اسلام آباد: پاک فوج کے ترجمان لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا ہے کہ پاکستان کے اندر کہیں بھی دہشتگردی کی گئی تو دہشتگرد اور ان کے سرپرست دنیا کے کسی کونے میں بھی محفوظ نہیں رہیں گے۔
اسلام آباد میں نیوز کانفرنس کرتے ہوئے ڈی جی آئی ایس پی آر نے آپریشن غضب للحق کی تفصیلات بیان کرتے ہوئے کہا کہ افغانستان سے پاکستان کے خلاف دھمکیاں دی جا رہی ہیں کہ کارروائیوں کا جواب ملک کے اندر دہشتگردی سے دیا جائے گا، تاہم پاکستان واضح کرتا ہے کہ کسی بھی شہر میں دہشتگردی کا واقعہ پیش آیا تو اس کا فیصلہ کن اور بھرپور جواب دیا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ مسلح افواج نے مکمل پیشہ ورانہ مہارت کے ساتھ صرف دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا۔ کسی بچے یا خاتون کو نشانہ نہیں بنایا گیا اور سویلین ہلاکتوں سے متعلق افغان طالبان ریجیم کا پروپیگنڈا بے بنیاد اور جھوٹ پر مبنی ہے۔
لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری کا کہنا تھا کہ 21 اور 22 فروری کی شب بارڈر کے قریب فتنہ الخوارج کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا، جس کے بعد طالبان ریجیم کی جانب سے پاک افغان سرحد پر 15 سیکٹرز میں 53 مقامات پر فائرنگ کی گئی۔ انہوں نے بتایا کہ تمام مقامات پر دشمن کے حملوں کو مؤثر انداز میں پسپا کیا گیا۔
ترجمان پاک فوج کے مطابق آپریشن غضب للحق کے دوران طالبان ریجیم کے 274 اہلکار اور خوارج ہلاک جبکہ 400 سے زائد زخمی ہوئے۔ طالبان ریجیم کی 74 سے زائد پوسٹیں مکمل طور پر تباہ کی گئیں اور 18 چوکیاں پاکستان کے قبضے میں ہیں۔ مزید برآں دشمن کے 115 ٹینک اور بکتر بند گاڑیاں بھی تباہ کی گئیں۔
انہوں نے بتایا کہ کارروائیوں میں فتنہ الہندوستان اور فتنہ الخوارج کے 22 ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا جبکہ کابل، پکتیا اور قندھار میں اہداف کو انتہائی درستگی سے ہدف بنایا گیا۔ دہشتگردوں کی پناہ گاہیں اور اسلحہ ڈپو تباہ کیے گئے اور وہ اپنے ساتھیوں کی لاشیں چھوڑ کر فرار ہوگئے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق آپریشن کے دوران پاکستان فوج کے 12 جوان شہید اور 27 زخمی ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ ہماری فضائیہ نے کابل اور قندھار میں اہم عسکری تنصیبات کو نشانہ بنایا۔
لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا کہ پاکستانی قوم گزشتہ رات بنیان مرصوص کی طرح اپنی افواج کے شانہ بشانہ کھڑی رہی اور سوشل میڈیا سمیت ہر سطح پر بھرپور حمایت کا اظہار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ افغان طالبان ریجیم کو فیصلہ کرنا ہوگا کہ وہ دہشتگرد تنظیموں کے ساتھ کھڑے ہیں یا پاکستان کے ساتھ، کیونکہ پاکستان کی چوائس واضح ہے کہ وہ ہر صورت دہشتگردی کے خلاف جنگ جاری رکھے گا۔
