اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

  آہ۔امجد اسلام امجد۔۔۔۔  ملک ناصر دائود

8 3

زندگی میں کچھ لمحات بہت قیمتی بن جاتے ہیں جب آپ کسی ہیرو سے مل رہے ہوتے ہیں۔لوگ ان لمحات کو یادگار بنانے کے لئے ان کا آٹو گراف لیتے ہیں یا ان کے ساتھ تصویر کھنچواتے ہیں۔ظاہر سے بات ہے یونہی ان لمحات کو قابو کیا جا سکتا ہے۔میں نے اکادمی ادبیات کے مین ہال میں بچوں کے ادب کے حوالے سے منعقد ہونے والی پہلی کانفرنس میں شرکت کی تو امجد اسلام امجد ،اپنے ہیرو،سے ملاقات کا شرف مِلا۔ان کے بارے میں شاعر اور ادیب سعود عثمانی نے کیا خوب کہا ہے’’امجد اسلام امجد لاہور اور پاکستان کا چہرہ تھے۔ایسا چہرہ جو پوری دنیا میں جانا پہچانا جاتا تھا۔لوگ ان سے محبت کرتے تھے۔اور محبت ان کو صرف ملتی ہی نہیں تھی اوہ اس محبت کو بانٹتے تھے‘‘۔میں بھی ان کے چاہنے والوں میں سے ہوں اور اللہ ہم سب کو یہ توفیق دے کہ ہم محبتیں بانٹیں۔امجد اسلام امجد مجھ سے بڑی شفقت سے ملے۔میں نے ان سے اپنی کتاب پر آٹو گراف لیااور ان کو اپنی ایک کتاب پیش کی۔پھر میں نے ان کے ساتھ ایک فوٹو کھنچوایا جو میرے پاس بطور سند موجود ہے اور میری قیمتی اشیاء میں ہمیشہ شامل رہے گا۔انہوں نے ایبٹ آباد کے کچھ دوستوں کے بارے میں پوچھا اور خیریت دریافت کی۔  کانفرنس میںاپنی باری پر انہوں نے بڑی قیمتی بات کی اور  مادری زبانوں میں بچوں کی ابتدائی تعلیم پر زور دیا۔

امجد اسلام امجد کو ہم نے خوب پڑھا۔ان کے اشعار اور کالمز پڑھنے کا موقعہ ملا۔ ان کو پاکستان ٹیلی ویثرن پر بار بار دیکھا۔ایک ہنستا مسکراتا چہرہ یاد میں ہمیشہ دکھائی دیتا رہے گا۔ اُن کے ڈرامے دیکھے۔ہمارے سکول و کالج کے زمانے میں پاکستان ٹیلی ویثرن ہوا کرتا تھا۔سب فیمیلی ممبرز ساتھ بیٹھ کر ڈرامہ دیکھا کرتے تھے۔اشفاق احمد اور فاطمہ ثریا بجیا کے تحریر کردی ڈرامے دیکھے جاتے تھے۔اسی دوران امجد اسلام امجد کا ٹھریر کردہ وارث ڈرامہ چلا اور ایک نئی تاریخ رقم کر گیا۔اگر اس کو پی ٹی وی کا کامیاب ترین ڈرامہ کہا جائے تو غلط نہ  ہوگا۔دوسرے ممالک میں بھی لوگ اسے دیکھتے۔چین میں اس ڈارمہ کو چینی زبان میں ڈب کیا گیا۔ ایک جاگیردار وڈیرے کی کہانی تھے۔جب اس کی قسط چلتی تو سڑکیں سنسان ہو جایا کرتی تھیں۔امجد اسلام امجد کو اس ڈرامہ نے شہرت کی بلندیوں پر پہنچا دیا۔اس کے بعد انہوں نے ٹی وی کے لیے ڈرامے لکھے جن میں دہلیز،سمندر ،دن،فشار شامل تھے۔انہوں نے فلموں کے سکرپٹ بھی لکھے۔فلم قربانی،حق مہر،نجات،چوروں کی بارات،جو ڈر گیا وہ مر گیا،سلاخین اور امانت انہوں نے لکھی تھیں۔

امجد اسلام امجد بنیادی طور پر شاعر تھے۔ان کے تیس سے زیادہ مجموعہ ہائے کلام موجود ہیں۔ان کی شعری کلیات بھی شائع ہو چکی ہیں۔انہوں نے عالمی شاعری کے تراجم بھی کئے۔ان کی نظم’’محبت  کی ایک نظم‘‘ بہت مقبول ہوئی۔ اُس کا ایک بند دیکھیں:

اگر کبھی میری یاد آئے۔۔۔تو چاند راتوں کی نرم دلگیر روشنی میں۔۔کسی ستارے کو دیکھ لینا۔۔۔اگر وہ نخل فلک سے اُڑ کر۔۔۔تمہارے قدموں میں آ گرے ۔۔۔تو یہ جان لینا وہ استعارہ تھا میرے دل کا‘‘۔

امجد پاکستان کرکٹ ٹیم میں کرکٹ کھیلنا چاہتے تھے مگر قسمت ان کو شاعری کے کوچہ میں لے گئی۔ان کی تحریریں ان کو زندہ و جاوید کر گئیں۔

امجد اسلام امجد ایک معلم تھے۔وہ نصاب تیار کرتے تھے۔انہوں نے ورثا کے ساتھ طلبا ء اور چاہنے والوں کی ایک طویل فہرست چھوڑی ہے جوسب ان کی جدائی میں غم زدہ ہیں۔امجد اسلام امجدنے مر کر ہمیں ایک ساتھ افسوس پر ہی سہئی اکٹھا کر دیا۔ان جیسے لوگوں کو زندہ رہنا چاہئیے جو لوگوں میں محبت بانٹتے ہیں۔ان کی ہمیں ضرورت ہے اور ہمیشہ رہے گی۔

ان کا پیغام دیکھئے:

’’محبت ایسا دریا ہے۔۔کہ بارش روٹھ بھی جائے۔۔تو پانی کم نہیں ہوتا‘‘


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481