ذیل میں کچھ ایسے اشعار پیش کیے جا رہے ہیں جو ضرب المثل کا درجہ اختیار کر چکے ہیں۔ لیکن یا تو ان کے مصارع غلط العام ہیں یا ایک ہی مصرع مشہور ہے۔
(قسط اول)
(راشد عباسی)
*****
ہم کو معلوم ہے جنت کی حقیقت، لیکن
دل کے خوش رکھنے کو غالبؔ یہ خیال اچھا ہے
مرزا غالب
ہم طالب شہرت ہیں ہمیں ننگ سے کیا کام
بدنام اگر ہوں گے تو کیا نام نہ ہو گا
مصطفیٰ خاں شیفتہ
میں کس کے ہاتھ پہ اپنا لہو تلاش کروں
تمام شہر نے پہنے ہوئے ہیں دستانے
مصطفیٰ زیدی
داورِ حَشر مِرا نامۂ اَعمال نہ دیکھ
اِس میں کچھ پردہ نشینوں کے بھی نام آتے ہیں
محمد دین تاثیر
قیس جنگل میں اکیلا ہے مجھے جانے دو
خوب گزرے گی جو مل بیٹھیں گے دیوانے دو
میانداد خاں سیاح
وصال یار سے دونا ہوا عشق
مرض بڑھتا گیا جوں جوں دوا کی
مرزا علی اکبر مضطرب
آخر گِل اپنی صرفِ درِ مے کدہ ہوئی
پہنچے وہاں ہی خاک، جہاں کا خمیر ہو
جہاں دار شاہ جہاندار
بہت جی خوش ہوا حالی سے مل کر
ابھی کچھ لوگ باقی ہیں جہاں میں
مولانا الطاف حسین حالی
نہ جانا، کہ دنیا سے جاتا ہے کوئی
بہت دیر کی، مہرباں، آتے آتے
داغ دہلوی
نہ گورِ سکندر، نہ ہے قبرِ دارا
مٹے نامیوں کے نشاں کیسے کیسے
حیدر علی آتش
غیروں سے کہا تم نے، غیروں سے سنا تم نے
کچھ ہم سے کہا ہوتا، کچھ ہم سے سنا ہوتا
چراغ حسن حسرت

