اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

لاجواب غزل

Khalid Aleem خالد علیم 1 1

خالد علیم اردو ادب سے دلچسپی رکھنے والوں کے لیے ایک منفرد اور معتبر نام ہے۔ ہر صنف سخن میں آپ نے کامیاب طبع آزمائی کی اور اپنے کمالِ فن کا لوہا منوایا۔

حمد و نعت کی سعادت و برکت بہ زور بازو ممکن نہیں۔ یہ خالصتا عطا کا معاملہ ہے۔ جناب خالد علیم پر اس سلسلے میں رب اظہار کا خصوصی کرم رہا ہے۔

مرے کلام میں تاثیر اسی کے دم سے ہے
اسی سے فکر کی بنجر زمین ہے زرخیز

آپ نے غزل اور نظم کے علاوہ رباعیات بھی کہیں جو "تمثال” کے نام سے شائع ہوئیں۔ ان کی دیگر تصانیف میں محامد، فغان دل، شام، شفق تنہائی، کوئی آنکھ دل سے بھری رہی، بغداد آشوب، اردو شاعرات کی نعتیہ شاعری اور کلیات نما شامل ہیں۔

غزل

کاندھوں سے اتر کر باپ کے وہ، پہلو میں کھڑے ہو جاتے ہیں
جب بچے بولنے لگ جائیں، خاموش بڑے ہو جاتے ہیں

کھانے کی میز پہ برتن بھی جب سونا چاندی بن جائیں
آخر شوکیس کی آرائش مٹی کے گھڑے ہو جاتے ہیں

ان لوگوں کا کیا پوچھتے ہو، یہ لوگ ہیں نچلی بستی کے
مٹی کے ساتھ ہی یہ مٹی، مٹی میں پڑے ہو جاتے ہیں

جن شہروں کی آبادی میں احساس کی کوئی ریت نہ ہو
ان شہروں پر ویرانی کے میدان کھڑے ہو جاتے ہیں

اولاد جواں جب ہو جائے، سوچا ہے کبھی ان بوڑھوں پر
جو دن ان کے آرام کے ہیں، کیوں ان پہ کڑے ہو جاتے ہیں

خالد یہ باتیں ٹھیک نہیں، اتنا نہ الجھ تو لوگوں سے
صرف اپنے بڑوں کے مرنے سے کچھ لوگ بڑے ہو جاتے ہیں
۔۔۔۔۔
خالد علیم

Screenshot 20230416 141958 1


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481