اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

کتاب ”کرشن چندر نا کشمیر“

IMG 20221119 181706 435

کرشن چندر نا کشمیر

"کرشن چندر نے کشمیر اور بالخصوص پونچھ کو جس خوبصورتی سے اردو ادب میں متعارف کروایا ہے اس کی دوسری کوئی مثال نہیں ملتی۔ کرشن چندر کا بچپن اور لڑکپن پونچھ میں گزرا جب کہ جوانی کے ایام وادی کشمیر کی محبت میں بِتائے۔ اس محبت نے کرشن چندر سے کشمیر پر بہت کچھ لکھوایا۔ پھولوں کی خوشبو سے کانٹوں کی چبھن،کھیتوں سے بیابانوں تک، بچوں سے بوڑھوں تک، نوکروں سے افسروں تک، لوگوں سے حاکموں تک، روایت سے جدت تک، پھٹی ہوئی ایڑیوں سے مخمل تک اور پچکے ہوئے گالوں سے لب و رخسار تک، غرض کہ کشمیر کے سماج کا شاید ہی کوئی ایسا پہلو ہو گا جو کرشن کی نظروں سے اوجھل رہا ہو۔ کرشن چندر کشمیر کی مٹی اور اس کے باسیوں کا وہ ترجمان ہے جسے قدرت نے ہمیں تحفے کی صورت میں بخشا ہے۔ قدرت کی اگر مہربانی نہ ہوتی تو اردو فکشن کے باب میں پونچھ کا کوئی قابل ذکر تذکرہ نہ ہوتا ۔
کرشن چندر کشمیر کی وہ زبان ہے جس پر اردو ادب کو ناز ہے۔گو کہ کرشن چندر کشمیر سے باہر پیدا ہوا لیکن اس کی تحریروں سے یہی بات کھل کر سامنے آتی ہے کہ کرشن کشمیر کا بیٹا ہے۔ اس نے کشمیر کو بہت قریب سے دیکھا، بہت خوبصورت آنکھ سے دیکھا اور اس سے زیادہ خوبصورتی سے بیان کیا۔ کرشن کا کینوس بہت وسیع ہے ہر ایسا جذبہ، سوچ اور خیال جسے اس نے کشمیریوں کی آنکھوں سے چغلی کھاتے ہوئے پکڑا، ہر وہ منظر جس کا وہ اسیر ہوا، اسے اپنے بیان کی لڑی میں کمال مہارت سے پرو دیا البتہ اس کینوس پر تین رنگ غالب ہیں۔کشمیر کا حسن، کشمیر سے اس کی محبت اور ہمارے سماج کے تضادات”

درج بالا الفاظ کتاب ”کرشن چندر نا کشمیر “ کے تعارف میں مترجم نے لکھے ہیں۔ یہ کتاب کرشن چندر کے چند افسانوں کے پہاڑی ترجمے پر مشتمل ہے ۔ اس کے مصنف و مترجم قمر رحیم خان ہیں، جن کا تعلق راولاکوٹ آزاد کشمیر سے ہے۔

مصنف نے کتاب کا انتساب وطن مالوف کی محبت کے اسیر کرشن جی کے نام کیا ہے۔ مصنف و محقق پروفیسر ڈاکٹر صغیر خان نے کتاب کے شروع میں پہاڑی زبان میں”پہاڑی نا تِھند ” کے عنوان سے خوبصورت تبصرہ لکھا ہے۔

اس کتاب میں کرشن چندر کے درج ذیل 12 افسانوں کا پہاڑی میں ترجمہ کیا گیا ہے۔
1۔آتا ہے یاد مجھ کو
2۔کشمیر کو سلام
3۔حسن اور حیوان
4۔ جھیل سے پہلے جھیل کے بعد
5۔پنڈارے
6۔یرقان
7۔ڈھکی کے نیچے
8۔پالکی
9۔ نیا خزانہ
10۔ بالکونی
11۔کالو بھنگی
12۔سڑک کے کنارے

یہ بہت خوش آئند بات ہے کہ اب ہماری ماں بولی پہاڑی پر کافی کام ہو رہا ہے۔ گو کہ اس سے پہلے پہاڑی میں سیرت النبی،  شعری مجموعے ، افسانے، ناول، آخان، لوک گیت، لوک کہانیاں اور طنز و مزاح پر کتابیں منظر عام پر آ چکی ہیں لیکن ترجمے کی طرف یہ پہلا قدم ہے، جس کا سہرا یقیناً قمر رحیم خان کے سر جاتا ہے۔

کتاب 170 صفحات پر مشتمل ہے۔ اس کی قیمت 400 روپے ہے۔ کتاب بذریعہ ڈاک گھر بیٹھے بھیحاصل کی جا سکتی ہے۔  برائے رابطہ واٹس ایپ نمبر پر
03361668119


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481