اسلام آباد: پاک افغان سرحد پر افغان طالبان کی جانب سے مبینہ سرحدی خلاف ورزی اور بلااشتعال فائرنگ کے بعد صورتحال کشیدہ ہوگئی، جس پر پاکستانی سیکیورٹی فورسز نے فوری اور مؤثر جوابی کارروائی کی۔
سرکاری بیان کے مطابق افغان جانب سے کے پی کے مختلف سرحدی علاقوں میں فائرنگ کی گئی، جس کے جواب میں سیکیورٹی فورسز نے متعدد مقامات کو نشانہ بنایا۔ حکام کا کہنا ہے کہ جوابی کارروائی میں مخالف ٹھکانوں کو نقصان پہنچا جبکہ کئی چیک پوسٹیں تباہ ہوئیں۔
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق چترال، خیبر، مہمند، کرم اور باجوڑ کے سرحدی سیکٹرز میں بھرپور ردعمل دیا گیا۔ چترال سیکٹر میں ایک چیک پوسٹ کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا گیا ہے جبکہ باجوڑ کے ناوگئی سیکٹر اور تیراہ خیبر سمیت دیگر علاقوں میں بھی کارروائیاں کی گئیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ آرٹلری اور دیگر بھاری ہتھیاروں کا استعمال بھی کیا گیا۔
حکام کے مطابق پاکستانی فورسز سرحدی تحفظ کے لیے مکمل طور پر الرٹ ہیں اور کسی بھی جارحیت کا سخت جواب دینے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔
دوسری جانب وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے بیان میں کہا کہ پاکستان اپنی سرحدوں کے دفاع پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ مشرقی سرحد کی طرح مغربی سرحد پر بھی بھرپور جواب دیا جائے گا، تاہم پاکستان کی ترجیح ہمیشہ بات چیت کے ذریعے مسائل کا حل رہی ہے۔
سرحدی صورتحال کے باعث علاقے میں سیکیورٹی مزید سخت کردی گئی ہے جبکہ حکام حالات پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہیں۔
