گاؤں کو شہر نگلتا ہی چلا جاتا ہے ۔۔۔
گھی چُرا لاتا تھا گھر سے بَبلُو
اور گُڑ فیقا اُٹھا لاتا تھا
چاول اور مونگ پھلی لاتے تھے چندہ کر کے
گھر کے نزدیک جو جنگل تھا، وہاں جا کر ہم
لکڑیاں چُنتے تھے، پتھر کا بنا کر چُولھا
اور گُڑ والے پَکا کرتے تھے میٹھے چاول
چاچا کَندو جو گزرتے تھے وہاں سے اکثر
آ کے گھر والوں کو سب حال بتا دیتے تھے
شام کو لوٹتے تھے گھر سبھی چوروں کی طرح
ڈانٹ پڑتی تھی، دُھلائی بھی کبھی ہوتی تھی
"پھر نہیں ہو گا” یہ ہم عہد کیا کرتے تھے
اور پھر عہد یونہی توڑ دیا کرتے تھے
اب نہ جنگل ہے، نہ لڑکے ہیں، نہ کَندو چاچا
اب نہ بُوٹے ہیں، نہ چشمہ ہے، نہ کَچّا رستہ
ایک کوٹھی ہے وہاں، کتنے ہی ایکڑ پہ محیط
جس کا مالک ہے کوئی صاحب زر، صاحب جاہ
گاؤں کو شہر نگلتا ہی چلا جاتا ہے، آہ !
۔۔۔۔۔۔۔۔ راشد عباسی ۔۔۔۔۔۔۔

