زکوٰۃ اور فطرانہ میں کیا فرق ہے؟-اسلام آباد: زکوٰۃ اور صدقہ فطر (فطرانہ) دونوں اہم مالی عبادات ہیں، تاہم شریعت کی رو سے یہ ایک دوسرے سے مختلف ہیں اور ان کے احکام، نصاب اور ادائیگی کے اوقات جداگانہ ہیں۔
علمائے کرام کے مطابق صدقہ فطر ہر اس مسلمان پر لازم ہوتا ہے جو عیدالفطر کے دن یکم شوال کی صبح صادق کے وقت اپنی بنیادی ضروریات سے زائد اتنے مال یا سامان کا مالک ہو جس کی مالیت ساڑھے باون تولہ چاندی کے برابر یا اس سے زیادہ ہو۔ یہ فطرانہ اپنی جانب سے اور زیرِ کفالت نابالغ اولاد کی طرف سے ادا کیا جاتا ہے۔ اس کی ادائیگی کے لیے مال پر سال گزرنا شرط نہیں۔
دوسری جانب زکوٰۃ صرف مالِ نامی پر فرض ہوتی ہے، جس میں سونا، چاندی، نقدی، مالِ تجارت اور چرنے والے مویشی شامل ہیں۔ اگر ان اموال میں سے کسی ایک یا مجموعی طور پر اتنا مال موجود ہو جو نصاب (ساڑھے باون تولہ چاندی کی مالیت) کو پہنچ جائے اور وہ ضروریاتِ زندگی سے زائد ہو تو اس پر زکوٰۃ واجب ہو جاتی ہے۔ زکوٰۃ کی ادائیگی کے لیے شرط ہے کہ مال پر قمری سال مکمل ہو چکا ہو۔
ماہرین کے مطابق زکوٰۃ اور فطرانہ دو الگ عبادات ہیں، اس لیے ایک کی ادائیگی سے دوسری ادا نہیں ہوتی۔ مسلمانوں کو چاہیے کہ دونوں عبادات کے شرعی تقاضوں کو سمجھ کر بروقت ادائیگی یقینی بنائیں۔
