اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

”ایک افسانہ ایک حقیقت“ عید کہانی

WhatsApp Image 2023 02 23 at 00.54.46

عصر کاوقت تھا، موسم ابر آلود تھا، اچانک تیز آندھی چلی اورموسلادھار بارش شروع ہو گئی،  ہر طرف اندھیرے چھا گیا، والدگرامی اور بڑے بھائی گھر پہنچے تو اُن کے کپڑے مکمل بھیگ چکے تھے۔
اماں نے چولھے میں ”ساناتھے“ کی جھاڑیاں ڈال کر آگ کا الاؤ بلند کرتے ہوئے ابا اور لالہ کو کہا کہ سردی میں بھیگ کر آئے ہیں اس لیے ہاتھ گرم اور کپڑے خشک کر لیں، اِسی دوران اماں نے سُنڈ مرچ والا قہوہ تیار کر لیا اور پیالیوں میں ڈالتے ہوئے کہا:
” اس تیز بارش اور دھند میں چاند کیسے نظر آئے گا؟“
ابا بولے:
”کوئی بات نہیں، ریڈیو پر اعلان ہو گا تو سن لیں گے میں آج نئے سیل بھی لے آیا ہوں۔“
مغرب کی نماز ادا کرنے کے بعد ابا جی اپنے نیشنل کے ریڈیو میں نئے سیل ڈال کر سات بجے کی خبریں سننے لگے،موسم کی خرابی کی وجہ سے ریڈیو سے سڑ سڑ کی آوازیں آرہی تھیں، ابا جی کبھی ریڈیو کا انٹینا باہر نکالتے کبھی سٹیشن تبدیل کرتے، آخر کار سڑ سڑ میں ہی یہ آواز سنائی دی کہ:
”ہلال کمیٹی کا اجلاس بیٹھا ہے آٹھ بجے رمضان کا چاند نظر آنے یا نہ آنے کا اعلان کیا جائے گا۔
میرا دل مچل رہا تھا کہ کب اعلان ہو گا، آٹھ بجنے میں ابھی بیس منٹ باقی تھے تو ہلال کمیٹی کے چیئرمین کی طرف سے اعلان ہوا کہ رمضان المبارک کا چاند نظر آگیا ہے لہذا کل پہلا روزہ ہو گا۔
بارش اب تھم چکی تھی،درختوں کے پتوں سے پانی گرنے کی آوازیں ماحول میں سنساہٹ پیدا کر رہی تھیں کہ اب ہر طرف گولوں اور پٹاخوں کی آوازیں آنے لگیں ہم نے بھی باہر نکل کر گولے فائر کر کے اس بات کا اظہار کیا کہ چاند نظر آگیا اور صبح پہلا روزہ ہو گا۔
بجلی بند تھی،صوفی کمال چچا نے مسجد کے باہر کھڑے ہو کر عشاء کی اذان دی، لالٹین کی روشنی میں لوگ گھروں سے مسجد کی طرف چلنے لگے، میں بھی لالٹین کی روشنی میں ابا جی کے ساتھ مسجد پہنچا۔ حولدار فاضل چچا، نیاز احمد چچا، مصطفی لالا پہلی صف میں بیٹھے تھے، قاری اشرف صاحب بھی مسجد میں پہنچ چکے تھے اور پہلی صف میں سنتیں ادا کر رہے تھے۔ تین صفوں پر مشتمل اس چھوٹی سی مسجد میں بہت رونق تھی، نیچے کھجور کے پتوں کی پُھڑیاں اور اوپر کپڑے کے دریاں بچھی تھیں۔ قاری اشرف صاحب کی امامت میں پہلے فرض نماز ادا کی پھر انھوں نے دس سورتیں پڑھ کر تراویح پڑھائی اور پھر وتر پڑھائے۔ میرے لیے باجماعت وتر ایک نیا تجربہ تھا تیسری رکعت میں قاری صاحب نے اللہ اکبر کہہ کر کانوں تک ہاتھ اٹھائے تو میں رکوع میں چلا گیا اور جب تک دوسری اللہ اکبر کی آواز آتی میں رکوع کی حالت میں ہی رہا۔
وتر اور بقیہ نماز کے بعد قاری صاحب اونچی آواز میں درود شریف پڑھنے لگے:
صل علی نبینا صلی علی محمد
صل علی شفیعنا صلی علی محمد
سب نمازیوں نے بھی قاری صاحب کے ساتھ ہم آواز ہوکر درود شریف پڑھا۔ پھر لوگوں کے فرمائش پر سُریلی آواز میں مصطفی لالہ نے حمد باری تعالیٰ بھی پڑھی:
پروردگار عالم تیرا ہی ہے سہارا
تیرے سوا جہاں میں کوئی نہیں ہمارا
مسجد سے گھر آئے تو اماں نے بڑے بھائی کو کہاکہ” پُتر!گھڑی کا الارم لگا دو ایسا نہ ہو کہ سحری میں آنکھ نہ کھلے ۔“
سحری میں اماں کے ہاتھوں دیسی گھی میں بنتے ہوئے دیسی پراٹھوں کی خوشبو میں آنکھ کھلی اور سحری کی۔ یہ میری زندگی کا پہلا روزہ تھا،سکول میں ہر کسی سے پوچھوں کہ آپ کا روزہ ہے اگر کوئی سنگی دوست کہے کہ جی میرا روزہ ہے تو میں بھی کہتا کہ میرا بھی روزہ ہے۔ سردیوں کا روزہ تھا اس لیے پتہ ہی نہیں چلا کہ دن کیسے گزرا۔ شام کو ابا بازار سے کھجوریں،رس اور شِیر مال لائے، اماں اور ددھے(باجی) نے مل کر تھالی بھر کے پکوڑے بھی تل لیے تھے۔ سب نے مل کر روزہ افطار کیا، مجھے چائے کے ساتھ شیر مال بہت پسند آیا، اماں مجھے کہنے لگی:”پُترا!سارے روزے نہ رکھنا، جمعے کا روزہ رکھا کرو، ابھی تم چھوٹے ہو داغ لگ جائے گا۔“
اٹھارواں روزہ تھا، میں سکول سے گھر آیا تو اماں صحن کی لپائی کر رہی تھی، میں پاس بیٹھ کر مخاطب ہوا:
”اماں جی میں کل ابا جی کی ساتھ بازار چلا جاؤں“؟
اماں نے پوچھا:” کیوں بازار میں کیا کام ہے، عید کے کپڑے جوتیاں تو خرید لیے ہیں، اب اور کیا ضرورت ہے “؟
میں نے کہا :” میں نے عید کارڈ اور پستول لینا ہے، سکول میں میں چھٹیاں ہونے سے پہلے میں نے دوستوں کو عید کارڈ دینے ہیں “۔
اماں نے مسکرا کر اجازت دے دی، اماں کی مسکراہٹ سے مجھے ایسا لگا کہ کائنات کا سارا حسن جمع ہو کر میری ماں کے چہرے پر آگیا ہے میں مٹی گارے کی پرواہ کیے بغیر بے ساختہ اماں سے لپٹ گیا، یہ لمحہ میری زندگی کا حسین ترین لمحہ تھا۔

5cefa4c79051e
دوسرے دن میں ابا جی کے ساتھ بازار کی طرف چل پڑا۔ گھر سے آگے چل کر کچھ فاصلے پر عزیز چچا اور حولدار فاضل چچا بھی ہمارے ساتھ مل گئے۔ چڑھائی چڑھتے راستے میں اٹھتے بیٹھتے ہم نو بجے تھوراڑ بازار پہنچے۔
دکانیں کھل گئی تھیں، بیکری کے کارخانے سے دھواں نکل رہا تھا، چچا جمال اپنے لکڑی کے ترازو پر کسی کو آٹا تول کر دے رہے تھے، ستّی بھیا کھجوریں صاف کر رہے تھے، صوفی حسین صاحب کی دکان سے لوگ عید کی خریداری کر رہے تھے، بابو ولی احمد صاحب اور ڈاکٹر عقل محمد صاحب باہر بیٹھے اخبار پڑھ رہے تھے۔ بھائی انور کی دکان پر گھڑیاں مرمت کروانے والوں کا رش تھا لوگ الارم والی گھڑیاں ٹھیک کروا رہے تھے، ابا جی نے اپنی دکان کھولی اور محنت مزدوری کرنے لگے، میں سامنے چچا افضل صاحب کے پاس دھوپ میں بیٹھ گیا۔ میری مطلوبہ دونوں چیزوں کی دکان اِس بازار میں نہیں تھیں۔ ظہر کی نماز کے بعد میں ابا جی کے ساتھ ہل بازار میں گیا، ہل بازار میں چہل پہل تھی لیکن ٹریفک کا ہجوم نہ ہونے کی وجہ سے ماحول پر سکون تھا۔ بڑی بیکری کے آگے ایک فورڈ ویگن کھڑی تھی، قاری ارشاد صاحب اور صوفی سید صاحب کے موٹر سائیکل کے علاؤہ بینک منیجر عارف صاحب کی ایک 76 ماڈل کرولا کار کھڑی تھی۔ صوبیدار عارف صاحب، شوکت یوسف صاحب، سوار لالہ اور حاکم شاہ صاحب کی دکان سے لوگ عید کے لیے جوتے پسند کررہے تھے۔

ایک نورانی چہرے والے بزرگ اپنی دکان میں پھل سجائے بیٹھے تھے اور ساتھ دکان کے ایک کونے میں کپڑے بھی سلائی کر رہے تھے۔ یہ ابا جی کے ساتھی اور اجمل لالہ کے والدِ گرامی رحمت چچا تھے، ابا جی اُن سے ملے اور خیر خیریت دریافت کی ابا جی نے ان کو اپنے عید کے کپڑے بھی سلائی کے لیے دئیے ہوئے تھے۔
ایک دکان کے آگے لوہے کی چارپائی پر عید کارڈ اور دیگر اشیاء فروخت ہو رہی تھیں،یہ کرنل امین صاحب کی دکان تھی، بڑا عید کارڈ پانچ روپے کا اور چھوٹا دو روپے کا فروخت ہو رہا تھا، میں نے پانچ چھوٹے عید کارڈ پسند کیے۔ دکان کے اندر کاؤنٹر پر میر افسر چچا بیٹھے تھے ابا جی نے دس روپے انھیں دیتے ہو پوچھا کہ”کیا آپ کے پاس کھلونا پستول اور پٹاخے ہیں؟“
میر افسر چچا نے کہا:” بہت تھے لیکن آج ختم ہوگئے ہیں شاہ صاحب سے پتہ کر لیں اُن کے پاس لازمی ہوں گے“۔
ہم چلتے چلتےحنیف شاہ صاحب کی دکان پر گئے ابا جی نے سلام کیا تو شاہ صاحب نے عینک نیچے کر کے سلام کا جواب دیا اور کہا: ”آج کیسے راستہ بھول گئے؟“۔
ابا جی نے کہا:” میرے بیٹے کو پستول اور پٹاخے دیں“۔ شاہ صاحب کہنے لگے:”یہ آپ کا بیٹا ہے میں آپ کا پوتا سمجھ رہا تھا“۔
ابا جی بولے:”نہیں نہیں یہ میرا بیٹا ہے اور دوسری جماعت کا طالب علم ہے اور اپنی جماعت کا مانیٹر بھی ہے“۔
میں اپنی تعریف سن کر بہت خوش ہوا،باتوں باتوں میں شاہ صاحب نے پستول اور پٹاخوں کا ڈبہ کاؤنٹر پر رکھا،دونوں چیزوں کی قیمت 20 روپے تھی۔ ابا جی شاہ صاحب کو کہنے لگے کہ میرے بیٹے کو ایک عینک بھی دیں عید والے دن پہنے گا۔ شاہ صاحب نے سرخ شیشوں والے پلاسٹک کی ایک عینک نکال کر دی جس کی قیمت پانچ روپے تھی، میں نے عینک پہنی تو مجھے ہر چیز سرخ نظر آنے لگی،ہر طرف سرخی ہی سرخی تھی۔
وہاں سے فارغ ہو کر صوفی سید صاحب کے دکان سے دو لیٹر مٹی کا تیل لے کر واپس دکان پر آگئے، عصر کے وقت ابا جی نے دکان بند کی تو ہم گھر کی طرف چل پڑے، اترائی اتر کر گھر پہنچے، عینک پستول اور پٹاخے میں سنبھال کر رکھ دئیے، افطاری کے بعد میں نے عید کارڈ لکھے جن پر یہ اشعار بھی درج کیے:

چاول چْنتے چْنتے نیند آ گئی
صبح اٹھ کر دیکھا تو عید آ گئی

عید آئی ہے زمانے میں
میرا دوست گر پڑا غسل خانے میں

ڈبے میں ڈبہ، ڈبے میں کیک
میرا دوست لاکھوں میں ایک

گرم گرم روٹی توڑی نہیں جاتی
آپ سے دوستی چھوڑی نہیں جاتی

دوسرے دن میں نے دوستوں کو عید کارڈ دئیے،کسی ایک دوست نے مجھے جواباً عید کارڈ بھی دیا۔
رمضان کا آخری عشرہ شروع ہوا تو عیدکے انتظار کی شدت میں اضافہ ہونے لگا۔ کپڑے، جوتی، جرسی، عینک اور رومال میری کُل شاپنگ تھی، میں ہر رات سونے سے پہلے اپنی عید کی چیزیں دیکھتا اور پھر سو جاتا۔ ستائیسویں شب ہم نے دیسی مرغا ذبح کیا، اماں نے سفید چاول اور سویاں بھی پکائی تھیں، سب نے مل کر دعا کی، رات کو مسجد میں نوافل ادا کرتے رہے، میں نے بھی 50 نفل ادا کیے اب تھوڑی امید لگی کہ عید قریب ہے۔

366187dc fc73 491e aa7a 626e750d1adb
انتظار کی گھڑیاں ختم ہوئیں اور اُنتیس رمضان المبارک کو اعلان ہو گیا کہ عید کا چاند نظر آگیا ہے لہذا کل عید الفطر مذہبی جوش و خروش سے منائی جائے گی۔
اب سفینہ ددھے کپڑے استری کرنی لگی، انھوں نے استری میں کوئلے ڈالے اور ہاتھ والے پنکھے سے کوئلوں کو ہوا دے کر استری گرم کرنے لگی، میں بھی استری گرم کرنے میں ددھے کی مدد کرنے لگا۔ ددھے نے سارے کپڑے استری کر کےلٹکائے، کپڑوں کے ساتھ بنیانیں بھی رکھیں،رومال قمیض کی جیبوں میں ڈالے، جرابیں جوتیوں میں ڈال کر قطار وار سب کے جوتے رکھے۔ ابا جی اور سرور چچا کا چھپری رومال اور قراقلی دیوار پرلٹکائی۔ پھر ددھے مہندی بنانے لگی، گھی کے خالی ڈبے میں چینی پتی ڈال کر اوپر ایک تھالی رکھ اطراف سے گوندھا ہوا آٹا لگا کر بند کرکے ڈبہ آگ پر رکھ دیا، وہ ابل کر عرق بن گیا پھر ددھے نے ماچس کی تیلی کے ساتھ اُس عرق سے اپنے ہاتھوں پر پھول بنائے، میرے ہاتھ پر بھی ایک چھوٹا سا پھول بنایا اور ہم سو گئے۔ صبح اٹھ کر ددھے نے سب سے پہلے ہاتھ دھو کر مہندی کے رنگ کا جائزہ لیا اور پھر مانجھا لے کر گھر کے ارد گرد راستوں کی صفائی کرنے لگی۔
اماں نے سرے اور سفید چاول بنائے تھے۔ جب سب کی عید کی تیاری مکمل ہوئی تو سب نے بیٹھ کر دعا کی، آج ناشتے میں پراٹھوں کی جگہ سرے تھے، دہی کے ساتھ چینی ڈال کر سفید چاول تھے۔ نئے کپڑے،نئے جوتے، نئی جرسی، رتی عینک پہن کر میں بہت خوش تھا مجھے لگتا تھا کہ میں ہواؤں میں ہوں۔ پڑوس میں عید ملنے گئے تو خاتم جان چچی نے بڑی محبت سے ماتھا چوم کر عید کی مبارکباد دی اور دو روپے عیدی بھی دی، یہ میری زندگی کی سب سے پہلی عیدی تھی۔
خوشی خوشی ہم عید کی نماز ادا کرنے تھوراڑ کی طرف چل پڑے، آج میں زندگی میں پہلی مرتبہ عید کی نماز ادا کرنے جارہا تھا۔ نئے کپڑوں نئے جوتوں واسکٹ اورکوٹوں میں ملبوس، کندھوں پر رومال، ہاتھوں میں لاٹھیاں لیے خوشبو میں معطر کلمہ طیبہ کا ورد کرتے ہوئے لوگ عید گاہ کی طرف جا رہے تھے۔
آج لوگ بہت غمزدہ تھے، کچھ لوگوں کی آنکھیں نم تھیں کیونکہ اس مرتبہ ”بڑے مولوی ہور“(مولانا عبد العزیز تھوراڑوی) نہیں تھے وہ اس فانی دنیا کو الوداع کہہ کر اللہ کے حضور پہنچ چکے تھے۔ وہ فطرت کے مقاصد کا نگہبان مرد کوہستانی جو اپنے وعظ سے لوگوں کو ہنساتا اور رلاتا تھا اور لوگ اُس کا وعظ سننے دور دور سے پیدل سفر کر کے آتے تھے آج ہر ایک اُس کے دیدار سے محروم تھا۔ عید گاہ میں لوگ جمع تھے، کالج کے پاس ٹنگ کے درخت کے نیچے ممبر لگا تھا اور پروفیسرمولانا عبدالرزاق صاحب عید کا خطبہ دے رہے تھے، دس منٹ کے لیے مولانا عبد العزیز تھوراڑوی کے بڑے بھائی مولانا عبداللہ صاحب نے بھی وعظ و نصیحت کی تو دلوں کا زخم ایک مرتبہ پھر تازہ ہوگیا اور لوگ رونے لگے آج اُنھیں اپنے وعظ میں طنز و مزاح اور لطائف سنا کر ہنسانے والا کوئی نہیں تھا۔
نمازِ عید کے بعد لوگ ایک دوسرے سے گلے مل کر مبارکباد دینے لگے، کسی کسی پاس کیمرہ بھی تھا لوگ گروپ میں کھڑے ہو کر تصاویر کھینچ رہے تھے۔ لوگ مولانا صاحب سے بھی عید مل رہے تھے، میں بھی ابا جی کے ساتھ ساتھ تھا ابا جی نے بھی مولانا صاحب سے عید مل کر مبارکباد دی۔ پھر لوگ ٹولیوں کی شکل میں رشتہ داروں سے ملنے جانے لگے، ہم بھی رشتہ داروں کے ہاں چل پڑے۔ زردہ چاول پلاؤ چائے بسکٹ سویاں سب کچھ تھا لیکن ہم چھوٹوں کو سب سے زیادہ خوشی عیدی کی رقم ملنے کی تھی، دو دو روپے کافی سارے لوگوں نی عیدی دی، سب سے زیادہ مجھے پانچ پانچ روپے کے دو نئے کڑک نوٹوں کی عیدی ملی، سب ملا کر میرے پاس پینسٹھ روپے عیدی جمع ہوئی، میں نے اُن پیسوں کی کئی مرتبہ گنتی کی میں اسوقت اپنے آپ کو دنیا کا امیر ترین انسان سمجھ رہا تھا۔
یہ میری سُرت سوچ کی پہلی عید تھی وہ عید واقعی عید تھی اب تو عیدیں یوں ہی گزر جاتی ہیں۔

 


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481