اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

نظم۔۔۔۔۔ "آرزو کی بے نیشی”

120642057 mediaitem120642055

رئیس  امروہوی کا اصل نام سید محمد مہدی تھا۔ آپ ستمبر 1914 میں امروہہ میں پیدا ہوئے۔ صحافت سے تیس کی دھائی میں منسلک ہو گئے تھے امروہہ کے معروف اخباروں کی ادارت کی لیکن قیام پاکستان کے بعد کراچی آگئے اور جنگ سے وابستہ رہے۔ آپ کی ادارت میں جنگ اخبار نے خوب ترقی کی۔

رئیس امروہوی شاعر اور کالم نگار کے طور بہت مشہور ہوئے لیکن نثر میں آپ نے فلسفہ، نفسیات اور روحانیت کے حوالے سے گراں قدر کام کیا ہے جس سے بہت کم استفادہ کیا گیا ہے۔ اپنے چھوٹے بھائی جون ایلیا کی طرح خود کو تباہ کر کے ملال بھی نہ کرنے کے بجائے رئیس امروہوی نے پوری زندگی علم و آگہی عام کرنے میں صرف کی۔ 1988 میں انسانیت کے دشمنوں نے علم و آگہی کے اس چراغ کو گل کر دیا۔

آدمی کی تلاش میں ہے خدا
آدمی کو خدا نہیں ملتا

۔۔۔۔۔۔

کس نے دیکھے ہیں تری روح کے رستے ہوئے زخم

کون اترا ہے ترے قلب کی گہرائی میں

۔۔۔۔۔۔۔۔۔

سرشار و سربلند و سیہ مست و سرفروش

ماحول اپنے حال میں گم ہو وہ حال ہو

۔۔۔۔۔۔۔۔

مردان حق کا عزم شہیدان حق کا جرم

دلدادگان شیوۂ دار و رسن سے پوچھ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
گرا ہے شاخ گل سے ایک پتہ

کسی نے کیا مجھے آواز دی ہے

 

نظم "آرزو کی بے نیشی”

 خراج عقیدت بہ حضور علامہ محمد اقبال

طبیب عشق ، مسیحائے اہل دل اقبال
کمال فقر ہے تیرا مقام درویشی
رہ طلب میں ترے نقش پا سے روشن ہے
چراغ خود نگری ، مشعل خود اندیشی
کمی کا اس کے مراتب میں احتمال ہو کیا
مدارج بشریت میں جس نے کی بیشی
غضنفری و نہنگی کا طرز سیکھ گئی
وہ قوم جس کی روش گوسفندی و میشی
عروج فکر و تصور سے دب گئی تیرے
عدو کی بدنظری ، غیر کی کج اندیشی

طبیب عشق کی خلوت میں کل ہوئی اے دوست
مریض درد محبت کی دفعتا پیشی
مسیح دیدہ و دل سے گلہ کیا میں نے
نہ اب وہ ذوق طلب ہے نہ دور اندیشی
طبیب عشق نے دیکھا مجھے تو فرمایا
ترا مرض ہے فقط آرزو کی بے نیشی

جسے معنوی نے بخشی نئی زمزمہ طرازی
وہی اک حکایت نے ترا ذوق نے نوازی
کبھی ہے نوائے ہندی ، ترا بذلہ عراقی
کبھی اک سرود رومی ، ترا نغمہ حجازی
ترا شوق والہانہ ، ترا ذوق دلبرانہ
تری شان غزنوی میں ہمہ شیوہ ایازی

ترے فلسفے سے ظاہر تری شاعری سے روشن
تری جہد خود فروزی،  تری سعی خود فرازی
ترے نعرہ خودی سے خجل و خفیف اب تک
وہی معرکوں کے ملا وہی مسجدوں کے غازی

تری فکر پر کشا کا کوئی جاذبہ تو دیکھے
وہ طیور پر شکستہ یہ کمال شاہبازی
ترے جذبہ نہاں کو کوئی کیا سمجھ سکے گا
ہمہ با خودی و بے خود ہمہ رازدار و رازی
تری کیفیات باطن تری واردات ظاہر
کبھی صد نیاز مندی کبھی ایک بے نیازی
ہمہ اختصاص فطرت ترا جوہر خصوصی
ہمہ امتیاز قدرت ترا عشق امتیازی

ترے ہم نفس نہ پہنچے ترے شعلہ نفس تک
ترے ہم نوا نہ سمجھے تری زمزمہ نوازی
ترے اہل صومعہ سے ترے اہل زاویہ سے
مجھے پوچھنا پڑے گا بہ امید کارسازی
ترے صومعے میں کب تک یہ حضور بے حضوری
ترے زاویے میں کب تک یہ نماز بے نمازی

غم ایں و آں میں تجھ کو غم عاشقی نہ بھولا
پئے دیگراں بہ سوزی پئے خویشتن بہ سازی
چہ وجود دل نشینی کہ بجان و دل مکینی
چہ نمود نازنینی ، بہ تو می شود کہ نازی

نئی جستجو کی ضامن نئی آرزو کی حامل
تری جستجو پسندی ، تری آرزو نوازی
ترا ثمرہ ء طلب ہے ترا نعرہ ء رجز ہے
یہ جو خاک ایشیا پر ہے جہاد ترکتازی
ترا پرتو تصور ، ترا جلوہ ء تخیل
یہ عجم کے آئینے میں جو ہے جوہر حجازی
جو بساط زندگی پر نئی فتح کا قرینہ
وہی بازی ء جنوں تو ہے طلب کی شاہبازی

تجھے پیش کر رہا ہوں ترا ارمغان یثرب
تری نذر کر رہا ہوں ترا تحفہ ء حجازی
اسی کشمکش میں گزریں تری زندگی کی راتیں
” کبھی سوز و ساز رومی کبھی پیچ و تاب رازی”
…… (نظم بہ شکریہ جناب اعجاز الحق اعجاز)


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481