اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

شاعری کا عالمی دن اور صحرائے تھر کے رومانوی دوہے

IMG 20240316 WA0378

شاعری کا عالمی دن اور صحرائے تھر کے رومانوی دوہے
بھارومل امرانی

صحرائے تھر میں ریت کے ٹیلوں پر کبھی زندگی تلخ تر ہو جاتی ہے، تو کبھی رومان پرور محسوس ہونے لگتی ہے۔ کبھی ایسا سکون محسوس ہوتا ہے کہ دل کی دھڑکن اور زمین کی گردش تک سنی جا سکتی ہے۔ کبھی ہواؤں کا ایسا شور اٹھتا ہے کہ اپنا کہا بھی سنا نہیں جا سکتا۔ کبھی آسمان اتنا قریب محسوس ہوتا ہے کہ دل بے چین ہوکر ستاروں کو چھونے کے لیے مچلتا ہے۔ کبھی وہ اتنا دور لگتا ہے کہ ستارے بھی نظر نہیں آتے۔ کبھی ہاڑ میں گھنگھور گھٹائیں برستی ہیں اور کبھی ساون میں بادل برسے بغیر چلے جاتے ہیں۔ کبھی ریت کے ٹیلے مور کے پنکھوں میں تبدیل ہو جاتے ہیں اور کبھی وادی ویران سی لگتی ہے۔ کبھی صحرا کی چاندنی رات میں پیلو کے درخت کے پیچھے بادلوں میں چھپتے ہوئے چاند کا حسین روپ من موہنا لگتا ہے۔ کبھی دور افق پر چاند روٹی کی صورت میں دکھائی دے کر بھوک کی شدت میں اضافہ کر دیتا ہے۔ کبھی طلوعِ سحر کے وقت آسمان سرخ نظر آتا ہے تو کبھی غروبِ آفتاب کے وقت گہرے نارنجی رنگ میں نہا جاتا ہے۔ فطری مناظر سے لے کر انسانوں کے درمیان نازک و پیچدہ رشتوں تک صحرائے تھر کے اپنے رنگ، روپ، دکھ اور سکھ ہوتے ہیں۔

مارو لوگ اپنی دھرتی، تاریخ، تہذیب، ثقافت اور ماحول سے بہت محبت کرتے ہیں۔ صدیوں کے سفر میں اپنے دکھ سکھ، رومان کے رنگ و روپ، تمناؤں کےخواب و خیال، معاشرتی زندگی کے رسم و رواج ، تہذیب و ثقافت سے جڑے جذبات اور احساسات منفرد قصوں کہانیوں اور لوک شاعری میں بیان کر دیتے ہیں۔

جس طرح صحرائی ہوا ریت کے ٹیلوں کو ہر پل ایک نئی صورت دیتی ہے، اسی طرح لوک موسیقی صحرائی لوگوں کی زندگی کے منفرد پہلوؤں کو اجاگر کرتی ہے۔ لوک موسیقی کے ساتھ قصہ گوئی کی روایت قدیم زمانے سے چلی آ رہی ہے۔ صحرائے تھر کے قصہ گو لوک کہانی سنانے کے دوران اپنی آواز کے اتار چڑھاؤ اور حرکات و سکنات سے کہانی میں جان ڈالتے ہوئے، رومانوی دوہے سناتے ہیں اور لوک موسیقی میں گاتے ہیں۔ صحرا کے دوہوں میں صحرائی لوگوں کی دنیا دل کش اور خوب صورت لگتی ہے۔ صحرائے تھر کے لوک رومانوی دوہے سنتے ہوئے محسوس ہوتا ہے کہ گرم صحرا میں کیسے نرم دل باشندے رہتے ہیں ۔

صحرائے تھر کے رومانوی دوہوں میں پاکیزہ خلوص، موتیوں جیسے سچے جذبے، سمندروں کے پاتال سے گہری محبت کے احساسات سمائے ہوئے ہیں ۔ یہ دوہے سنتے ہوئے عقل عشقِ لاحاصل میں تبدیل ہو جاتی ہے۔

چاند بدنی مرگھ نینی گیور چال چلنت،
ہیک تجھ میں اوگن بھیو، پپیل کیوں ڈھال ڈھلنت۔

(اے حسین کامنی تم سمیں بدن اور آہو چشم ہو، فیل خرامی کے با وجود تمھارے حسن میں ایک کمی سی ہے تمھارے سینے کا کساؤ نرم ہو گیا ہے۔)

میں جانیو مورکھ مئا، مورکھ بہوں جیونت،
ہاتھ گڈھ گرے پپیل کیوں، نہیں ڈھال ڈھلنت

(میں سمجھتی تھی کہ بے وقوف مر گئے ہیں لیکن ابھی تک بہت سے موجود ہیں ۔ (مرد کے) ہاتھوں سے تو قلعے گر جاتے ہیں اس سینے کی سختی کیوں کر قائم رہ سکتی تھی ۔)

اری ملنت آنند بھیو ،سکھ سین کاٹی رین،
جو سکھ کانے نہیں سوئا ،سو سکھ دیکھا نین ۔

(دشمن کے ملنے سے راحت ملی ہے اور سکون سے رات گزری ہے۔ جس سکھ کا ذکر کانوں نے کبھی نہیں سنا تھا وہ آج آنکھوں سے دیکھا ہے۔)

سو سجن واری کروں ایک درجن کی دیکھ،
رجنی کا میلا کیا ،انگ ودھی کی ریکھ۔

(اے میرے ساجن میں سو بار دشمن کی نگاہ پر واری جاؤں کہ اسی نگاہ نے ہمارے شب کے ملن کو ممکن بنایا ہے ۔ یہ مقدر میں لکھا ہوا تھا ورنہ کسی صورت یہ ملاقاتِ شبینہ ممکن نہیں تھی۔)

چمپا تیں میں تین گن، رنگ روپ آن واس،
ایسا اوگن کونسا بھیا، بھونرا آوے نا پاس !؟

(اے چمپا تجھ میں تین گُن، رنگ، روپ اور خوش بو ہیں۔ لیکن ایسی کون سی خامی ہے کہ جس کی وجہ سے بھونرا تمھارے پاس نہیں ٓآتا !؟)

چمپا ورنی رادھیکا، میں اسی کا داس،
اس کارن چمپا کے، بھونرا آوے نا پاس۔

(رادھیکا چمپا کے رنگ جیسی ہے، میں اس کا چاکر ہوں، اسی وجہ سے بھونرا چمپا کے پاس نہیں آتا ۔)

ساجن ہون تھانری تھکی، وساں سمھلے واس ،
کم کران گھری آپرے، جی تمھارے پاس ۔

(ساجن! میں تمھارے نام سے سے منسوب ہوچکی ہوں۔ کام اپنے گھر پہ کرتی ہوں مگر دل تمھارے پاس ہوتا ہے۔)

نہ مڑوا بھلو، نہ بچھڑوا بھلو ،تج دونوں کا سنگ
بچھڑتے مُئی مچھلی، ملتے مریو پتنگ۔

(نہ ملنا اچھا ہے نہ ہی بچھڑنا، دونوں کا ساتھ چھوڑ دو پانی سے جدا ہوتے ہی مچھلی مر جاتی ہے اور ملن سمے پتنگا مر جاتا ہے۔)

ہائے سکھی تو پوچھتی، مونا آوے لاج،
پڑوا پیچھے آونت ہے، کنت لاوے آج؟

(اے میری سکھی تم سےپوچھتے ہوئے مجھے لاج آ رہی ہے ۔چاند کی پہلی تاریخ کے بعد جو تاریخ آتی ہے کیا وہی تیرا شوہر آج لے کے آ رہا ہے یعنی دوسری شادی کر کے تیرے لیے سوکن لا رہا ہے۔)

ساجن ايسا کيجئے، جيسا گام میں چتر هوءِ.
بھمرے جیئن بھنکا کرے مکھ نا چڑہے کوءِ.

(ساجن ايسا ہونا چاہیے جیسے گاؤں میں دانا ہوتا ہے. بھنورے کی مانند بولتا رہے، لیکن بولنے سے کوئی روکے نہیں۔)

ساجن ايسا کيجئے، جيسا سارس هوءِ،
ايکلڑا جيوے نهيں، ساتھہ مرتا دوءِ.

(ساجن ايسا ہونا چاہیے جیسے سارس ہوتا ہے۔ وہ اکیلا جی نہیں پاتا، اپنے ساتھی کے ساتھ مر جاتا ہے۔)

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

بھارومل امرانی شاعر، ادیب اور ماحولیاتی کارکن ہیں، ان کا ای میل ایڈریس ہے۔
Bharumal.amrani5@gmail.com


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481