٹ عراق میں تھا، جہاں وہ سڑک کے ایک برے حادثے میں شدید زخمی ہوا،اس کے جسم میں متعدد فریکچرز آئے، ریڑھ کی ہڈی بری طرح متاثر ہوئی۔اسے واپس امریکہ لایا گیا۔برسوں علاج ہوا۔وہ شروع ہی سے عام امریکی نوجوانوں اور فوجیوں سے مختلف تھا۔وہ ان عام برائیوں سے دور رہتا تھا جن کو امریکی معاشرے میں عام طور پر برا نہیں سمجھا جاتا۔اسے اپنے اندر خدا اور حضرت عیسی علیہ السلام کے باپ بیٹے کے عقیدے کے بارے میں تحفظات محسوس ہوتے تھے اور وہ اس تعلق کو ماننے پر تیار نہیں تھا۔وہ سوالات کرتا تھا لیکن اس کو ان کے تسلی بخش جوابات نہیں ملتے تھے۔ وہ مسلسل غور کرتا رہتا تھا۔

013ba1ef 78e8 4f2d 97a0 73e9aa004714صلاح الدین ( ہوزے ) صاحب تحریر کے ساتھ

بغداد ہی میں تھا کہ ایک دن وہ فجر کے وقت وہاں کی ایک بڑی خوب صورت نیلے گنبد والی مسجد میں یونیفارم کے ساتھ ہی چلا گیا۔اس کا اس مسجد میں جانا اس کی زندگی بدلنے کی وجہ بن گیا۔وہ ہر عمر کے نمازیوں کو فجر کی نماز پڑھتے دیکھ کر حیران رہ گیا۔امام کی نماز میں خوش الحانی کے ساتھ تلاوت نے اسے بڑا سکون اور اطمینان کا احساس دلایا۔اسے کلام الٰہی آسمان سے نازل ہوتا ہوا محسوس ہوا جو دل میں اثر کرتا، اترتا ہی چلا گیا۔ مسجد کے اس ایک نظارے نے ہوزے کی دل کی دینا ہی اتھل پتھل کردی اور اس نے مسلمانوں کے خلاف اس پروپیگنڈے کے غبارے سے ہوا ہی نکال دی جو اس کو فوج میں ہر وقت سننے کو ملتا رہتا تھا کہ مسلمان بڑے غیر مہذب ہیں شدت پسند ہیں ، خونخوار ہیں، جنگلی ہیں اور انسانیت کے دشمن ہیں اور خدا کے بیٹے ( العیاذ باللہ ) حضرت عیسی علیہ السلام کے دشمن ہیں۔اس نے سوچا جو لوگ کسی بھی دوسرے مذہب سے زیادہ دن میں پانچ بار خدا کے سامنے گڑ گڑاتے ہوں، سجدہ ریز ہوتے ہوں ، ہر وقت اس کو یاد کرتے ہوں، اسی سے دعائیں کرتے ہوں اور ایک دوسرے کے ساتھ اخوت کے ساتھ اور امن وامان کے ساتھ رہتے ہوں۔وہ کیسے اچھے انسان نہیں ہو سکتے؟

 

اس نے فیصلہ کیا وہ مذہب کے بارے میں حق اور سچ جان کر رہے گا۔ اس نے اس کا آسان طریقہ یہ نکالا کہ یو ٹیوب پر مختلف مسلم اسکالرز کو سننا شروع کیا۔اسے زمبابوے کے مفتی مہنک ( Mufti Menk ) کا انداز بھا گیا، جن کا پورا نام مفتی اسمعیل ابن موسی مہنک ہے۔ ان کے چھوٹے چھوٹے کلپس کو سننا شروع کیاجن میں مزاح کا پہلو بھی تھا۔ وہ اسلام کے قریب آتا گیا۔اس نے اسلام کی طرف اپنے میلان کا تذکرہ اپنی ماں سے کیا۔پہلے تو وہ بڑی ناراض ہوئی، سٹپٹائی اور اسے اس کا ذہنی خلل سمجھا تو اس کو علاج کےلئے اپنے ایک معتمد فادر کے پاس لے کر گئی کہ اسے سمجھاؤ۔اس کا علاج کرو۔ یہ پاگل ہو رہاہے۔یہ گمراہ ہو رہاہے لیکن ہوزے پر اس فادر کا جادو بھی نہ چل سکا۔

پھر اس نے سیرت رسول صلی اللہ علیہ وسلم پڑھنی شروع کی تو اس پر اسلام کے دروازے مزید کھلتے چلتے گئے۔اسی دوران اسے پتہ چلا کہ اسلام میں حضرت عیسی علیہ السلام کو ایک بڑے عالی مرتبت رسول کا درجہ حاصل ہے اور ان پر ایمان لانا مسلمان ہونے کی شرط ہے۔ان پر ایمان لائے بغیر کوئی مسلمان نہیں ہو سکتا۔اس کی بیوی اس کی اس ماہیت قلبی کو دیکھ رہی تھی۔وہ اس کے ساتھ مخلص تھی۔اس نے سچ کی تلاش میں کوئی بھی رکاوٹ نہ ڈالی اور اس کی حوصلہ افزائی کی۔

اس کو امید ہے کہ ایک دن اس کی بیوی اور اس کے خاندان کے دوسرے افراد بھی دائرہ اسلام میں داخل ہو جائیں گے۔وہ مسلمان ہو کر بڑا خوش ہے۔وہ اس بات پر بڑا خوش ہے کہ اس کا مسلم کمیونٹی نے دل کھول کر استقبال کیا ہے، اس کو گلے لگایا ہے اور ہر ممکن تعاون کا یقین دلایا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمارے اس بھائی کو استقامت دے اور اس راہ میں آنے والی مشکلات سے دور رکھے اور آسانیاں پیدا کرے۔ ایک مسلمان کے طور پر آج ہفتے کا دن اس کا پہلا دن تھا۔ ہم نے اس کو فون کیا تو وہ بہت خوش ہوا اور اپنے بارے میں کھل کر بات چیت کی۔اسی کا خلاصہ پیش کیا ہے۔


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481