اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

لاجواب اردو غزل

Picsart 24 03 23 14 45 26 531

غزل

اپنے حالات کے دھاگوں سے بُنی ہے مَیں نے
آج اک تازہ غزل اَور کہی ہے مَیں نے

کِس ضرورت کو دباؤں، کِسے پورا کر لوں
اپنی تنخواہ کئی بار گِنی ہے مَیں نے

میں تو جیسا بھی ہوں، سب لوگ مُجھے جانتے ہیں
تِرے بارے میں بھی اِک بات سُنی ہے مَیں نے

"چھوٹے” لوگوں کو "بڑا” کہنا پڑا ہے اکثر
ایک تکلیف کئی بار سہی ہے مَیں نے

زندگی نے مُجھے سِینے سے لگا رَکھّا ہے
جان جس دن سے ہتھیلی پہ دَھری ہے مَیں نے

اپنے عَیبوں کو عَیاں کر کے خَجِل ہوں، لیکن
یہ جسارت بھی اگر کی ہے، تو کی ہے مَیں نے

ایک سے دُوسرا انسان جُدا ہے نُصؔرت
ہر جبیں پر نئی تحریر پڑھی ہے مَیں نے

 

نصرت صدیقی


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481