اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

آب حیات… زم زم کے جاری ہونے کا روح پرور واقعہ

آب حیات... زم زم کے جاری ہونے کا روح پرور واقعہ

حق و صداقت کی آواز بلند کرنے پر بادشاہ وقت اس بندہ خدا پر اس قدر غضبناک ہو گیا کہ اسے زندہ جلا ڈالنے کا حکم صادر کر دیا۔لیکن جسے اللہ رکھے اسے کون چکھے۔اپنے جسمانی ضعف وناتوانی کا خیال کر کے اس خدا دوست انسان نے باحسرت و یاس اپنے وطن کو خیر باد کہنے کا ارادہ کر لیا۔ ساتھ ہی دربار الٰہی میں عرض کی” یا اللہ مجھے نیک اور صالح بیٹا عطا فرما۔”80 سال کی عمر میں بیٹے کی آرزو تو کی جا سکتی تھی لیکن اس کا پورا ہونا بظاہر مشکل تھا۔چنانچہ اس ولی اللہ نے ایک غلام بچے کو اولاد کی طرح پال کر اپنی تسلی کر لی۔
رقابت انسان کا فطری جذبہ ہے۔کوئی مرد بلاوجہ یا کسی مجبوری کے تحت ایک سے زیادہ بیویوں کا شوہر ہو تو وہ اس جذبے کی تپش اور سنگینی کو صحیح طور پر سمجھ سکتا ہے۔اس ولی اللہ کی بھی دو بیویاں تھیں۔ جو بہت نیک اور خدا ترس ہونے کے باوجود رشک کے فطری جذبے سے خالی نہ تھیں۔خدا کا کرنا یہ ہوا کہ سن رسیدگی کے عالم میں ایک بیوی کو اولاد کی امید ہونے لگی اور پھر اللہ نے اپنے نیک بندے کی دعا کو قبول کرتے ہوئے اسے ایک چاند سا بیٹا عطا کیا۔اولاد سے محروم رہ جانے والی بیوی کا رشک رنجش میں تبدیل ہونے لگا۔اس نے شوہر سے مطالبہ کیا کہ اپنی پہلی بیوی اور بچے کو مجھ سے دور کر دو۔ میں انہیں اپنی نظروں کے سامنے برداشت نہیں کر سکتی۔
حلیم الطبع شوہر نے نوزائیدہ بچے کی ماں سے دوسری بیوی کے اس مطالبے کا ذکر کیا تو صبر و شکر کی پیکر خاتون نے ہجرت پر آمادگی ظاہر کر دی اور جان لیا کہ اس میں بھی اللہ کی مصلحت اور کوئی بھلائی پوشیدہ ہے۔کھجور کی ایک تھیلی اور پانی کا مشکیزہ دے کر اللہ کے نیک بندے نے اپنی بیوی اور بچے کو ایک بے آب و گیاہ مقام پر چھوڑ دیا۔اس کی زندگی کا کل اثاثہ توکل اور غنی ہونا تھا۔صابر و شاکر بیوی کا بھی یہی سرمایہ حیات تھا۔

تھیلی کی کھجوریں اور مشکیزے کا پانی کب تک ساتھ دیتا، انہیں تو بالاخر ختم ہونا تھا۔بھوک اور پیاس سے بےتاب بچے کی حالت دیکھی نہ جاتی تھی۔بے چین ماں کبھی ایک طرف جاتی، اور کبھی دوسری طرف دوڑتی۔ کچھ ہی چکروں کے بعد اس نے ڈرتے ڈرتے بچے پر نظر ڈالی تو اس کے پیروں کے نیچے چشمہ بہتا ہوا دکھائی دیا۔پانی نکلتا اور پھیلتا چلا گیا تو اس نے پتھروں کی باڑ بنا کر روکنا چاہا لیکن وہ تھا کہ رکنے کا نام ہی نہ لیتا تھا۔اب اس نے اپنا عمل روک کر زبان سے کام لیا اور بزعم خود پانی کو حکم دیا ۔”رک جا ” "رک جا۔”
اور پانی واقعی رک گیا۔اللہ اپنے مطیع و فرمانبردار اور مخلص و نیکو کار بندوں کے حکم کو خود اپنا حکم بنا کر مادی روحانی قوتوں پر نافذ کر دیتا ہے۔اس خاتون نے اپنے شوہر کی اطاعت اور تسلیم و رضا کی جو مثال قائم کی تھی اللہ کو اس قدر پسند آئی کہ اس نے ان اداؤں کو آئندہ کے لیے یادگار اور قابل تقلید بنا دیا۔دوستو! یہ نیک خاتون سیدہ ہاجرہ اور بچہ حضرت اسماعیل علیہ السلام کے نام سے تاریخ انسانیت میں ہمیشہ زندہ و پائندہ رہیں گے۔انہیں حضرت ابراہیم خلیل اللہ نے محض اللہ کی رضا و خوشنودی کی خاطر یہاں چھوڑا تھا۔اللہ نے اس مقام اور اس کے ان دو مکینوں کو وہ عزت و عظمت عطا فرمائی کہ حضرت اسماعیل علیہ السلام کے لیے جاری کیے جانے والے چشمے "زم زم” سے مسلمان قیامت تک اپنے جسم و روح کی پیاس بجھاتے رہیں گے۔

پانی کی تلاش میں سیدہ ہاجرہ کی بھاگ دوڑ صفا و مروہ کے درمیان سات بار سعی کی صورت میں ہر حاجی پر ہمیشہ کے لیے لازم قرار پائی۔کھجور ختم ہونے کے بعد سیدہ ہاجرہ نے زمزم کا پانی پی کر قوت پائی اور حضرت اسماعیل علیہ السلام کو دودھ پلا کر ان کی پرورش کی۔گویا اس پانی نے ان کی آب و غذا دونوں کی ضرورتیں پوری کر دیں۔آج لاکھوں افراد روزانہ زمزم کا پانی پیتے ہیں لیکن نہ یہ پانی ختم ہوتا ہے اور نہ اس کی خصوصیات میں کوئی کمی واقع ہوتی ہے۔دنیا کی جدید تجربہ گاہوں نے زمزم سے حاصل شدہ پانی کا تجزیہ کر کے اس کی غذا و شفا بخشی کی تصدیق کی ہے۔
حضرت اسماعیل علیہ السلام اپنے جلیل القدر والد اور ابو الانبیاء حضرت ابراہیم علیہ السلام کے چہیتے بیٹے تھے۔شیر خوارگی کے زمانے سے عفوان شباب تک وہ بھی اپنے عظیم باپ کی طرح رضائے الہٰی کا پیکر رہے۔ یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو زندگی کی سب سے بڑی آزمائش میں ڈال دیا۔خواب میں انہیں اشارہ ہوا کہ وہ اپنی عزیز ترین ہستی کو اللہ کی راہ میں قربان کر دیں۔

نبیوں کے خواب واہمے نہیں،حقیقت کے اشارے ہوتے ہیں۔حضرت ابراہیم علیہ السلام کو دنیا میں اپنے بیٹے اسماعیل علیہ السلام سے زیادہ کوئی محبوب نہیں تھا۔باپ نے بیٹے سے خواب کا تذکرہ کیا اور بیٹے نے حکم الہٰی کے آگے فوراً ہی سر جھکا دیا۔خدا کا پیغمبر صرف پیغام بر نہیں اس پر عمل کرنے والا بھی ہوتا ہے۔ظاہر ہے کہ حضرت اسماعیل علیہ السلام کو قربان کرانا اللہ کو مقصود نہیں تھا۔اس نے دونوں باپ بیٹوں کو آزمایا اور پورا پایا۔چنانچہ حضرت اسماعیل علیہ السلام کی جگہ اللہ نے ایک ذبح عظیم بھیج دیا،جس کی یاد میں دنیا بھر کے مسلمان ہر سال عید الاضحی کے موقع پر قربانی کرتے ہیں۔
حضرت اسماعیل علیہ السلام نے اپنے نہایت محترم و معظم والد کے ساتھ مل کر خانہ کعبہ کی تعمیر نو کی- جس کے گرد طواف کسی وقت و کسی بھی موسم میں نہیں رکتا (اوقات نماز کے سوا ) یہ سلسلہ قیامت تک جاری رہے گا۔اللہ نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو ایک بردبار لڑکے غلام حلیم کی بشارت دی تھی۔حضرت اسماعیل علیہ السلام کا ذکر مبارک دیگر مقامات کے علاوہ قرآن کریم میں بطور خاص اور مستقل انداز میں مندرجہ زیل سورتوں میں ملتا ہے۔بقرہ، انعام ،نساء،ابراہیم،صافات،مریم، انبیاء ۔

اسماعیل عربی لفظ اسمع(سن) اور عبرانی لفظ ایل (اللہ )کا مرکب ہے۔ یعنی ان کی صورت میں اللہ نے اپنے نہایت مقرب بندے حضرت ابراہیم علیہ السلام کی دعا سن لی۔


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481