اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

عدنان سے اردگان تک۔۔

1a6038c4 6c9c 4216 9cb1 1f659c802215

 تحریر۔ صوفی جمیل الرحمٰن عباسی

3f83700c 8fba 4155 a971 240272fe5bf8 612x430 1

۱۹۰۹ء میں آخری باختیار عثمانی خلیفہ جناب سلطان عبد الحمید کی معزولی سے طویل ترک تاریخ نے ایک نیا موڑ لیا تھا۔ جس کے بعد ’’اندھا موڑ‘‘ ۱۹۲۴ء میں آیا جب فوجی افسر مصطفیٰ کمال پاشا1881ء – وفات: 10 نومبر 1938ء نے عسکری محاذ پر بچھے کچھے ملک کا دفاع کرنے کے بعد خلافت کی تنسیخ کر کے جمہوریہ ترکی کی بنیاد رکھی۔ یہ نیا ملک جہاں جغرافیائی اعتبار سے تنگ نائیوں میں گھرا ہوا تھا وہیں یہ نظریاتی طور پر بھی پستیوں میں گرا ہوا تھا۔ امت ، اخوت و شریعت اسلامی سے گریزاں یہ ایک سیکولر ریاست تھی ۔ شرعی قوانین اور ملکی نظم و ضبط کی بات تو چھوڑیں عربی زبان میں اذان دینے تک پر پابندی عائد کر دی۔ قرآن و سنت کی تعلیم کو روک دیا گیا تھا۔ ترک قوم کا ایک بڑا حصہ دین سے دور تو ہوا لیکن اصلاحی سرگرمیاں بھی ساتھ ہی جاری رہی۔ بدیع الزمان سعید نورسی 1873 تا 1959ء نے تصوف کے نقشبندی سلسلے اور اس کے ذریعے مساجد اور خانقاہوں کو زندہ رکھنے کی سعی جاری رکھی ۔ خطوط و رسائل کے ذریعے انھوں نے عوام الناس میں دین کی شمع کو بھجنے نہیں دیا ۔ اگرچہ انھیں اتاترک کی حکومت میں قید و بند کی صعوبتیں بھی اٹھانا پڑیں لیکن وہ اپنے مشن سے پیچھے نہیں ہٹے ۔اسی طرح شیخ محمود آفندی ۱۹۲۹ ء ۔۔۔ ۲۰۲۲ ء کی علمی و اصلاحی اور صوفیانہ تحریک نے بھی ترکوں کو اسلام سے جوڑے رکھا بلکہ رجب طیب اردگان سمیت کئی اصحاب اقتدار آپ کی دعوت سے عمدہ طور پر متاثر ہیں ۔
تاترک کی ملحدانہ اور لبرل سیاست کے بعد ترک سیاست و حکومت میں مثبت تبدیلی یا اصلاح کی بات کریں تو اس کی ابتدا کا سہرا جناب عدنان میندرس(۱۸۹۹ ء تا ۱۹۶۱ ء ) کے سر ہے۔برس ہا برس خلق پارٹی سے وابستہ رہنے کے بعد انھوں نے ۱۹۴۶ میں ڈیموکریٹک پارٹی قائم کی جو واقعی اور حقیقی جمہوری پارٹی تھی۔1950ء میں ڈیموکریٹک پارٹی نے خلق پارٹی کی 69 نشستوں کے مقابلے میں 408 نشستیں حاصل کرکے شاندار کامیابی حاصل کی تو جلال بایار صدر اور عدنان میندریس وزیر اعظم منتخب ہوئے۔ انقلابِ سفید اسلام پر چلنے میں قانونی رکاوٹوں کو ختم کیا ۔ ۱۹۵۰ میں انھوں نے عربی اذان اور اقامت پر عائد پابندی ختم کی۔ مذہبی امور کے محکمہ پر عائد پابندیاں ختم کیں ،حج پر عائد پابندی ختم کی تو ۲۵ سال بعد ترک حج پر گئے چند سو ترک ۔ عدنان میندرس کے دور میں ایک اہم کام امام خطیب اسکول کا احیا ء تھا ۔ جو اگرچہ کافی پہلے جاری کیا گیا تھا لیکن ناقص نظام تعلیم کی وجہ سے وہ عوام میں اپنی قدر و منزلت کھو چکا تھا ۔ ان کے دور میں اس اسکول کا احیاء ہوا اور اسلامی تعلیمات کو اعلی معیار کے مطابق یہاں پڑھایا جانے لگا ۔ عدنان وہ آئین میں سے خلاف اسلام دفعات کا خاتمہ کرنا چاہ رہے تھے کہ فوج ان کے خلاف میدان میں آ گئی ۔ حکومت کا تختہ الٹ دیا گیا اور آئین شکنی کا کیس بنا کر ایک فوجی عدالت سے آپ کو پھانسی دلوا دی گئی۔ ان کے وزیر خارجہ فوجی حکومت ڈیموکریٹک پارٹی توڑ دی گئی اور اس کے ممتاز ارکان پر تا حیات ناہل قرار دیا گیا ۔
اگلے چند سال ملک میں حکومت کے نام پر سیکولر فوجی ناچ جاری رہا۔ یہاں تک کہ جدید ترکی سیاست کے ایک درخشندہ ستارے جناب ڈاکٹر پروفیسر نجم الدین اربکان عملی سیاست کی طرف متوجہ ہوئے ۔ پیشے کے اعتبار سے ایک ماہر مکینیکل ا نجینیر تھے ۔ جو جرمنی میں پی ایچ ڈی کے بعد اپنے شعبے میں شاندار کارگؤکردگی دکھانے کے بعد وطن لوٹے تھے ۔ آپ نے استبول ٹیکنیکل یونی ورسٹی میں تدریس کے علاوہ موٹر سازی کے شعبہ میں اہم خدمات سر انجام دیں ۔ آپ ملک میں صنعتوں کے قیام کے لیے بہت محنت کرتے یہاں تک کہ ترکی میں صنعت و تجارت کے اعلی ادارے یونین آف چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے ڈائریکٹر بنائے گئے۔ دینی اعتبار سے آپ کا تعلق نقش بندی سلسلے سے تھا اور اسلامی نظریات و عبادات میں گہرا شغف رکھتے تھے۔ جب سیلمان ڈیمرل نے نا جائز طور پر انھیں چیمبر آف کامرس سے نکالا تو انھوں نے سیاست میں عملی طور پر حصے لینے کا ارادہ کیا ۔

 

 

۱۹۶۹ ء میں نیشنل سالویشن پارٹی قائم کی اور ۱۹۷۳ ء کے الیکشن میں ۴۸ سیٹیں حاصل کر لیں ۔آپ نائب وزیر اعظم بھی رہے ۔ترک سیکولر فوج نے متعدد بار آپ کی جماعتوں کو کالعدم قرار دیا اور آپ کو کچھ عرصہ قید و بندکی صعوبتیں بھی برداشت کرنا پڑیں ۔ ہر پابندی کے بعد وہ ایک نئے نام سے جماعت بنا کر میدان میں آجاتے ۔ آپ نے نیشنل سالویشن پارٹی ، سلامت پارٹی ، سعادت پارٹی ۔ فضیلت پارٹی اور رفاہ پارٹی قائم کیں ۔ ۱۹۸۷ ء میں آپ نے رفاہ پارٹی کی بنیاد رکھی۔ ۱۹۹۰ ء کے الیکشن میں آپ کی جماعت نے نے چالیس سیٹیں حاصل کیں ۔ اب اسلام پسند جماعت ، ترک سیاست میں ایک اہم عنصر کے طور پر متعارف ہوئی ۔ ۱۹۹۵ ء کے الیکشن میں رفاہ پارٹی نے ۲۱ فیصد دوٹ حاصل کیے اور اور نجم الدین اربکان ترکی کے وزیر اعظم بنے لیکن سیکولر فوج نے ایک بار پھر مداخلت کی اور ۱۹۹۷ ء میں اربکان حکومت کا تختہ الٹ دیا گیا۔ اور رفاہ پارٹی پر پابندی عائد کر دی گئی۔
اربکان حکومت کے خاتمے کے بعد ۲۰۰۲ ء تک سیکولر جماعتوں کے اتحاد نے بلند ایجوت کی وزارت عظمٰی کے سائے میں حکومت کی ۔ اس حکومت کی اقتصادی کارگردگی مایوس کن تھی ۔ عالمی بنک کے ایک سابق نائب صدر کمال درویش کو وزیر اقتصادیات مقرر کیا گیا تھا جن کی ’’ بے کمال ‘‘ قیادت میں آئی ایم ایف کے قرضوں میں مزید اضافہ ہوا اور ملک معاشی بحران کا شکار رہا ۔ لیرا کی قیمت میں کمی ، شرح سود اور مہنگائی میں اضافہ ہوا ۔یہاں تک کہ مئی ۲۰۰۲ ء میں بلند ایجوت کی پارٹی کے کئی اہم وزراء اور ارکان اسمبلی نے استعفی دے دیا اور قبل از وقت الیکش کرانے پڑے۔ چناں چہ نومبر 2002ء کو انتخابات کا انعقاد کیا گیا۔
سیکولر لوگوں کی ماڑ دھاڑ اور آپی دھاپی کے سالوں میں ترکی کے اصلاح پسند صوفی اور اسلام پسند سیاسی اپنی محنت میں مگن رہے۔ ان میں ایک اہم نام رجب طیب اردوگان کا ہے۔ آپ کی پیدائش ۱۹۵۴ ء میں ہوئی۔ آپ ایک عام متوسط گھرانے کے فرد تھے جنھیں جوانی میں روزگار کے لیے مختلف قسم کی محنتیں کرنا پڑیں ۔ رجب طیب ، عدنان میندرس کے بنائے اسکول سسٹم امام خطیب اسکول کے پڑھے ہوئے تھے۔ یونیورسٹی کی تعلیم کے دوران آپ کی ملاقات نجم الدین اربکان سے ہوئی اور ان سے متاثر ہوئے اور طویل عرصہ اربکان کے ایک سیاسی کارکن کی حیثیت سے کام کیا ۔۱۹۹۴ ء میں ہونے والے بلدیاتی الیکشن میں وہ اربکان کی رفاہ تنظیم کے ٹکٹ پر بلدیاتی الیکشن میں حصہ لے کر استنبول کے مئیر بن گئے ، یہ شہر گوناں گوں مسائل کی آماج گاہ بنا ہوا تھا ۔ اردوگان نے دن رات اس شہر کی خدمت کی اور اور اس شہر کے کئی مسائل کو حل کر کے چند ہی سالوں میں اسے ایک خوبصورت شہر کا روپ دے ۔ انھوں نے استنبول میں صفائی اور ہریالی لانے کے لیے عمدہ اقدامات کیے ۔کرپشن ، پانی کی قلت اور فضائی آلودگی ختم کرنے میں انھوں نے کامیابی کی ۔
۱۹۹۷ میں اسلامیت پر مبنی نظم پڑھنے کے جرم میں انھیں نہ صرف استنبول کی سربراہی سے معزول کر دیا گیا بلکہ انھیں جیل بھی جانا پڑا ۔ ۲۰۰۱ میں انھوں نے رفاہ پارٹی میں اپنے ہمکار جناب عبد اللہ گل کے ساتھ مل کر جسٹس اینڈ ڈویلپمنٹ پارٹی بنائی۔ اسی دوران ۲۰۰۲ ء کے الیکشن آ گئے ۔ اگرچہ اسلامی نظم پڑھنے کی سزا کی وجہ سے اردگان خود انتخاب نہ لڑ سکے لیکن ان کی جماعت اس الیکشن میں ایک بڑی جماعت اور اکثریتی جماعت بن کر سامنے آئی ۔فتح کے بعد جناب عبد اللہ گل وزیر اعظم بنائے گئے۔ انھوں نے وزیراعظم بن کر ایسی قانونی ترامیم کیں جن کے نتیجے میں اردگان کی نا اہلیت کا فیصلہ کالعدم ہوا ۔اس کے بعد کرد اکثریت کے شہر سِرت سے اردگان نے ضمنی الیکشن میں حصہ لیا اور پچاسی فی صد ووٹ لے کر کامیاب ہوئے اور اس طرح 2003ء سے انھوں نے وزیر اعظم کا عہدہ سنبھالا ۔ عبد اللہ گل ان کی خاطر وزارت عظمیٰ سے دست بردار ہوئے اور انھیں وزیر خارجہ کا عہدہ دیا گیا۔ ۲۰۰۷ ء کے الیکشن میں انصاف و ترقی پارٹی نے سادہ اکثریت حاصل کی اور بلا شرکت غیرے حکومت قائم کی ۔ سابق وزیر خارجہ عبد اللہ گل صدر بنائے گئے جب کہ رجب طیب اردگان وزیر اعظم بنے۔اپنے اس دورِحکومت میں رجب طیب اردگان اور ان کی ٹیم ملک کی تعمیر و ترقی میں لگے رہے اور مختلف اعتبارات سے انھوں نے ملک کی نمایاں خدمت سر انجام دی ۔ ۲۰۱۱ ء کے الیکشن میں بھی عدل و ترقی پارٹی کو برتری حاصل ہوئی جس سے رجب طیب ادگان سیاسی طور پر مزید مضبوط ہوئے۔ رجب طیب اردگان نے فوج کے سیاسی کردار کو کم کرنے کے لیے بھی کام کیا چناں چہ آپ ہی کوششوں سے ۲۰۱۳ ء میں سیاسی سازشوں میں شریک ۱۷ فوجی افسران کو عمر قید کی سزا سنائی گئی ۔ ۲۰۱۶ ء میں جب فوج نے

اردگان حکومت کا تختہ الٹنے کی کوشش کی تو عوام فوج کے خلاف کھڑے ہو گئے اور بغاوت ناکام رہی ۔ ۲۰۱۴ ء میں براہ راست انتخابات سے آپ ملک کے صدر منتخب ہوئے یہ ملک کا پہلا صدارتی الیکشن تھا ورنہ اس سے پہلے صدر کا انتخاب پارلیمانی نمائندوں کو صدر کے انتخاب کا حق حاصل تھا ۔ اردوگان نے کئی آئینی اصلاحات کے بعد ملک کا سیاسی نظام پارلیمانی کے بجائے صدارتی کر دیا گیا۔ ۲۰۱۸ ء کے قبل از وقت الیکشن میں ایک بار بھی عدل و ترقی پارٹی کو کامیابی حاصل ہوئی اور اردوگان براہ راست صدارتی انتخاب میں کامیاب ہو کر اگلی مدت تک کے لیے صدر بنا دیے گئے ۔اس مدت کا اختتام جون ۲۰۲۳ ء میں ہو رہا تھا لیکن اردوگان نے ایک ماہ قبل الیکشن کرانے کا اعلان کیا ہے اور اس کے لیے ۱۴ ء مئی کی تاریخ مقرر کی گئی ہے۔ اردوگان کے مطابق ایسا کالج یونیورسٹی کی امتحانی تاریخوں کی وجہ سے کیا گیا ۔ بعض لوگ اسے اردوگان کی سیاسی چال قرار دے رہے ہیں تاکہ اپوزیشن کو تیاری کے لیے مناسب وقت نہ مل سکے۔ بعض لوگ ۱۴ مئی کی تاریخ کا تعلق ۱۹۵۰ ء میں ہونے والے ان الیکش کے ساتھ جوڑ رہے ہیں کہ جو ۱۴ مئی ہی کو منعقد ہوئے تھے جن کے نتیجے میں جناب عدنان میندرس کامیاب ہو کر وزیر اعظم بنے تھے ۔ جنھوں نے شعائر دینی پر عائد پابندیاں ہٹا کر سیکولر ازم کی پسپائی اور اسلامیت کی پیش قدمی کی ابتدا کی تھی۔
رجب طیب اردگان کم و بیش پچھلے بیس سال سے ترکی کی قیادت کر رہے ہیں ۔ ان کے کارناموں کی فہرست طویل ہے جس کا خلاصہ یہ ہے کہ آپ کی قیادت میں ترکی ۲۳ ارب ڈالر کے غیر ملکی قرضے کے بوجھ سے آزاد ہوا۔ آپ کے دور میں تعلیم اور صحت کے بجٹ میں کئی گنا اضافہ کیا گیا یہاں تک کہ تعلیم اور علاج ، عوام کو مفت فراہم کئے جانے لگے ۔ملک میں بہت سارے نئے ہوائی اڈے قائم کیے جن میں استنبول کا ایک بڑا ہوائی اڈہ بھی شامل ہے ۔ ملک کے طول و عرض میں ہزاروں کلومیٹر سڑکیں تعمیر کی گئیں۔ رجب طیب اردگان کے ادوارِ حکومت میں ریلوے کے نظام کو بہتر کیا گیا اور ایک ہزار کلومیٹر سے زیادہ ریلوے ٹریک بچھائے۔بجلی اور گیس کی لوڈ شیڈنگ میں خاتمہ بھی آپ کی حکومت کو ایک کارنامہ ہے ۔رجب طیب اردوگان کی حکومت نے بھاری صنعتوں میں بھی کافی ترقی کی اور اسی دور میں فی کس آمدنی میں بھی اضافہ ہوا ہے۔
ملت اسلامیہ کے مسائل پر دوٹوک موقف ، اسرائیل پر تنقید اور فلسطین کی حمایت اور بیرون ملک خصوصا مظلوم مسلمانوں کے درمیان رفاہی سرگرمیاں بھی آپ کی مقبولیت میں اضافہ کرتے ہیں ۔ اسی طرح بعض عالمی تنازعات میں اردوگان کا فعال مصالحانہ کردار انھیں اپنے مقابل امیدوار سے ممتاز کرتا ہے اس کی ایک بڑی مثال روس اور یوکرین کے درمیان جنگ کے بعد یوکرینی گندم کی ترسیل کے لیے اقوام متحدہ اور ترکی کی کوششوں سے استنبول میں ہوا ۔
رجب طیب اردوگان نے شام میں اپنی فوجیں بھیج کر دہشت گردی کے خلاف موثر کار روائیاں کی ہیں ۔اس کے علاوہ کرد ملیشیا کے خلاف بھی فوجی کار روائی کی گئی۔ آرمینیا کے خلاف آذر بائیجان کی مدد اور اسرائیل کے خلاف فلسطین کی حمایت کی ۔شام کی مہاجرین کی آباد کاری کے لئے بھی ترکی نے بہت قربانیاں دی ہیں ۔بحیرہ روم میں سمندری حدود کے مسئلے پریونان اور قبرص کے خلاف سخت موقف اپنایا گیا ۔ یہی وہ اقدام ہیں جنھیں ایک طرف تو اسلام پسند طبقہ پسندیدگی کی نظر سے دیکھتا ہے تو سیکولر طبقات کی تنقید بھی اسی پر ہے ۔ اسلام پسند اسے خلافت اسلامی کی جانب پیش قدمی قرار دیتے ہیں جب کہ اردوگان کے مخالف اسے ’’ استبدادی دور ‘‘ کی طرف رجعت قرار دیتے ہیں ۔ اردگان کے پہلے دس سالوں کی اقتصادی صورت حال کا تقابل اگر اردگان سے پہلے والے ادوار سے کیا جائے تو ایک شان دار معاشی صورت حال سامنے آتی ہے۔ کہاں وہ دور کہ ترکی آئی ایم ایف کا مقروض تھا اور کہاں یہ عالم کے اردگان نے قرض کی ادائی کے بعد یہ بیان جاری کیا کہ ہم قرض دینے کی پوزیشن میں آ گئے ہیں لیکن اگر ہم اردگان کے پہلے سالوں کا تقابل ان کے آخری دور سے کریں تو معاشی صورت حال خراب نظر آتی ہے۔ ڈالر کے مقابلے میں لیرا کی قیمت میں کمی ، افراط زر اور مہنگائی میں اضافہ وہ صورت حال ہے جو رجب طیب اردوگان کی مقبولیت میں کمی اور ا ن کے ناقدین کے حوصلوں کے اضافے کا باعث ہے۔ البتہ حقیقت پسندانہ نظر سے دیکھا جائے تو اس معاشی صورت حال میں کرونا کی وبا اور حالیہ زلزلے کا عمل دخل بھی کافی حد تک ہے۔
اردگان کے مقابلے میں تین صدارتی امیدواروں میں مضبوط ترین کمال قلیچ دار اوغلو ہیں جو جمہوری خلق پارٹی کے صدر اور چھے سیاسی جماعتوں کے حمایت یافتہ ہیں ۔ کمال بے ایک عشرے سے قائد حزب اختلاف کا کردار ادا کر رہے ہیں اور منجھے ہوئے سیاست دان ہیں ۔ وہ اردگان کی خارجہ پالیسیوں پر نظر ثانی کرنے کا عندیہ دے چکے ہیں ان کا دعوی ہے کہ وہ اپنی مثبت پالیسیوں سے اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کو اپنی جانب متوجہ کر یں گے ۔ اس وقت دونوں اپنی عوامی طاقت کا اظہار کر رہے ہیں اور بڑے بڑے جلسے کر رہے ہیں ۔ استنبول کا جلسہ رجب طیب اردگان کی کامیاب انتخابی مہم کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق اس جلسے میں سترہ لاکھ افراد شامل ہوئے ہیں ۔ اس سے اردگان کی مقبولت میں اضافہ متوقع ہے۔ دنیا بھر کی نظریں ترکی کے الیکشن پر ہیں اور دنیا بھر کے اسلام پسندوں کی دعائیں رجب طیب اردگان کے ساتھ ہیں ۔ ہم اردگان کی کامیابی ، مستقبل میں بہتر کارکردگی اور کمی کوتاہیوں کی اصلاح کے لیے دعا گو ہیں ۔


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481