اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

آوارہ اور نشئی طلباء ڈولفن پولیس کے ریڈار پر

آوارہ اور نشئی طلباء ڈولفن پولیس کے ریڈار پر

آوارہ اور نشئی طلباء ڈولفن پولیس کے ریڈار پر

اب تک سینکڑوں طلبہ کو اسکول انتظامیہ کے حوالے کیا جا چکا ہے۔اسلام آباد پولیس کی مہم کامیاب

آوارہ اور نشئی طلباء ڈولفن پولیس کے ریڈار پر

آوارہ اور نشئی طلباء ڈولفن پولیس کے ریڈار پر

اسلام آباد میں اسکول سے چھپ کر آوارہ گردی کرنے یا نشہ کرنے والے بچے ڈولفن پولیس کے ریڈار پر آگئے۔

ڈولفن پولیس کے اہلکار اب تک سینکڑوں بچوں کو پارکوں اور دیگر مقامات سے پکڑ کر متعلقہ اسکول انتظامیہ یا پرنسپل کے حوالے کر چکے ہیں۔

واضح رہے کہ اسلام آباد پولیس کی جانب سے حال ہی میں ایک مہم شروع کی گئی ہے جس کے تحت اسکول سے چھپ کر نشہ کرنے یا آوارہ گردی کرنے والے طلبہ کو پکڑ کر لایا جاتا ہے۔اس حوالے سے اسلام آباد پولیس نے سوشل میڈیا کے ذریعے آگاہی مہم بھی شروع کر رکھی ہے۔

ڈولفن پولیس میں ایک ہزار اہلکار تینوں شفٹوں میں کام کرتے ہیں۔دن کی شفٹ میں کام کرنے والے اہلکاروں کی ایک اضافی ذمہ داری یہ ہے کہ وہ مختلف پارکوں یا ایسے مقامات پر نظر رکھتے ہیں جہاں ممکنہ طور پر تعلیمی اداروں سے چھپ کر آنے والے طلبہ و طالبات پائے جاتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں  راولپنڈی کی حدودمیں 405 غیر قانونی ہاؤسنگ سوسائٹیاں درد سر بن گئیں

اسلام آباد پولیس کے ذرائع کا کہنا ہے کہ منشیات فروشی کی لعنت نےکئی تعلیمی اداروں کو اپنے شکنجے میں جکڑ رکھا ہے۔منشات فروشوں کے بعض منظم گروہ تو کالجز اور یونیورسٹیوں کے اندر تک اپنا نیٹ ورک قائم کیے ہوئے ہیں تا ہم اسکولوں کی حد تک یہ معاملہ زیادہ تر باہر ہی نمٹا دیا جاتا ہے اور خاص طور پر ایسے علاقوں میں جہاں ایک ساتھ کئی تعلیمی ادارے یا اسکول موجود ہیں ان منشیات فروشوں کے کارندے رش کے اوقات میں اپنا کام دکھا جاتے ہیں۔

بچوں کو پکڑنے کا طریقہ کار کیا ہے ؟

ڈولفن پولیس کے اہلکار پارکوں اور تفریحی مقامات سمیت بازاروں اور عوامی مقامات پر موجود ایسے طالب علموں کو اپنے ریڈار پر رکھتے ہیں جو یونیفارم میں وہاں پائے جاتے ہیں۔ڈولفن پولیس عام طور پر موٹر سائیکل پر گشت کرتی ہے تاہم پکڑے جانے والے طالب علموں کو پولیس موبائل میں بٹھا کر متعلقہ اسکول پہنچایا جاتا ہے۔ایس ایس پی آپریشنز کے مطابق ڈولفن پولیس کے اہلکار پکڑے گئے طالب علم کے مکمل کوائف اپنے پاس بھی رکھتے ہیں اور اگر دوسری بار وہی طالب علم پکڑا جائے تو اس کے والدین کو بھی اگاہ کیا جاتا ہے۔پولیس حکام کے مطابق اگرچہ ان طالب علموں کے خلاف آوارہ گردی کی دفعات کے تحت مقدمہ بھی قائم کیا جا سکتا ہے تاہم ان کے تعلیمی کیریئر کو بچانے کے لیے محض تنبیہ سے کام چلایا جاتا ہے۔

اس قسم کی سرگرمیوں میں ملوث طالب علم عام طور پر پہلا اور دوسرا پیریڈ اٹینڈ کر کے اسکول سے غائب ہو جاتے ہیں پھر اور پھر آخری پیریڈ اٹینڈ کر کے گھر چلے جاتے ہیں۔یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ عام طور پر بھاری فیسیں لینے والے اسکولوں کے طلبہ و طالبات اس قسم کی سرگرمیوں میں ملوث پائے گئے ہیں کیونکہ ان تعلیمی اداروں میں بچوں کو ناراض نہ کرنے کی پالیسی اپنائی جاتی ہے تاکہ والدین تک سکول انتظامیہ کی سختی کی شکایت نہ پہنچے اور فیسوں کی وصولی کا سلسلہ بلا تعطل جاری رہے۔


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481