ارمغان خاص
جناب علامہ مضطر عباسی کی ایک غزل
لُوٹ رہا ہے رہبر ہم کو
دے کر دین کے چَکّر ہم کو
تُو نے بھی دُھتکارا آخر
غیر کی باتیں سُن کر، ہم کو
اپنے ہوں یا بیگانے ہوں
سب نے لُوٹا مِل کر ہم کو
آؤ سوچیں، دشمن کیسے
مِلنے آیا چَل کر ہم کو
رات تھا وہ بھی مے خانے میں
روکے ہے جو دن بھر ہم کو
ہم رَہ سے مُضطر بھٹکے ہیں
کاش نہ مِلتا رَہبر ہم کو
علامہ مضطر عباسی


