اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

تاریخ بیت المقدس : بلادِ شام صلیب کے سائے میں

0dc8fa01 d4c0 4f3d bb76 fefeaf5a62d6 1

یہود و نصاری کا گٹھ جوڑ

ہربرٹ سیموئل برٹش کابینہ کا ایک یہودی ممبر تھا ۔ اس نے ۱۹۱۴ ء میں برطانوی کابینہ کو یہود کی طرف سے یہ پیش کش کی کہ اگر برطانیہ جنگ عظیم کے بعد یہود کی سرپرستی اور ان کے قومی وطن کی تشکیل کا وعدہ کرے تو یہود ی برادری جنگ میں برطانیہ کی مدد کرے گی۔ برطانیہ نے اس پیشکش کو قبول کیا اور حکومت برطانیہ اور یہودیوں کی اشتراک عمل وجود میں آگیا۔
جنگ عظیم کے دوران جنگی مہمات کے ساتھ ساتھ اتحادیوں میں اس نکتے پر طویل مشورے ہوتے رہے کہ سلطنت عثمانیہ کو شکست دینے کے بعد اس کے مقبوضہ علاقوں کی باہم تقسیم کیسے کریں گے۔ان مشاورتوں میں ایک اہم مشاورت جنگ عظیم کے دوران ، ۱۶ مئی ۱۹۱۶ میں ہوئی جہاں برطانیہ ،روس اور فرانس کے نمائندے جمع ہوئے اور ایک خفیہ معاہدے سائکس پیکو پر انھوں نے دستخط کیے ۔ یہ معاہدہ ممکنہ فتح کے بعد بلاد شام کی تقسیم کے متعلق تھا ۔ اس میں طے پایا کہ شام کے علاقوں کو تین حصوں میں تقسیم کر کے برطانیہ ، روس اور فرانس میں بانٹ دیا جائے گا۔ بلاد شام کی یہ توڑ پھوڑ ، مسلمانوں کی قوت کو منتشر کرنے کے ساتھ ساتھ یہودی ریاست کے قیام کے لیے کی جانی تھی۔

download 1تصویر انٹرنیٹ

صلیبی فتح اور فوجی حکومت :
شام پر برطانوی حملہ مارچ ۱۹۱۷ ء میں شروع ہوا تھا۔برطانوی فوج کے ساتھ برطانیہ کے یہودی رضاکار فوجی دستے بھی شامل تھے ۔ بعد میں جب امریکہ جنگ عظیم میں شامل ہوا تو اس نے امریکہ ، ارجنٹائین اور کنیڈا سے یہودی رضاکار فلسطین کی طرف روانہ کیے ۔ بن گوریان وغیرہ نے ان دستوں کو منظم کیا اور یہ جنگ میں شامل ہوئے۔ انگریزوں کو شام میں شدید مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا ۔ لیکن آہستہ آہستہ شہر فتح ہوتے رہے ۔یہاں تک ۹ دسمبر ۱۹۱۷ ء کو بیت المقدس فتح ہوا ۔چناں چہ برطانوی جنرل ایلن بی فاتحانہ شہر میں داخل ہوا ۔اس نے بدنام ِ زمانہ بیان دیا کہ آج صلیبی جنگیں مکمل ہو گئی ہیں ۔ ۱۱۸۷ ء میں صلاح الدین ا یوبی کے ہاتھوں فتح کے بعد یہ پہلا موقع تھا کہ یہاں یورپی تسلط قائم ہوا ۔
جب انگریز وں نے شام پر قبضہ کیا تو انھوں نے یہاں ایک فوجی حکومت ۔ Occupied Enemy Territory Administration )( }} ہیئت انتظامی برائے دشمن مقبوضہ جات قائم کی جو برطانوی، فرانسیسی اور عرب افواج پر مشتمل تھی ۔ عرب سے مراد شاہ فیصل ابن علی بن حسین شریف مکہ کی فوج ہے جو اس جنگ میں انگریزوں کا اتحادی تھا ۔

سان ریمو کانفرنس :
نومبر ۱۹۱۷ ء میں روس میں بالشویک انقلاب آ گیا اور یہ ملک اندرونی خلفشار کا شکار ہو کر وقتی طور پر عالمی سیاست اور جنگی عظیم سے دستبردار ہوا ۔ اس کے بعد اتحادی مشاورتیں جاری رہیں یہاں تک کہ سان ریمو معاہدے میں سائیکس پیکو پر نظرثانی کی گئی ۔اس کے نتیجے میں بلاد شام کے شمالی حصے جن میں (سوریا) شام اور لبنان واقع ہیں فرانس کو دیے گئے جب کہ جنوبی حصہ یعنی اردن اور فلسطین برطانیہ کے قبضے میں دے دیے گئے ۔

a6721282 ab55 4fd5 8f74 d531e3019b8a

جنگ میں امریکی شرکت اور بالفور ڈیکلریشن :

برطانیہ اور فرانس کا اہم اتحادی روس ، انقلاب کے بعد جب جنگ سے پیچھے ہٹ گیا تو اس موقع پر امریکہ کو جنگ میں شامل کرنا ضروری سمجھا گیا ۔چناں چہ مشہور برطانوی سیاست دان ، سابقہ وزیر اعظم اور اس وقت کے سیکرٹری خارجہ لارڈ آرتھر جیمز بالفور نےاپریل ۱۹۱۷ ء میں امریکہ کا دورہ کیا جو بالفور مشن کہلاتا ہے جس کے نتیجے میں امریکہ جنگ عظیم میں باضابطہ طور پر شامل ہوا۔ امریکہ کی اس حمایت میں یہودی کوششیں بھی شامل لگتی ہیں ۔ اس دورے کے چند ماہ بعد فلسطین میں یہودی قومی وطن کے قیام کی ایک قرار داد صیہونی لیڈر راتھ شیلڈ اور کیم وائزر مین ( جو بعد میں اسرائیل کے پہلا صدر بنا ) نے تیار کی ۔ ہربرٹ سیموئیل نے یہ قرار داد برطانوی کابینہ میں پیش کی، کابینہ کی منظوری کے بعد اس کی اطلاع کے طور پر لارڈ آرتھر بالفور نے ، مشہور بینکار اور برٹش یہودی کمیونٹی کے سربراہ روتھ شیلڈ کے نام ایک خط لکھا کہ حکومت برطانیہ فلسطین میں یہودیوں کا قومی وطن بسانے میں مدد کرے گی۔ اسی لیے یہ خط بالفور ڈیکلریشن کہلاتا ہے۔

فوجی حکومت کا خاتمہ اور قانون انتداب :
۱۹۲۰ ء کے بعد مقبوضہ علاقوں میں فوجی حکومتیں ختم کر کے قابض ممالک کے تحت شہری حکومتیں قائم کر دی گئیں۔اس کے لیے لیگ آف نیشنز ( ۱۹۲۰ ء ۔۔ ۱۹۴۶ ء ) کے آرٹیکل ۲ کا سہارا لیا گیا جس میں قوموں کی آزادی کا احترام کرنے کی تاکید کی گئی تھی ۔فرانس اور برطانیہ نے یہ موقف اختیار کیا کہ چوں کہ شامی ممالک ابھی آزادانہ رہنے کے قابل نہیں ہوئے اس لیے ہم ان ملکوں کا نظم و نسق چلائیں گے ۔ گویا ’’ آزادی سے رہنا سکھانے کے لیے انھیں کچھ عرصہ غلام بنا کر رکھنا پڑے گا ‘‘بہرحال لیگ آف نیشنز کی طرف سے برطانیہ اور فرانس کو یہ حق دیا گیا کہ جب تک مقبوضہ اقوام اپنے ملک کا نظم و نسق خود سنبھالنے کے قابل نہیں ہوتیں تب تک یہ ملک ان پر حکومت کریں گے اور جب یہ اقوام آزادی کے قابل ہو جائیں گی تب انھیں آزاد کر دیا جائے گا ۔ یہ اصل میں فوجی استعمار کو سول لباس میں جاری رکھنے کا ایک حیلہ تھا جس نے فرنگیوں کو یہ موقع دیا کہ وہ اس خطے کے سیاسی خدو خال اپنی مرضی کے مطابق ڈھال کر اپنے مفادات کا طویل عرصے کے لئے تحفط کرسکیں۔فرنگی دورِ انتداب مختلف علاقوں میں بیس سے پچیس سال تک جاری رہا۔ اب ہم خطہ شام کے تین بڑے ملکوں کا مختصر کرتے ہیں اس کے بعد چوتھے یعنی فلسطین کا ذکر کریں گے ۔اس لیے کہ قضیہ فلسطین کو سمجھنے کے لیے دیگر تین ملکوں کا تعارف بھی ضروری ہے۔
شام:

51db59af e40e 42e0 beee 8fb48c7ac662
اس علاقے کو سوریا بھی کہا جاتا ہے ۔ جنگ عظیم اول میں جب انگریزوں نے اسے فتح کیا تو امیر فیصل بن حسین بن علی الہاشمی کی سرکردگی میں عربی فوج بھی ان کے ہمراہ تھی ۔ انگریزوں نے امیر فیصل سے وعدہ کیا تھا کہ شام آپ کی عمل داری میں دے دیا جائے گا ۔ لیکن جب اس نے دیکھا کہ اتحادی شام کے حصے بخرے کر رہے ہیں تو اس نے شام کے مختلف علاقوں کے نمائندے جمع کر کے ۱۹۱۹ ء میں خود مختیار متحدہ شام کا اعلان کر دیا ۔۱۹۱۹ ء میں ، حزب استقلال العربی کا قیام عمل میں لایا گیا ۔ شام کے دیگر علاقوں کے مندوبین جمع ہوئے اور ایک مجلس وطنی تشکیل دے کر امیر فیصل کو دستوری بادشاہ مقرر کر لیا۔ اس کے بعد شام کی آزادی کے لیے بہت ساری جہادی و سیاسی تحریکیں چلتی رہیں جن کو دبانے کے لیے فرانسیسی فوجوں نے وحشیانہ اور انسانیت سوز جرائم اور مظالم کا ارتکاب کیا۔ جنگ عظیم دوم کی ابتدا میں جرمنی کے ہاتھوں ہزیمت اٹھانے کے بعد فرانس کچھ کمزور ہوا اور اس نے شام کو آزادی دینے کا اعلان کیا ۔ چند سال بعد ۱۹۴۶ ء میں اس اعلان پر عمل در آمد ہوا اور فرانسیسی قابض فوجوں نے شام سے انخلا مکمل کیا۔(تاریخ العالم الاسلامی الحدیث و المعاصر جلد ۱ ، ۱۴۱ )

لبنان : بلاد شام کا ایک ہم خطہ لبنان تھا۔ یہاں مسلمانوں کے ساتھ عیسائیوں کی خاصی تعداد آباد تھی ۔اس کے علاوہ دروزی اور شیعہ مذہب کے ماننے والے بھی کافی تعداد میں پائے جاتے تھے۔دروزی مذہب نے صلیبیوں کے ساتھ خاص تعلقات قائم کر رکھتے تھےاور یہ عثمانیوں کے خلاف ہمیشہ آمادہ بغاوت رہا کرتے تھے۔ اس کے علاوہ یہ دونوں گروہ آپس میں بھی لڑ جایا کرتے تھے۔ ۱۶۳۵ ء میں عثمانیوں نے دروزیوں کی بغاوت پر انھیں شکست دی اور ان کے اکابرین کو قتل کیا لیکن بعد میں یہ دوبارہ منظم ہوئے ۔سلطنت عثمانیہ کے کمزور ہونے کے بعد استعماری قوتیں یہاں مصروف عمل ہو گئیں ۔ فرانس نے لبنان کے عیسائیوں کے ساتھ اتحاد کیا اور انگریز نے دروزیوں اور شیعہ سے گٹھ جوڑ کیا ۔ ۱۸۶۰ ء میں فرانس نے لبنان پر فوجی حملہ کیا جسے عثمانیوں نے پسپا کر دیا ۔
فرنگی چالوں کے زیر اثر شیعہ اور عیسائیوں نے لبنان میں اودھم مچائے رکھا ۔ عثمانیوں نے ان کو دبانے کی بہت کوشش کی لیکن تنگ آ کر
لبنان کو دو حصوں میں تقسیم کر دیا تھا۔ شمالی حصے پر عیسائیوں جب کہ جنوبی حصے پر دروزیوں کو حکومت دے دی گئی۔
جنگ عظیم اول کے بعد معاہدہ سائیکس پیکو کے تحت لبنان فرانس کے حوالے کر دیا گیا ۔ جس نے یہاں لولی لنگڑی جمہوریت قائم کی۔۱۹۴۳ ء میں شام کی آزادی کے اعلان کے کچھ عرصہ بعد اسے آزاد کیا گیا۔ یہاں مسلمانوں کی اکثریت ہے لیکن ۱۹۳۲ ء کی مردم شماری میں فرانس نے سنی اور شیعہ مسلمانوں کو الگ الگ گروہ شمار کیا اس طرح ان کا تناسب عیسائیوں کے مقابلے میں کم ہو گیا اور یہاں مخلوط حکمت بننے کا طریقہ رائج ہو گیا جو اب تک جاری ہے ۔ یہاں کا صدر اور آرمی چیف عیسائی جب کہ وزیر اعظم اور اسپیکر ، شیعہ و سنی میں سے بنائے جاتے ہیں۔لبنان کی شیعہ جماعت حزب اللہ سیاسی اور عسکری طورپر کافی مضبوط ہے ۔اس کے کئی ارکان اب ایوان کا حصہ بھی ہیں۔ یہ ایران کی حمایت یافتہ ، فلسطین دوست اور اسرائیل مخالف جماعت ہے۔
اردن:

893892dc 65e3 4bb3 93e6 7b0369c0be2a
عثمانی دور میں اردن شام کا حصہ تھا ۔ یہ دریائے اردن کے کنارے واقع ہے اور اس کا زیادہ تر حصہ صحرائی ہے۔ جنگ عظیم اول کے دوران عربی افواج اس علاقے کو فتح کرتے ہوئے شام پہنچی تھیں ۔ امیر فیصل بن حسین بن علی نے جب شام پر اپنی حکومت قائم کی تو یہ علاقہ بھی شام ہی کے ماتحت سمجھا جاتا تھا ۔ بعد جب فرانسیسیوں نے امیر فیصل کو شام سے بے دخل کر کے عراق کی حکومت اس کو عطا کی تو اس کے بھائی عبد اللہ بن حسین بن علی نے یہاں پہنچ کر اردن کا کنٹرول سنبھال لیا۔ ۱۹۲۱ ء میں اس وقت کے ’’وزیر استعماریات برائے مشرق وسطی ‘‘ ونسٹن چرچل نے فلسطین کا دورہ کیا اور یہاں عبد اللہ بن حسین سے ملاقات کی اور اسے فلسطین کے برطانوی کمشنر کے ماتحت اردن کا حاکم مقرر کیا ۔ سالانہ امداد اور فوجی مدد کی شرط پر اس نے عبد اللہ بن حسین کو پابند کیا کہ وہ شام اور فلسطین کی حدود میں کوئی تجاوز نہیں کرے گا ۔ عبد اللہ نے ’’ شریف بچے ‘‘ کی طرح ان شرائط کو نبھایا ۔عبد اللہ نے اردن کی سرکاری فوج بنانے پر کافی محنت کی ۔ جنگ عظیم دوم میں اس نے اتحادیوں کا ساتھ دیا ۔ عبد اللہ بن حسین یہودی ریاست کے خاتمے کو ناممکن سمجھتا تھا اس لیے اس نے شروع ہی سے یہودیوں سے دوستانہ پالیسی اپنائی اور اسرائیل سے تعقات قائم رکھے ۔ کئی مواقع پر اس نے اسرائیل اور عربوں کے درمیان ثالث کا کردار بھی ادا کیا ۔ (جاری)


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481