26 فروری علامہ مضطر عباسی کا یومِ وِصال ہے ۔ آپ ملکۂ کوہسار مری کی مُمتاز عِلمی شخصِیّت تھے۔ تارِیخِ عالم، مذاہب و ادیان کا تقابلی مُطالعہ، قُران و حدِیث کی روشنی میں اِسلام کی تشریح، زُبانوں کا اِرتقاء، اِن کا باہمی رِشتہ اور عِلمِ مُعاشیات اِن کے پسندِیدہ عُلُوم تھے۔
عالمی زُبان اسپرانتو کی پاکِستان میں تروِیج و ترقّی کے لیے اِن کا بے لوث قائدانہ کِردار کِسی تعارُف کا محتاج نہیں۔ موصُوف پاکِستان کے پہلے اسپرانتو دان، اسپرانتو تنظِیم "پاکیسا” کے بانی اور قُرآن کریم کے (بزُبان اسپرانتو، انگریزی اُردُو) مُترجّم تھے۔ اِن کا اسپرانتو ترجمہ پڑھ کر 90 کے قریب خاندان اِسلام کی طرف مائل ہُوئے۔ اِن کی تحقِیقی اور عِلمی خِدمات کے نتِیجے میں یُونیسکو کے ذیلی اِدارے (UEA) نے اعزازی رُکن مُنتخب کِیا۔
1:- علامہ اِقبال ماڈل میُونسپل پرائمری بوائز سکُول ، مری کے بعد کالج تک کی تعلِیم کے لیے مدرسہ دیوبند(جامع مِلّیہ، بھارت) میں زیرِ تعلِیم رہے ۔
2:- پنجاب یُونِیورسٹی ، عربی آنرز ۔
3:- جامعہ عباسیہ ، ” درسِ نِظامی” ۔
4:- اِسلامی یُونِیورسِٹی ، بہاولپُور ، ایم اے تارِیخِ اِسلام ۔
5:- "اشاعتِ اِسلام” نامی رِسالے میں 20 سالوں تک درسِ قُران و حدِیث لِکھتے رہے ۔
6:- "جدِید یورپی زُبانوں کے عربی ماخذ” کے عُنوان سے آپ کے قِسط وار تحقِیقی مضامِین ، جامعہ حقانیہ ، اکوڑہ خٹک ، کے ماہنامہ ” الحق ” میں 30 سال تک چھپتے رہے ۔
7:- ماہنامہ "الفارُوق” کراچی ، "البلاغ” ، "نُصرت” ، "خُدّام الدِین” ، "الجمیعہ” ، "نُصرت العُلُوم” اور ” المُعارف” جیسے مُتعدّد مُستند تحقِیقی جرائد میں اُن کے مضامِین بِکھرے پڑے ہیں۔
8:- غیر مُسلموں کے دس سوالوں کے جوابات ، ترجمہ قُرآنِ حکِیم ، شرح احادیثِ ، سِیرت الرسُول ، آخری خُطبہ ، ساڑھے نو ہزار الفاظ پر مُشتمِل قُرآنی لُغت کی ترتِیب اوردو درجن سے زائد کُتب و لُغات اُن کے نُمایاں کارنامے ہیں ۔
علامہ موصُوف کے چند اشعار مُلاحِظہ فرمائیں :
رضائے دوست میں دُشمن سے پیار ہےجِِن کو
خُدا رسِیدہ کُچھ ایسے بھی لوگ ھوتے ہیں
وِصالِ دوست سے بڑھ کر، فِراق کے خُوگر
سِتم کشِیدہ کُچھ ایسے بھی لوگ ہوتے ہیں
۔۔۔۔۔
کسی کے چہرے سے ہٹ گیا ہے، نقابِ زُلفِ سیاہ شاید
نظر اُٹھا کے اُفق پہ دیکھو، ہے رات باقی سحر نہیں ہے
وفا کی بستی اُجڑ چُکی ہے، ہوس نے چہرے مسخ دیے ہیں
خدائے عرشِ برِیں سے کہہ دو، زمِیں پہ کوئی بشر نہیں ہے
امجد بٹ ۔۔۔ مری
