اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

قضیۂ فلسطین…پس چہ باید کرد …. مولانا حماد احمد ترکؔ

9ae87e2b 622f 4942 a51b f64895e45c86

گزشتہ دنوں اسرائیلی جارحیت کے نتیجے میں جس قدر نقصان ہوا ناقابلِ بیان ہے۔ہزاروں فلسطینی شہری شہید ہوگئے اور بے شمار زخمی ہیں۔شہدا میں غالب اکثریت بچوں اور خواتین کی ہے۔ بالخصوص ۱۷، اکتوبر کو اسپتال پر بمباری کے نتیجے میں جو معصوم شہید ہوئے، ان کی شہادت بہت بڑا سانحہ ہے۔ہم غاصب صیہونیوں سے وہی کہیں گے جو مومنِ آلِ فرعون نے کہا تھا:﴿أَتَقْتُلُونَ رَجُلًا أَن يَقُولَ رَبِّيَ اللَّهُ﴾‏’’کیا تم ایک شخص کو صرف اس لیے قتل کر رہے ہو کہ وہ کہتا ہے میرا پروردگار اللہ ہے؟ ‘‘۔بہر حال، ان سطور سے قضیۂ فلسطین کی موجودہ صورتِ حال پیش کرنامطلوب نہیں کیونکہ ہمارے قارئین اس سے بخوبی واقف ہیں۔مزید یہ عالمِ اسلام کے حکمرانوں کی بے حسی اور زبانی جمع خرچ بھی کسی سے پوشیدہ نہیں۔مقصود یہ ہے کہ بحیثیتِ مسلمان ہم کیا کرسکتے ہیں اس پر غور کیا جائے۔مسلمانانِ ہند نے ہمیشہ ہی عالمِ اسلام کو جسدِ واحد کی طرح سمجھا اور ہر مسلمان کے درد کو اپنا درد محسوس کیا۔امیر مینائی کا مصرع مسلمانانِ ہند پر حرف بہ حرف صادق آتا ہے:سارے جہاں کا دردہمارے جگر میں ہے۔ الحمد للہ! ہم فلسطینی بھائیوں کے احوال سے نہ صرف واقف ہیں بلکہ ان کی تکلیف پر غم زدہ بھی ہیں۔اس کے ساتھ ساتھ ہم قضیۂ فلسطین میں درج ذیل طریقوں سے اپناکردار ادا کرسکتے ہیں:

AP23280356530131 1696686536 1

۱)سب سے اہم کام دعا کرنا ہے، کیونکہ یہ نبی کریمﷺ کی سنت ہے۔ جب قبیلہ رعل اور ذکوان نے سفاکیت کا مظاہرہ کرتے ہوئے صحابۂ کرام کو شہید کردیا تو آپﷺ مسلسل ایک ماہ ان قبائل کے خلاف بددعا فرماتے رہے۔ لہذا،ہمیں اہلِ فلسطین،مجاہدین اور شہدا کے حق میں دعا کرنے کے ساتھ ساتھ مسنون الفاظ میں غاصب صیہونیوں کے خلاف بددعا بھی کرنی چاہیے۔اس کے ساتھ ساتھ حضرت شیخ الاسلام مفتی محمد تقی عثمانی صاحب دامت برکاتہم العالیۃ نے خطابِ جمعہ میں اس طرف بھی اشارہ کیا کہ ایسے مواقع پر اسلاف سے آیتِ کریمہ کا ختم بھی منقول ہے۔اس کا بھی اہتمام کرنا چاہیے۔
۲)جس قدر ممکن ہو مالی طور پر مجاہدین اور محصورین کے لیے امداد روانہ کرنی چاہیے۔مسجدِ اقصیٰ کی حفاظت فلسطین کی نہیں عالمِ اسلام کی ذمے داری ہے اور مجاہدین ہماری طرف سے یہ ذمے داری ادا کررہے ہیں۔ مال کی مقدار پر توجہ نہیں کرنی چاہیے۔جس قدر ممکن ہو اپنا حصہ ملانا چاہیے۔اللہ تعالیٰ مقدار پر نہیں بلکہ اخلاص پر اجر عطا فرماتے ہیں۔

42fe71eb f4d2 4145 8373 d73680ea9f01 1 jpg
۳) تیسرا کام یہ ہےکہ ہم وسیع پیمانے پر قضیۂ فلسطین سےآگاہی پیدا کریں۔خود بھی صحیح صورتِ حال سے واقف ہوں اور اپنے متعلقین کو بھی اس کی تعلیم دیں۔بالخصوص اپنی اولاد کو اس معاملے کی اہمیت سے آگاہ کریں۔انھیں سیدنا عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ اور سلطان صلاح الدین ایوبی رحمہ اللہ کی سیرت سنائیں۔جہاد کی اہمیت کو خود بھی ذہن میں رکھیں اور اپنی اولاد کو بھی تصورِ جہاد سے آگاہ کریں۔انھیں مجاہدین کی بہادری،مقاومت اور حق گوئی کے قصے سنائیں۔حق وباطل کا معرکہ کوئی نئی بات نہیں،یہ صدیوں سے جاری ہے اہم بات یہ ہے کہ اس معرکے میں ہم کیا کرتے رہے۔کاروبارِ زندگی میں مگن رہے یا حق کی خاطر قربانی دینے کے لیے سینہ سپر رہے۔

536f1a14 b2c5 489a 8303 a70581b15835 2

ہمیں نئی نسل کو بتانا چاہیے کہ اسرائیل نام کی کوئی ریاست وجود نہیں رکھتی۔ القدس کے اطراف میں کل بھی فلسطین تھا اور آج بھی فلسطین ہے۔ ہم فلسطین کی ایک انچ زمین بھی کسی غاصب کے لیے تسلیم نہیں کرتے۔ جیت ہار تو اعتباری ہے۔ ہم ہار کر بھی جیتیں گے اور وہ جیت کر بھی ہاریں گے۔ جب مشرکین نے جنگِ احد میں مسلمانوں کو ستر مجاہدین کی موت کا طعنہ دیا تو نبیٔ رحمتﷺ کے حکم پر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ابو سفیان سے فرمایا:قتلانا في الجنة وقتلاكم في النار. ’’ہمارے مقتولین جنت میں ہیں اور تمھارے مقتولین جہنم میں‘‘۔ فلسطین مسلمانوں کا تھا، مسلمانوں کا ہے اور مسلمانوں کا ہی رہے گا، بحرِ متوسط سے نہرِ اردن تک اور خلیجِ عقبہ سے حدودِ لبنان تک۔ راغب السرجاني نے اپنی کتاب فلسطين حتى لا تكون أندلسا أخرىمیں سلطان صلاح الدین ایوبی رحمہ اللہ کے بارے میں لکھا ہے کہ جب ان کے ایک دوست نے ان سے پوچھا کہ ’’آپ کبھی مسکراتے نہیں ہیں؟‘‘، تو جواب میں سلطان نے فرمایا:
’’ کیف أضحک و الأقصیٰ أسیر‘‘
’’میں کیسے ہنس سکتا ہوں جبکہ مسجدِ اقصیٰ دشمنوں کے قبضے میں ہے‘‘


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481