صدر آزاد جموں وکشمیر بیرسٹر سلطان محمود چوہدری نے بھارت کی طرف سے پاکستان میں تعینات برطانوی ہائی کمشنر کے دورہ میرپور پر احتجاج کو
یکسر مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارتی وزارت خارجہ کا یہ احتجاج بلا جواز اورمضحکہ خیز ہےکیونکہ اس سے قبل بھی مختلف ممالک کے سفیر اور سفارت کار آزاد کشمیر کا دورہ کرتے رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ کچھ عرصہ قبل بھارت نے بھی مقبوضہ کشمیر میں G-20کانفرنس کا انعقاد بھی کیااور اسی طرح بھارت کا یہ کہنا ہے کہ کشمیر اُس کا اٹوٹ انگ ہے
سیاق و سباق سے ہٹ کر ہے کیونکہ کشمیر کبھی بھی بھارت کا حصہ نہیں رہا اور کشمیرایک تسلیم شدہ متنازعہ علاقہ ہے اوراس پر اقوام متحدہ کی قراردادیں واضح اور دوٹوک ہیں۔
لہذا بھارت اپنے توسیع پسندانہ عزائم سے باز رہے اور یہ جان لے کہ کشمیر ی کبھی بھی بھارت کے جابرانہ اور غاصبانہ قبضے کو تسلیم نہیں کریں گے
اور بھارت کا کشمیر پرغیر قانونی قبضہ جلد ختم ہو گا اور مقبوضہ کشمیر بھارتی تسلط سے جلد آزادہو کر رہے گا۔
انہوں نے کہا کہ بھارت نے5اگست2019ء کو آرٹیکل 370اور 35اے کے ذریعے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کے بعد
سے اب تک بڑے پیمانے پر کشمیریوں پر ظلم و بربریت اور انسانی حقوق کی پامالی کا بازار گرم کر رکھا ہے عالمی برادری اس کا نوٹس لے۔
