اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

21 فروری یومِ مادری زبان کا تارِیخی پس منظر

landscape 3 2 1753472401152 1

اللّٰہ کرِیم ، قُرآنِ پاک کی سُورہ ابراہیم کی آیت نمبر 4 میں فرماتا ہے :-
” ہم نے اپنا پیغام دینے کے لیے جب کبھی کوئی رسُول بھیجا، اُس نے اپنی قوم ہی کی زُبان میں پیغام دِیا تاکہ وہ اُنہیں اچھی طرح بات کھول کر سمجھائے ۔ پھر اللّٰہ جِسے چاہتا ہے بھٹکا دیتا ہے اور جِسے چاہتا ہے ہدایت بخشتا ہے ، وہ بالا دست اور حکیم ہے۔”

مسلمان سائنس دانوں کی دریافتوں (ایجادات) کی بدولت چھٹی سے تیرہویں صدی یعنی 800 سال تک یورپ میں عربی زُبان کی حُکمرانی تھی جبکہ چودہویں سے سولہویں صدی تک یہاں لاطینی زُبان کا طُوطی بولتا تھا ، لیکن یورپ کے ماہرینِ تعلیم اور دانشور حکمرانوں نے عربی اور لاطینی کو اپنے مُمالک کی تعلِیمی اور دفتری زُبان نہِیں بننے دِیا ، حالانکہ دونوں مذکُورہ ادوار میں عربی اور لاطِینی نہ جاننے والوں کو جاہل تصوّر کیا جاتا تھا، جیسے آج انگریزی نہ جاننے والوں کی کوئی مسلّم معاشرتی حیثیت نہِیں ۔ لیکن پاکِستانی حُکمرانوں نے انگریزی کو دفتری اور تعلِیمی زُبان بنا کر پاکستان کے بہترین دماغوں کو ناکارہ بنا دیا۔ نتِیجہ یہ نِکلا کہ یورپ کا پہلا ہُنر مند مداری (راجر بیکن) سائنس دان کہلایا اور ہمارے معاشرے کی ریڑھ کی ہڈی کہلوانے والے "ہُنر مند” لوہار ، موچی ، درزی اور جولاہے کہلوانے لگے ۔
معرُوف عسکری ماہرِ لسانیات جناب شفیع منصُور کہتے ہیں ” اُردُو کی حیثِیت اور اہمیّت اُس وقت تک واضح نہیں ہو گی جب تک اِسے صوبائی اور مرکزی سطح پر دفتروں میں رائج نہیں کیا جاتا ۔ جب تک مرکز میں انگریزی کی اجارہ داری ختم نہیں ہوتی اُردُو کی تدرِیسی حیثِیت کا تعیّن بھی نہِیں ہو سکے گا ۔ ہمیں دراصل یہ تحرِیک چلانی چاہیے کہ مرکزی حکُومت اُردُو کو اِس کا مقام دے اور اِسے سرکاری دفتری زُبان بنائے "۔
ڈاکٹر جمیل جالبی فرماتے ہیں :-
"قوم کی ذہانت اور صلاحیتوں کے قطرے انگریزی زُبان کے سمندر میں گِر کر معدُوم ہو رہے ہیں”۔
انگریزی زُبان اور مُعاشرے کی سامراجیت کو معرُوف دانِشور اوریا مقبول جان یوں بے نقاب کرتے ہیں ۔” اِس ساری مُنافقت کا ایک اور سانحہ یہ ہے کہ اب ہر گلی محلّے میں ایسے سکول اور کالج کھُل گئے ہیں جہاں پر میٹرک سے ہی امتحان یورپ کی یُونِیورسِٹیاں لیتی ہیں اور پھِر یہ پاس ہونے والے طلباء صِرف مغرب میں تعلِیم حاصِل کرنے اور وہِیں آباد ہو جانے کا خواب دیکھتے ہیں۔ اِس وقت ہمارے لاکھوں انجینئر، پروفیسر اور سائنس دان مغرب جا بسے ہیں کِیُونکہ ہم نے اُنہیں تیار ہی اُس معاشرے کے لیے کیا تھا۔ ”
یاد رہے کہ نبئ کریم نے قیدیوں کو رہا کرتے وقت چار ہزار درہم فی قیدی یا دس مُسلمانوں کو پڑھانے لکھانے کی جو شرط رکھی تھی اُس شرط میں خطِیر رقم کی نِسبت پڑھنے لِکھنے کو ترجِیح حاصِل تھی۔ پڑھنے لکھنے میں مُختلِف علاقوں سے آئے قیدیوں سے اُن کی زُبان سیکھنا مقصُود تھا تاکہ بعد میں تبلِیغی مقاصد کے لیے اُنہی اقوام کی زبان کو افہام و تفہیم اور اُن کے حُکمرانوں سے تحرِیری رابطے کے لیے کام میں لایا جا سکے ۔
نبئ پاک نے فرمایا ” دُشمن کی زبان سِیکھو تا کہ اُس کے شر سے محفوظ رہ سکو”
21 فروری 1952ء کو ڈھاکہ کی سڑکوں پر ایسا واقعہ رُونما ہُوا جِس نے نئی ریاست بنگلہ دیش کی بُنیاد رکھی۔
1947ء میں جب برطانوی نو آبادیاتی حُکمران برِعظِیم سے واپس لوٹے اور یہاں مذہب و مُعاشی عدمِ تحفُّظ کی بُنیاد پر دو مُلک اِنڈیا اور پاکِستان وجُود میں آئے تو عدمِ اعتماد اس وقت بھی موجود تھا۔
دو ایسی قوموں کے ساتھ پاکِستان کی تخلِیق ہُوئی جِن کے مابین دو ہزار میل کا فاصلہ تھا، الگ زُبانیں بولتے تھے اور ثقافتی طور پر بھی یکساں نہِیں تھے ۔ ایسے میں نظریاتی اِختلافات ہونا ناگزیر تھے ۔ 21 فروری کو پیش آنے والا واقعہ اس تصادم کا حتمی اِظہار تھا ۔
فروری 1952ء میں پیش آنے والے خُونریز واقعے کی بُنیاد دونوں مُمالک کی تشکِیل سے پہلے ہی رکھی جا چُکی تھی ۔ عبدالمتین اور احمد رفیق نے اپنی کتاب "لینگوِج مُوومنٹ ہسٹری اینڈ سگنیفیکنس” یعنی ’تحرِیکِ زبان، تارِیخ اور اہمیت‘ میں لکھا "اوّلِین مُشکِل تو ادب اور ثقافت تک محدود تھی۔”
اُنھوں نے مزِید لکھا "زُبان کی یہ تحرِیک محض ایک الگ واقعہ نہیں تھا ، اِس سے دہائیوں قبل مُسلمان بنگالیوں میں سکیولر قوم پرست عناصر نشو و نُما پا رہے تھے۔”
جب یہ واضح ہو گیا کہ پاکِستان نام کا مُلک ہو گا تو اس بات پر بحث ہونے لگی کہ سرکاری زُبان کیا ہوگی اُردُو یا بنگلہ؟ حتیٰ کے کُچھ لوگوں کے ذہنوں میں عربی اور انگریزی زُبانیں بھی تھِیں۔ پاکِستان کے قیام کے وقت پاکِستان کی کُل چھ کروڑ نوّے لاکھ کی آبادی میں چار کروڑ چالیس لاکھ افراد بنگالی زبان بولتے تھے۔ پاکِستان کے قیام کے بعد اُس وقت علی گڑھ یونیورسٹی کے وائس چانسلر ضیا الدین احمد نے تجوِیز دی کہ اُردُو کو سرکاری زُبان قرار دیا جائے۔
پاکِستان کے قیام کے چند ماہ بعد ہی بنگلہ کو ڈاک و ریل کے ٹِکٹوں ، سِکّوں اور پوسٹ کارڈز سے ہٹا دیا گیا۔ تمام نقُوش اُردُو اور انگریزی میں چھاپے گئے ، حالانکہ آبادی کی اکثریت بنگلہ بولنے والوں کی تھی۔ بنگالیوں کے لیے یہ پہلا جھٹکا تھا۔ یہ وہ وقت تھا جب بنگالیوں کے دِلوں میں عدمِ اعتماد کا بیج پھُوٹنے لگا ۔ اُس وقت یہ واضح ہو چکا تھا کے اُردو ایک ایسی قوم پر مُسلّط کر دی جائے گی جو ایک یکسر مُختلِف مادری زُبان بولتے تھے ۔
سب سے پہلے مُصنّفِین اور صحافیوں نے اپنے خدشات کا اِظہار کِیا۔ اُس وقت کے مقبُول اخبار "مِلّت” نے اِداریہ شائع کِیا جِس میں لِکھا تھا "اپنی مادری زُبان کے بجائے کِسی دُوسری زُبان کو سرکاری زُبان کے طور پر قُبُول کرنا غلامی کے مترادف ہے۔”
اہم دستاویزات جیسے کہ ریل کے ٹکٹ ، ڈاک کی مہروں سے بنگلہ کے خارج کیے جانے کے بعد طلباء اور سِوَل سوسائٹی نے مُظاہرے کِیے۔ پاکِستان میں بنگالی زُبان بولنے والے سرکاری مُلازمِین نے بھی احتجاج کِیا۔ 1948ء میں اُس وقت کے مشرقی پاکِستان کے وزیرِ اعلٰی خواجہ ناظم الدین نے کہا کہ یہ چیزیں زُبان کے حوالے سے مباحثہ شروع ہونے سے پہلے ہی شائع کی جا چُکی تھِیں۔
1947ء اور 48 ء میں اہم سیاسی واقعات رُونما ہُوئے، اُس وقت تک یہ معاملہ لِسانی آزادی کا نہیں رہا تھا۔ بنگالیوں نے بھی پاکستان کی ریاست میں اِقتصادی اور سیاسی توازن کی تلاش شُرُوع کر دی تھی۔ 1947ء میں رُوزنامہ” آزادی” نے ایک مضمُون شائع کِیا جِس میں لِکھا تھا "اگر اُردُو سرکاری زُبان بن جاتی ہے تو جِن لوگوں نے اِس زُبان میں تعلِیم حاصِل کی وہ تو مُلازمتوں کے لیے قابل تصوّر ہوں گے جبکہ بنگلہ بولنے والے لوگوں کو کم اہل سمجھا جائے گا۔”
1948ء میں مُحمّد علی جناح ڈھاکہ آئے۔ مشہُور ریس کورس میدان میں اُنھوں نے اپنی تقرِیر کے دوران کہا کہ "اُردُو اور صِرف اُردو ہی پاکِستان کی سرکاری زبان ہو گی۔” اُن کی تقرِیر پر مجمع کی جانب سے فوری شدِید احتجاج سامنے آیا۔ ایک طوِیل نو آبادیاتی نِظام سے آزادی اور نئے مُلک میں آزادی کی زِندگی کا خواب بِکھر گیا۔
ایک ایسی زُبان مُسلّط کرنے کے فیصلے کو جو بنگالیوں کے لیے نو وارد تھی سیاسی اور اقتصادی برتری قائم کرنے اور دباؤ کا ایک حربہ سمجھا گیا۔ اُس وقت کے مغربی پاکِستان میں سمجھا جاتا تھا کہ بنگالی ثقافت کا ہِندُو مت کی طرف زیادہ جھُکاؤ ہے۔ جناح سرکاری زُبان کے حوالے سے اپنے فیصلے پر غیر مُتزَلزَل رہے۔ بنگالیوں کو ڈر تھا کہ اگر اُن پر دُوسری زبان مُسلّط کر دی گئی تو اُن میں سے بیشتر اور اُن کی آئندہ نسلیں ناخواندہ رہ جائیں گی، خُود بنگلہ زُبان کو بھی خطرہ لاحق ہو جائے گا۔
شدِید ناراضگی کے عالم میں جنوری 1948ء میں بااثر سیاستدانوں اور سماجی شخصِیات نے مِل کر "راشٹریہ واسا سنگرم پریساد” نامی ایک تنظِیم بنائی۔ ابتداء میں اُنھوں نے اپنی سرگرمیاں خُفیہ رکھِیں۔ اِس گروہ نے تارِیخ کے لیے راستہ مُتعیّن کِیا۔ جناح کی وفات کے بعد زُبانوں کی یہ بحث 1952ء تک جاری رہی۔ جب بھی پاکِستان سے کوئی اہم شخصِیت وہاں کا دورہ کرتی یہ مسئلہ اُجاگر ہو جاتا۔
26 جنوری 1952ء کو پاکِستان کی اسمبلی نے اُردُو زبان کو سرکاری زبان قرار دینے کی حتمی منظُوری دے دی، اس فیصلے نے مشرقی پاکِستان میں شعلے بھڑکا دیے۔ اگلے دن خواجہ ناظم الدین جو اُس وقت تک گورنر جنرل بن چُکے تھے اُنھوں نے ڈھاکہ میں ایک بڑی ریلی کے دوران جناح کا مؤقف دہرایا۔ وہاں کا باشندہ ہونے کی حیثِیت سے خواجہ ناظم الدین کے اس بیانیے نے زبان کی تحرِیک کو یکسر بدل دیا۔ اُن کی اِس تقرِیر کے بعد بھی ریلی میں خوفناک مُظاہرے ہُوئے ۔
اِس بیان کے بعد بنگالیوں میں دھوکہ دِیے جانے کا احساس بڑھنے لگا۔ اُنھوں نے اس تقرِیر کو مُسترد کرتے ہوئے مشرقی پاکِستان میں عام ہڑتال اور مُظاہرے شُرُوع کر دیے ۔ اِن مُظاہروں میں طلباء نے اہم کِردار ادا کِیا۔ سیاستدان، صحافی اور دیگر پیشہ ور افراد بھی اُن کے ساتھ شامِل ہوگئے اور یہ مُظاہرے پھیلتے گئے ۔
21 فروری کو ایک اور عام ہڑتال کی کال دی گئی۔ ڈھاکہ یُونِیورسِٹی اور اس کے اِرد گِرد کے عِلاقوں میں دفعہ 144 نافد کر دی گئی تاکہ مجمع جمع نہ ہوسکے۔ لیکِن احتجاج کو روکنے کے لیے یہ ناکافی تھا ۔
ڈھاکہ یُونِیورسِٹی کے طلباء دفعہ 144 کی خِلاف ورزی کرتے ہُوئے سڑکوں پر نِکل آئے۔ تب یومِ شہداء کا جنم ہُوا۔ پولِیس نے گولیاں چلا دِیں، جِس سے مُتعدّد مُظاہرِین ہلاک ہو گئے، اُن میں سے بیشتر طلباء تھے۔ اِس واقعے نے زُبان کے مسئلہ پر ہونے والے مُظاہروں کو مزِید بھڑکا دِیا اور یہ تب تک کم نہِیں ہُوئے جب تک بنگلہ کو چار سال بعد سرکاری زُبان کے طور پر تسلیم نہِیں کِیا گیا۔
مادری زُبان کے لیے لڑائی نے یہ واضح کر دیا کہ دو مُختلِف زُبانوں والی اقوام ایک قوم نہِیں ہو سکتِیں اور اِسی وجہ سے 19 سال بعد بنگلہ دیش کی ریاست وجُود میں آئی۔
زُبان کی اس تحرِیک میں کُل کِتنے لوگ مارے گئے یہ آج تک معلُوم نہیں ہو سکا۔ کُچھ مؤرخِین کا کہنا ہے کہ یہ تعداد 40 تک ہے۔ اِن میں سرِفہرِست نام سلام، برکت، رفیق، جبّار اور شفیع الرّحمٰن تھے ۔
بنگلہ دیش میں اُس وقت سے 21 فروری کو یومِ شہداء منایا جاتا ہے۔
اقوامِ مُتّحِدہ کے ذیلی اِدارے یونیسکو نے 1999ء کو دو بنگلہ دیشی شہریوں کی جانب سے اقوامِ مُتّحِدہ کے اس وقت کے سیکرٹری جنرل کوفی عنان کو لکھے گئے خط کے بعد 21 فروری کو مادری زُبانوں کا بین الاقوامی دن قرار دے دیا۔
2010ء میں اقوامِ مُتّحِدہ کی جنرل اسمبلی نے ایک قرار داد پاس کی جِس میں مادری زُبانوں کے دِن کو منانے کی منظُوری دی گئی ۔

نہِیں گُونگا کہ جو ہے قُوّتِ گویائی سے عاری
وہی ہے بے زُباں یارو، نہِیں جِس کی زُباں اپنی
(انور عباسی ۔ مری)

 

امجد بٹ ۔ مری


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481