اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

لاہور ہائیکورٹ کے حکم پر شیر افضل مروت رہا

لاہور ہائیکورٹ کے حکم پر شیر افضل مروت رہا

لاہور ہائیکورٹ نے تحریک انصاف کے سینئر نائب صدر شیر افضل مروت کو رہا کرنے کا حکم دے دیا۔

تفصیلات کے مطابق لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شہرام سرور چوہدری نے پی ٹی آئی رہنما شیر افضل مروت کی نظربندی کے خلاف درخواست پر سماعت کی جس سلسلے میں حکومت کی جانب سے خواجہ محسن عباس ایڈووکیٹ نے عدالت میں جواب جمع کرایا۔

یہ بھی پڑھیں تحریک انصاف کے کئی روپوش رہنما سامنے آگئے

درخواست گزار کی جانب سے سردار لطیف کھوسہ ایڈووکیٹ جبکہ پنجاب حکومت کیجانب سے اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل خواجہ محسن عباس عدالر میں پیش ہوئے،اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل نےدرخواست کے قابل سماعت ہونے پراعتراض اٹھا تے ہوئے کہا کہ شیر افضل مروت کی نظر بندی کا نوٹیفکیشن ڈپٹی کمشنر نےجاری کیا، ان کی نظربندی کے خلاف درخواستگزار متعلقہ فورم پر رجوع کریں، شیر افضل مروت کی نظر بندی کے خلاف پہلے حکومت کو درخواست دیں، عدالت ان کی نظر بندی کے خلاف درخواست مسترد کرے۔

یہ بھی پڑھیں تحریک انصاف کاپارٹی چھوڑنے والوں کیلئے مشروط واپسی کا اعلان

جسٹس شہرام سرور چوہدری نے کہا کہ آپ کو 3 روز دئیے گئے تھے آپ فیصلہ کرلیتے،

اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل پنجاب نے کہا کہ درخواست گزارہمارے پاس آئے ہی نہیں ۔

وکیل سردار لطیف کھوسہ نے کہا کہ ڈی سی کےآرڈرمیں شیر افضل مروت کےلوگوں کواکٹھاکرنیکی صلاحیت کا لفظ غلط ہے،شیر افضل مروت کے حوالے سے نظر بندی کا حکم غیر قانونی ہے۔

عدالت نے دلائل سننے کے بعد نظربندی کا نوٹیفکیشن کالعدم قرار دیتے ہوئے شیر افضل مروت

کو فوری رہا کرنے کا حکم دیدیا ،عدالت نے ڈپٹی کمیشنر کو سیکیورٹی بانڈز جمع کرانے

کے بعد شیر افصل کو رہا کرنے کا حکم دیا۔


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481