اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

یومِ قیامِ پاکستان پر مقاصد سے جوڑتی ایک نظم "مٹی سے جڑے غم”

FB IMG 1679645338647 2

مٹی سے جڑے غم

کس کو معلوم ہے
کتنے چہروں کے رنگ آتشیں تھے مگر سانولے ہو گئے !
کتنے ہریال تھے، راکھ بنتے گئے، ملگجے ہوگئے !

کس کو معلوم ہے
کتنے نوحے شکستہ لبوں پر ٹپکنے سے پہلے ہی پھونکے گئے
کتنی ماؤں کے چاند اس اذیت کی بھٹی میں جھونکے گئے

کس کو معلوم ہے
کتنے کھیتوں کی فصلوں کے خوشوں کو دیمک کا نم لگ گیا
مسکراتی ہوئی کتنی کلیوں کو مٹنے کا غم لگ گیا

کس کو معلوم ہے
کتنی معصوم آنکھوں کے سپنوں میں وحشت اتاری گئی
کتنے دانش بھرے خواب تھے جن کی مہکار ماری گئی

یہ گلی میں ہری جھنڈیاں لے کے پھرتے ہوئے
گاڑیوں پر پھریرے سجائے ہوئے
پیار کی لو میں بھیگے ہوئے، خوشبوؤں میں نہائے ہوئے
جانتے ہی نہیں
آج کے رنگ و آہنگ کی اوٹ میں کتنے غم دفن ہیں!
اس کھنکتی ہنسی کے پس پردہ کیا کیا الم دفن ہیں !

۔۔۔

عبدالرحمان واصف 

کہوٹہ

Picsart 23 08 14 10 34 13 976


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481