اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

غزلیات ۔۔۔(شعری مجموعہ "لہو کے ریشم سے”)

FB IMG 1687551494555

شہزاد اظہر کا شعری مجموعہ "لہو کے ریشم سے” حال ہی میں شائع ہوا ہے۔ نہ صرف نوجوان شعراء کے لیے بہت ضروری ہے کہ وہ اس وقیع شعری مجموعے کا مطالعہ ضرور کریں بلکہ کہنہ مشق احباب بھی شہزاد اظہر کی مصرعہ سازی، تراکیب، زبان و بیان اور روایت کی پاسداری کے ساتھ جدید غزل کے اہتمام سے بہت کچھ سیکھ سکتے ہیں۔

شہزاد اظہر کی مکمل صحت یابی کے لیے دعاؤں کی درخواست ہے۔ ہمیں امید ہے کہ وہ فالج کے عارضے کو جلد شکست دینے میں کامیاب ہو جائیں گے ۔ ان شاءاللہ

Picsart 23 06 24 01 15 49 992

IMG 20230623 213922 581

غزل 1

سایٔہِ حرفِ چمک دار سے باہر نکلو
رنجِ آسیبِ خوش آثار سے باہر نکلو

مَیلا پڑنے لگا احساس کا اُجلا پَن بھی
گَردِ یَک رنگئِ اظہار سے باہر نکلو

اَور بھی رَنگ ہیں جو دامنِ دل کھینچتے ہیں
ایک ہی عکس کی تکرار سے باہر نکلو

زخم کی آنکھ سے دیکھو نہیں سرشاری کو
آئینہ خانٔہِ آزار سے باہر نکلو

لہلہاتے ہُوئے لمحوں کی ہَوا میں آؤ
اَثَرِ موسمِ بیمار سے باہر نکلو

دُھوپ کُہسار کے پیڑوں کی طرف آئی ہے
کونپلو ! برف کی دیوار سے باہر نکلو

۔۔۔۔۔۔۔۔

 غزل 2

ہَوا کے تخت پہ ہوں، آسماں کا آدمی ہوں
میں خاک زاد، رَہِ کَہکشاں کا آدمی ہوں

یہ میرے پَر مُجھے اُونچا اُڑا رہے ہیں بہت
زمین پُوچھتی ہے میں کہاں کا آدمی ہوں؟

مِرے گلاب نہیں، خواب جَھڑنے والے ہیں
خزاں کا پیڑ نہیں، میں خزاں کا آدمی ہوں

کِسی کو دَشت کا چَشم و چراغ لگتا ہوں
کوئی سمجھتا ہے مَیں گُلسِتاں کا آدمی ہوں

کوئی ہَوا کی طرف کا سمجھ رہا ہے مُجھے
کِسی کو لگتا ہے مَیں بادباں کا آدمی ہوں

اِدھر اُدھر مِرے حالات نے کیا ہے مُجھے
میں اُس جگہ پہ نہیں ہوں جہاں کا آدمی ہوں

یہ ریگ زار مِرا مُستقر نہیں شہزاد
یقیں میں رہتے ہُوئے مَیں گُماں کا آدمی ہوں

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

غزل 3

دونوں اک ساتھ لوگوں کو جچتے نہ تھے، ہم الگ ہو گئے
پاؤں دنیا کو ٹھکرانے والے نہ تھے، ہم الگ ہو گئے

وہ بھی پیمان حرف تعلق کو خاطر میں لاتا نہ تھا
ہم بھی اقلیم دل میں ٹھہرتے نہ تھے، ہم الگ ہو گئے

منقسم شخص تھا سو محبت میں کم مرتکز تھا بہت
اور ہم کم تلون تھے، ویسے نہ تھے، ہم الگ ہو گئے

یہ مزاجوں کی گرہیں کسی اور کے ہاتھ سے لگ گئیں
زندگی کم تھی اور پاس لمحے نہ تھے، ہم الگ ہو گئے

اس کو "ہم سانس” رکھنے کی قیمت دل و جاں چکاتے، مگر
اپنے کشکول میں اتنے سکے نہ تھے، ہم الگ ہو گئے

ایک پیمان پر عمر بھر کے لیے کیوں گھسٹتے رہیں
آنچ سے قربتوں کی پگھلتے نہ تھے، ہم الگ ہو گئے

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

غزل4

عاشقی میں خواہش دستار و خلعت سے نکل
تمغئہ رسوائی لے لے، اور عزت سے نکل

اور تو کچھ بھی نہیں مجبوری دل کا علاج
آئنے کو اک طرف رکھ دے، سہولت سے نکل

آگ کے کپڑے پہن کر اپنی عریانی چھپا
اے سمندر سے بدن ! پانی کی خلعت سے نکل

پیچ و تاب شوق سے آگے بھی ہیں شعلے کئی
دوسری وحشت کی جانب، پہلی وحشت سے نکل

کیا یہ کم ہے ، دل سے لکھے شبد مٹ سکتے نہیں
نام کی لت میں نہیں پڑ، فکر شہرت سے نکل

تیشہ عرض ہنر سے توڑ دے چپ کا پہاڑ
لکھ غزل شہزاد اظہر، اور مصیبت سے نکل

 

FaceApp 1687538510960 1


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481