اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

نظم…..”بُڑھاپا خوب صورت ہے”……

10599119 1499852836927800 9080231871551248612 n

 

کسی کو آپ کے بالوں کی چاندی سے محبت ہو
کسی کو آپ کی آنکھوں پہ اب بھی پیار آتا ہو
لبوں پر مسکراہٹ کے گلابی پھول کھل پائیں
جبیں کی جُھرّیوں میں روشنی سمٹی ہوئ تو
بُڑھاپا خوبصورت ہے

شکن آلود ہاتھوں پر دمکتے ریشمی بوسے
سعادت کا، عقیدت کا، تقدّس کا حوالہ ہوں
جوانی یاد کرتا دل اداسی کا سمندر ہو
اداسی ﮐﮯ سمندر میں کوئ ہمراہ تَیرے تو
بُڑھاپا خوبصورت ہے

ذرا سا لڑکھڑائیں تو سہارے دوڑ کر آئیں
نئے اخبار لا کر دیں ،پُرانے گیت سُنوائیں
بصارت کی رسائی میں پسندیدہ کتابیں ہوں
مہکتے سبز موسم ہوں، پرندے ہوں،شجر ہوں تو
بڑھاپا خوب صورت ہے

پرانی داستانیں شوق سے سنتا رہے کوئ
محبت سے دل و جاں کی تھکن چنتا رہے کوئ
زرا سی دھوپ میں حدّت بڑھے تو چھاؤں مل جاۓ
برستے بادلوں میں چھتریاں تن جائیں سر پر تو
بڑھاپا خوب صورت ہے

جنہیں دیکھیں تو آنکھوں میں ستارے جگمگا اُٹھیں
جنہیں چُومیں تو ہونٹوں پر دُعائیں جھلمِلا اُٹھیں
جواں رشتوں کی دولت سے اگر دامن بھرا ہو تو
رفیقِ دل، شریکِ جاں برابر میں کھڑا ہو تو
بڑھاپا خوب صورت ہے

حمیدہ شاہین


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481