ہم تو پردھان ہیں!
یہ وطن، اس وطن کی فضائیں،
انہیں گر نہ ہم اذن دیں،
کس طرح سانس لیں !
ہم شہنشاہ لاڈوں میں پالے ہوئے،
ہم مجسم فریبوں میں ڈھالے ہوئے
من و سلویٰ سے اوپر کی مخلوق ہیں،
ہم پہ قانون کی کالی دیوی کا پہرا نہیں !
ہم صحیفوں میں مرقوم وہ نور ہیں،
رہبری جس کا مسلک ہوا
جس نے ہم سے بغاوت کا رستہ چنا،
گاہے اس کا یقیں، گاہے دم شق ہوا !
ہم سے تاریخ کے چوڑے ماتھے پہ الہام کا نور ہے
اس وطن میں اگر
خون شامل ہے تم سب کے اجداد کا
تو بتاؤ کہ اس میں بڑی شے ہے کیا ؟
تم تو مٹی کی مخلوق ہو،
تم کو ملنا ہے آخر اسی خاک میں
فرق ہوتا ہے کوزے میں اور چاک میں !
ہاں سنو گندی نالی کے کیڑے ہو تم !
ہم شہوں کی محبت میں
قربان ہونے کی رسمیں نبھانا ،
تمہارے سب اجداد کا طور ہے !
ہم الگ جاتیاں ہیں، تمہاری بِنا اور ہے !
۔۔۔۔۔۔۔۔ عبدالرحمان واصف ۔۔۔۔۔۔۔

