اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

وزیر اعظم کی ہدایت پر آزاد جموں و کشمیر پولیس میں اصلاحات کا آغاز

Picsart 22 11 05 19 09 50 783 2

آزاد کشمیر حکومت نے ریاست کے امن عامہ اور سیکورٹی مسائل موثر انداز میں حل کرنے کے لیے آزاد جموں و کشمیر پولیس میں اصلاحات کا آغاز کر دیا۔ وزیراعظم سردار تنویر الیاس خان نے پولیس کے مختلف شعبوں کو جدید تقاضوں سے اہم آہنگ کرنے کے لیے اصلاحاتی عمل کی منظوری دیتے ہوئے ہدایت کی ہے کہ سائبر کرائم اور سی آئی اے کے الگ الگ ڈویژن قائم کیے جائیں۔ سی ٹی ڈی، پیٹرولنگ پولیس، ٹورازم پولیس، بم ڈسپوزل، وی آئی پی ایریاز کی سکینگ کے لیے الگ الگ پولیس یونٹ قائم کیے جائیں۔

15پولیس کا الگ ڈائریکٹوریٹ قائم کیا جائے۔ 15پولیس کا دائرہ کار ہر تحصیل تک بڑھایا جائے۔ ضلع میں 15پولیس کا سیٹ اپ ڈی ایس پی لیول کا ہو گا۔ آزاد کشمیر کے تینوں ڈویژنوں میں فرانزک لیب بنائی جائیں، تاکہ کرائم انوسٹی گیشن کو جلد مکمل کیا جاسکے۔آزاد کشمیر کے تمام بڑے شہروں کو سیف سٹی بنایا جائے اور تمام انٹری پوائنٹس کی مانیٹرنگ کی جائے۔ آن لائن ایف آئی آر درج کرنے کا طریقہ وضع کیا جائے۔ غلط ایف آئی آر درج کرنے والے کو ایک سال قید اور 5 لاکھ روپے جرمانہ کی سزا رکھی جائے۔ غلط ایف آئی آر درج کرنے والے کے خلاف سٹیٹ پراسیکیوشن کرے گی۔

وزیراعظم آزاد حکومت ریاست جموں و کشمیر سردار تنویر الیاس خان نے چیف سیکرٹری و سیکرٹری داخلہ اور انسپکٹر جنرل پولیس آزاد کشمیر کو ہدایت کی ہے کہ تمام اضلاع میں ایمرجنسی رسپانس فورس پولیس یونٹ قائم کیے جائیں۔  آزاد کشمیر میں وویمن پولیس کا الگ ڈویژن قائم کیا جائے۔ ویمن پولیس کے امور و انتظام کے لیے علیحدہ ڈی آئی جی اور ایڈیشنل انسپکٹر جنرل پولیس ہو گا۔ آزادکشمیر کے تینوں ڈویژنز میں خاتون ڈی ایس پی آفیسرز کو تعینات کیا جائے۔ وزیراعظم آزاد کشمیر نے ہدایت کی کہ فارنرز سیکیورٹی کا مکمل ڈویژن بنایا جائے جس کا سربراہ ڈی آئی جی رینک کا آفیسر ہو گا۔ فارنرز سیکیورٹی کے لیے ایس ایس جی پولیس پرسنل ہائیر کیے جائیں اور اس میں رفتہ رفتہ پولیس ایس ایس جی/کمانڈوز کی فورس ڈویلپ کی جائے۔

پولیس کے پٹرول، یونیفارم اور خریداری کی مدات کا external Audit کروایا جائے۔ پولیس ملازمین کی پروفیشنل ٹریننگ کا باقاعدہ کیلنڈر جاری کیا جائے۔ پولیس ملازمین کے لیے سکالر شپس رکھے جائیں۔ انہوں نے ہدایت کی ٹریفک چالان کی رقم کا 2% ٹریفک چالان کرنے والے کو دینے کا incentive ختم کیا جائے اور اس کے مبدل کوئی دیگر incentive تجویز کیا جائے۔وزیراعظم نے کہاکہ ریاستی سیکورٹی اور امن عامہ کے حوالہ سے آزاد جموں وکشمیر پولیس کا کردار کلیدی ہے۔ کافی عرصہ سے عصری تقاضوں کے مطابق اس میں ریفارمز نہ ہونے کی بناء پر آزاد کشمیر پولیس کو انتظامی اور پولیس سروسز کی فراہمی کے حوالہ سے مسائل کا سامنا ہے۔ اس تناظر میں آزاد کشمیر پولیس کے مختلف شعبہ جات کو عصری تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کے لیے بذیل اصلاحات عمل میں لائے جانے کی منظوری دی گئی ہے۔

آزاد کشمیر کے ہر ڈویژن کے پولیس امور کے لیے ایک الگ ڈی آئی جی ہو گا۔

محکمہ پولیس اور تھانہ جات کو درکار ٹرانسپورٹ ضرورت کے مطابق دی جائے۔

اضلاع کے ایس پیز کو 5 ڈور گاڑیاں دی جائیں۔

ایڈیشنل انسپکٹر جنرل اوپریشن اور ایڈیشنل انسپکٹر جنرل ہیڈ کوارٹر کی آسامیاں پیدا کی جائیں۔

6 بڑے اضلاع میں وومن پولیس اسٹیشن قائم کیے جائیں۔ ہر تھانہ کا انتظام و انصرام ایس پی کے عہدے کی خاتون افسر دیکھے گی۔

بڑھتے ہوئے ٹریفک کے مسائل کے باعث مظفرآباد میں ڈی آئی جی ٹریفک اور ایڈیشنل آئی جی ٹریفک کی اسامیاں تخلیق کی جائیں۔ ہرضلع میں ٹریفک کے امور کے لیے ایس پی اور ڈی ایس پی ٹریفک کی اسامیاں تخلیق کی جائیں۔

پٹرولنگ پولیس قائم کی جائے تاکہ سڑکوں پر گشت کا عمل موثر بنایا جا سکے۔ پٹرول پولیس میں گاڑیاں چیک کرنے کے لیے موبائل اور سٹیٹک ٹیکنیکل چیکنگ یونٹس قائم کیے جائیں۔

سائبر کرائم ڈویژن کا سربراہ ڈی آئی جی سائبر کرائم سیکیورٹی ہو گا۔ اس کے قیام کے لیے سائبر کرائم پروفیشنل ہائر کیے جائیں تاکہ سائبر سیکیورٹی کے پیچیدہ امور پر پیشہ ورانہ طریقے سے توجہ دی جائے۔

ٹورازم پولیس کا علاحدہ شعبہ قائم کیا جائے۔ جس کا سربراہ ایس پی رینک کا ہو۔ ٹورازم پولیس، ریگولر پولیس سے الگ ہو۔ آزاد کشمیر میں ٹورازم اوپننگ کے باعث ضرورت پوری کرنے کے لیے500 اضافی نفری ہائیر کی جائے۔

بم ڈسپوزل یونٹ، وی آئی پی ایریا کی سکیننگ و مانیٹرنگ کے لیے پولیس کا الگ یونٹ قائم کیا جائے، جو اے آئی جی سیکیورٹی کے ماتحت ہو۔ سیٹ اپ میں ریٹائرڈ آرمی پروفیشنل ہائیر کرنے کا میکانزم رکھا جائے۔ جنہیں ایس ایس پی کے برابر رینک دیا جائے۔

سی ٹی ڈی کا مکمل ڈویژن قائم کیا جائے، جس کا سربراہ سی ٹی ڈی، ڈی آئی جی پولیس ہو گا۔

سی آئی اے پولیس کا علیحدہ ڈویژن تخلیق کیا جائے، جس کا علاحدہ ایس پی اور سربراہ سی آئی اے، ڈی آئی جی ہو گا۔ ہر ڈویژنل ہیڈکوارٹر پر سی آئی اے سیٹ اپ ہو گا، جس کا انچارج سی آئی اے، ڈی ایس پی جبکہ ہر ضلع میں انسپکٹر رینک کا انسپکٹر سی آئی اے سنٹر کا انچارج ہو گا۔

صدر ریاست، وزیراعظم اور دیگر وی وی آئی پی شخصیات کی سیکیورٹی کے امور کے لیے ڈی آئی جی پولیس کا سیٹ اپ تشکیل دیا جائے۔

ایوان ہاء کی سیکیورٹی کے لیے ڈی ایس پی تعینات کیے جائیں۔ چیف سیکیورٹی آفیسرز صدر اور وزیراعظم کی ذاتی سیکیورٹی کے امور انجام دیں گے۔

ٹریفک پولیس، ریسکیو 15پولیس اور ایمرجنسی ریسپانس فورس پولیس کو ایس ڈی ایم اے کے ساتھ synchronise کیا جائے تاکہ ناگہانی آفات و حادثات کو بہتر اندا میں ڈیل کیا جائے۔

وزیراعظم نے یہ بھی ہدایت کی کہ آزاد کشمیر پولیس کے اعلیٰ آفیسران کے ہمراہ طویل عرصہ تک تعینات اہلکاروں کی پوسٹنگ/ ٹرانسفر کی جائے۔


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481