اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

نظم۔۔۔گاؤں کو شہر نگلتا ہی چلا جاتا ہے

1669864393510

گاؤں کو شہر نگلتا ہی چلا جاتا ہے ۔۔۔

گھی چُرا لاتا تھا گھر سے بَبلُو
اور گُڑ فیقا اُٹھا لاتا تھا
چاول اور مونگ پھلی لاتے تھے چندہ کر کے
گھر کے نزدیک جو جنگل تھا، وہاں جا کر ہم
لکڑیاں چُنتے تھے، پتھر کا بنا کر چُولھا
اور گُڑ والے پَکا کرتے تھے میٹھے چاول
چاچا کَندو جو گزرتے تھے وہاں سے اکثر
آ کے گھر والوں کو سب حال بتا دیتے تھے
شام کو لوٹتے تھے گھر سبھی چوروں کی طرح
ڈانٹ پڑتی تھی، دُھلائی بھی کبھی ہوتی تھی
"پھر نہیں ہو گا” یہ ہم عہد کیا کرتے تھے
اور پھر عہد یونہی توڑ دیا کرتے تھے
اب نہ جنگل ہے، نہ لڑکے ہیں، نہ کَندو چاچا
اب نہ بُوٹے ہیں، نہ چشمہ ہے، نہ کَچّا رستہ
ایک کوٹھی ہے وہاں، کتنے ہی ایکڑ پہ محیط
جس کا مالک ہے کوئی صاحب زر، صاحب جاہ
گاؤں کو شہر نگلتا ہی چلا جاتا ہے، آہ !

۔۔۔۔۔۔۔۔  راشد عباسی ۔۔۔۔۔۔۔

 

Picsart 23 07 12 22 42 24 519


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481