متاعِ قلم بیچنا جُرم ہے
تم سمجھتے نہیں، یار ! ایسا نہیں
زندگی ہے یہ کوئی تماشا نہیں
یہ جو گھر ہے۔۔۔ہماری ہے جنت یہی
یہ جو شعلوں کی زد پر ہیں بام و سَقَف
سب اِسی گھر کے ہیں
یہ تماشے سبھی، بس گھڑی بھر کے ہیں
غیر کے ہاتھ میں کھیلنا جُرم ہے
آگ کس نے لگائی۔۔ خبر ہے ہمیں
شاہ گَر ہے کہ وہ شاہ زادہ کوئی
یا پیادہ کوئی
اُس کی ایماء پہ گھر کو جلا کر ، سنو
نعرہِ ہا و ہُو۔۔۔۔ زیب دیتا نہیں
یہ چلن۔۔۔ سوچ لو، یار اچّھا نہیں
یہ قلم تو مقدّس ہے اہلِ قلم
آمروں کے قصیدے نہ لکّھا کرو
اپنا ایمان ایسے نہ بیچا کرو
یہ متاعِ قلم بیچنا جُرم ہے !۔
۔۔۔۔۔۔ راشد عباسی ۔۔۔۔۔۔

