غزل
موت کے اِس کھیل میں گَر زندگی شامل نہ ہو
پھر کسی قیمت پہ اِس میں آدمی شامل نہ ہو
اپنے ہونے کا مجھے بھی لُطف اُٹھانے دے ذرا
میرے ہونے میں کسی صُورت ابھی شامل نہ ہو
قِصّہ گَو نے چھیڑ دی ہے پھر کہانی دیو کی
نَنھّے بچّوں کی دُعا ہے اب پَری شامل نہ ہو
آرزُو پُوری نہ ہو تو دل بُرا مَت کیجیے
وقت کے چَکّر میں شاید یہ گھڑی شامل نہ ہو
کَینوَس پر ایسا اِک مَنطر بنانا ہے مُجھے
رنگ تو شامل ہوں جس میں، روشنی شامل نہ ہو
گو تَصوّر میں سہی اُس در پہ میں پہنچا تو ہوں
کیسے مُمکن ہے کہ میری حاضری شامل نہ ہو
دیکھ اِس نام آوری کی دوڑ میں کاشف حسین
کَل بھی تُو شامل نہیں تھا، آج بھی شامل نہ ہو
کاشف حسین غائر
کراچی
